جہلم کی ڈریجنگ میں مسلسل غفلت شعاری

 سال 2014کے قہر انگیز سیلاب نے جہاں بڑے پیمانے پر تباہی لائی وہاں یہ بات بھی منکشف ہوئی کہ اس سیلاب سے اتنے بڑے پیمانے پر تباہی نہیں مچ جاتی اگر انتظامیہ نے سیلابوں جیسی آفات سماوی سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات کئے ہونگے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں کیا گیا تھا جس کی بنا پر اتنی بڑی تباہی ہوئی جس کے اثرات اب بھی موجود ہیں۔ اس سیلاب کے بعد حکومت کو یاد آیا کہ ندی نالوں اورڈل کی کئی کئی دہائیوں سے نہ تو صفائی کی گئی نہ کھدائی اور نہ ہی ڈریجنگ اور یہی وجہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر تباہی مچ گئی۔ اگرچہ ندی نالوں چشموں وغیرہ کی موجودہ حالت زار کیلئے لوگ بھی ذمہ دار ہیں لیکن سرکاری طور پر بھی کسی نے بھی ایسے اقدامات نہیں کئے جس سے ان ندی نالوں اور ڈل کی حالت سدھر جاتی۔ کسی بھی دور حکومت میں یہ کام نہیں کیا جاسکا نتیجے کے طور پرندی نالوں کی تہہ پر ریت دھول مٹی اور کوڑا کرکٹ جمع ہوتا گیا جس سے ان کی گہرائی بتدریج کم ہوتی گئی اور اِن میں پانی سمانے کی مقدار بھی کم ہوتی گئی۔ جب سال 2014کا سیلاب آیا تو یہ سیدھے بستیوں میں گھس گیا اور اس سے جو تباہی ہوئی وہ سب کو معلوم ہے اس کے بعد ریاستی حکومت نے جہلم کی ڈریجنگ کا اعلان کیا اور یہ کام کنٹریکٹ پر دیا گیا۔ جب کچھ عرصہ کے بعد وزیر اعلیٰ بذات خود یہ دیکھنے کیلئے کہ ڈریجنگ کا کام کیسا چل رہا ہے نورباغ بنڈ پر گئیںجہاں انہوں نے دیکھا کہ یہ کام خوش اسلوبی کے ساتھ نہیں ہورہا ہے جس پر انہوں نے اسی وقت یہ کام کسی دوسرے کنٹریکٹر کو سونپنے کے احکامات صادر کئے۔ اس کے بعد یہ امید پیدا ہوگئی تھی کہ یہ کام خوش اسلوبی کے ساتھ جاری رہے گا لیکن ایسا نہیں ہوسکا اور یہ بھی کچھوے کی چال چلتا رہا نتیجہ یہ نکلا کہ وزیر تعلیم الطاف بخاری اس پر برہم ہوگئے اور انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ جہلم کی ڈریجنگ میں سرعت لائی جائے۔ اب متعلقہ حکام نے اس کام میں تیزی لائی ہے یانہیں یہ دیکھنا ابھی باقی ہے تاہم اس دوران محکمہ اری گیشن اینڈ فلڈ کنڑول کی طرف سے جو اعداد و شمار ظاہر کئے گئے وہ انتہائی مایوس کن ہیں۔ ان میں بتایا گیا کہ سرینگر میں جہلم کی ڈریجنگ 7لاکھ معکب میٹروں کے بجائے اب تک 4.44لاکھ معکب میٹر ،بارہمولہ میں 9.16لاکھ معکب میٹروں کے بجائے اب تک 4.46معکب میٹر اور شریف آباد میں 8لاکھ معکب میٹروں کے بجائے اب تک صرف 4.74معکب میٹروں کی ڈریجنگ کی گئی۔ ڈریجنگ کا اتنا کام کیوں باقی ہے اس بارے میں متعلقہ حکام کوئی وضاحت نہیں کرسکے۔ تین برس سے زیادہ مدت گذری ہے جب جہلم کی ڈریجنگ کاکام شروع کیا گیا ہے لیکن اس میں کس قدر غفلت برتی جارہی ہے اس کااندازہ اوپر دئے گئے اعداد وشمار سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ وزیر اعلیٰ بذات خود اس سارے معاملے میں مداخلت کریں جس کے بعد ہی اس کام میں سرعت لائی جاسکتی ہے۔ اگر ڈریجنگ کا کام اطمینان بخش طریقے پرجاری رہے گا تو اس سے بجلی اور پانی کی فراہمی میں بھی بار بار خلل نہیں پڑسکتا ہے جیسا کہ اس وقت ہورہا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں