ڈاکٹر فاروق کے حالیہ بیان پر گیلانی کا ردعمل عمر عبداللہ اور ساگر نے اسے منافقت سے تعبیر کیا

سرینگر/سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بزرگ علیحدگی پسند رہنما و حریت کانفرنس ﴿گ﴾ چیئرمین سید علی گیلانی کے بیان پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ منافقت گیلانی کی نمایاں خاصیت ہے اور جس وقت شیخ محمد عبداللہ کشمیر کے لئے جدوجہد کررہے تھے تو سید علی گیلانی اس وقت انتخابات لڑنے اور جنتا پارٹی کی معاونت کرنے میں مصروف تھے ۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سماجی ویب سائٹ ٹیوٹر پر گیلانی کے اس بیان جس میں انہوں نے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جس پرعمر عبداللہ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ گیلانی نے پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے بیان کہ ’آزادی کشمیر کے لئے آپشن نہیں ہے‘کے ردعمل میں خاموشی کیوں اختیار کی۔انہوں نے کہا کہ جب میرے دادمرحوم شیخ محمد عبداللہ کشمیر کے لئے جدوجہد کررہے تھے/جاری صفحہ نمبر۱۱پر
 تو سید علی گیلانی اس وقت انتخابات لڑنے اور جنتا پارٹی کی معاونت کرنے میں مصروف تھے۔ خیال رہے کہ سید علی گیلانی نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے خودغرض اور اقتدار کے بھوکے عناصر نے ریاستی عوام کی مبنی برحق تحریک کے ہر تاریخی موڑ پر قوم کو دھوکہ دینے میں کبھی شرم محسوس نہیں کی ہے۔ادھروقت نے بار بار یہ بات ثابت کرکے دکھایا ہے کہ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس ہی ریاستی عوام کی حقیقی نمائندہ جماعت ہے اور ہر نازک موڑ پر یہی جماعت اس مظلوم قوم کیلئے نجات دہندہ ثابت ہوئی ہے ، حالیہ ایام میں بھی ریاست کی خصوصی پوزیشن کیخلاف ہورہی سازشوں اور حملوں کیخلاف شیر کشمیر کی اس جماعت نے جو رول نبھایا وہ تاریخ میں سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے نوائے صبح کمپلیکس میں ایک اجلاس کے حاشیئے کے دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ پی ڈی پی سینئر نائب صدر سرتاج مدنی کی طرف سے نیشنل کانفرنس پر لگائے گئے بے بنیاد اور منگڈت الزامات کو مسترد کرتے ہوئے علی محمد ساگر نے کہا کہ اپنی غلطیوں اور سکینڈلوں کو دوسروں کے سر تھوپنا پی ڈی پی کا پرانا شیوا رہاہے۔ قلم دوات والے یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ نیشنل کانفرنس کو صرف اپوزیشن میں ہی اٹانومی یاد آتی ہے، میں ان کو ذہن نشین کرائوں کہ جب اٹانومی کا مسودہ تیار کیا گیا اور اسے ریاست کی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے پاس کروایا گیا اُس وقت نیشنل کانفرنس برسراقتدار تھی ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ایجنسیوں نے پی ڈی پی کی بنیاد ہمارے اٹانومی مطالبہ ہی کو سبوتاژ کرنے کیلئے ڈالی، زرکثیر خرچ کرکے اس جماعت کو کھڑا کیا گیا اور مفتی محمد سعید کے منہ میں ’سیلف رول‘ کا فریبی نعرہ ڈال دیاگیا۔ ساگر نے پی ڈی پی والے مسئلہ کشمیر کے بارے میں اپنے نظریہ اور اس کے ممکنہ حل کی صاف صاف وضاحت عوام کے سامنے کیوں نہیں کرتے؟ قلم دوات جماعت کا داغدار اور کشمیر دشمن ماضی یاد دلاتے ہوئے جنرل سکریٹری نے کہا کہ 1977میں جب شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے نئی دلی سے وعدے کے مطابق 1952کی پوزیشن بحال کرنے کیلئے دبائو ڈالا تو اُس وقت اُن کی حکومت سے بحیثیت ریاستی کانگریس صدر اعتماد واپس لینے والا کوئی اور نہیں بلکہ پی ڈی پی کے مرحوم سرپرست مفتی محمد سعید ہی تھے۔ 1984کے علاوہ منتخبہ حکومتوں کو کس نے گروایا، 1990میںجگموہن کو یہاں لاکر کس نے قتل عام کروایا، یہ سب پی ڈی پی کی موجودہ ٹولی کو یاد رکھنا چاہئے۔ سید علی گیلانی کی طرف سے نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کیخلاف دیئے گئے بیان کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں جنرل سکریٹری نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ جو کچھ ڈاکٹر صاحب نے کہا وہی بیان پاکستان کے وزیر اعظم نے اس سے 3روز قبل دیا، لیکن اس پر گیلانی صاحب نے کوئی ردعمل پیش نہیں کیا۔ پاکستانی وزیر اعظم نے تین روز قبل کہا کہ جموں وکشمیر کیلئے آزادی کوئی آپشن نہیں اور گیلانی صاحب نے لب کشائی نہیں کی ،جب ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے یہی بات کہی تو اچانک گیلانی صاحب نے بیانات جاری کردیئے۔ اگر گیلانی صاحب آج حق بیان کررہے ہیں توپاکستانی وزیرا عظم کے بیان پر حق بیانی کیوں نہیں کی گئی؟یہ دوغلی پالیسی کیوں؟یہ کون سی سیاست ہے؟ تنقید کرنا آسان ہے اور حقیقت کا سامنا کرنا مشکل ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں