ہندوارہ شوٹ آوٹ ، 2جنگجو جاں بحق - زچلڈارہ راجوار میں عسکریت پسندوں اور فورسز کے درمیان شدید تصادم - کپوارہ ، حاجن اور حسن پورہ بیج بہاڑہ میں جنگجو مخالف اوپریشن ،وسیع علاقے کی ناکہ بندی ، فضائیہ کی خدمات

سرینگر/محسن کشمیری /طارق راتھر/جے کے این ایس/یو پی آئی /شام دیر گئے زچلڈارہ راجوار ہندواڑہ میں عسکریت پسندوں نے ناکہ پر بیٹھے پولیس وفورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی اگر چہ جنگجوئوں نے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم وہ گائوں میں پھنس کر رہ گئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں دوعسکریت پسند جاں بحق ہوئے۔ دفاعی ذرائع نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ زچلڈارہ ہندواڑہ میں عسکریت پسندوں اور فورسز کے درمیان تصادم ہوا۔ دفاعی ذرائع نے مزید بتایا کہ2جنگجوئوں کو مار گرایا گیا ہے، تاہم گائوں میں جنگجو مخالف آپریشن جاری ہے۔ زچلڈارہ راجوار ہندواڑہ میں مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد پولیس وفورسز نے ناکہ لگایا اس دوران نماز مغرب کے بعد جونہی عسکریت پسند گائوں میں نمودار ہوئے سیکورٹی فورسز نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا تاہم جدید اسلحہ سے لیس جنگجوئوں نے سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کی ۔ نمائندے کے مطابق سیکورٹی فورسز نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کی جس دوران پورا علاقہ گولیوں کے گن گرج سے لرز اٹھا۔ مقامی ذرائع کے مطابق زچلڈارہ ، راجورہ ہندواڑہ میں فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے جبکہ زور دار دھماکوں کی بھی آواز سنی گئی ۔ معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں جو2عسکریت پسند جاں بحق ہوئے ان کی شناخت طیب سوپوراور عاشق پلہالن پٹن کے بطور ہوئی ہے۔ جب دفاعی ذرائع کے ساتھ رابط قائم کیا تو انہوںنے اس بات کی تصدیق کی کہ زچلڈارہ راجوار ہندواڑہ میں سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ شروع ہوئی ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق ناکہ پر بیٹھے پولیس وفورسز پر فائرنگ کرنے والے 2عسکریت پسند گائوں میں پھنس کررہ گئے ہیں جنہیں مار گرا یا گیا ہے۔دفاعی ذرائع نے /جاری صفحہ نمبر۱۱پر
مزید بتایا کہ امکانی احتجاجی مظاہروں کوٹالنے کیلئے زچلڈارہ ہندواڑہ اور اُس کے ملحقہ علاقوں کو پوری طرح سے سیل کرکے فرار ہونے کے راستوں پر پہرے بٹھا دئے گئے ہیں۔ادھر ایس پی ہندوارہ غلام جیلانی نے بھی اسکی تصدیق کی ، آخری اطلاعات ملنے تک علاقے کا محاصرہ جاری تھا ، اس سے قبل حسن پورہ بجبہاڑہ ،کپواڑہ اور حاجن بانڈی پورہ میں سیکورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ کپو اڑہ میں عسکریت پسندوں کو تلاش کرنے کیلئے فضائیہ کی بھی خدمات حاصل کی گئیں۔ دفاعی ذرائع کے مطابق عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد حاجن اور کپواڑہ میں جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا گیاہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق کپواڑہ میں سرحد عبور کرنے والے عسکریت پسندوں کی بڑے پیمانے پر تلاش شروع کی گئی ہے۔ عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد پولیس وفورسز نے اعلیٰ الصبح حاجن کے میر محلہ گائو ں کو محاصرے میں لے کر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا جس دوران مکینوں کے شناختی کارڈ باریک بینی سے چیک کئے گئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے لوگوں کو گھروں سے باہر نکال کر اُن کی شناختی پریڈ کرائی گئی جس دوران کئی ایک سے پوچھ تاچھ بھی کی گئی ۔ ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز نے کافی دیر تک گائوں کی تلاشی لی جس دوران کوئی قابل اعتراض شے برآمد نہیں ہوئی ۔ دریں اثنا ممکنہ طورپر سرحد عبور کرنے والے عسکریت پسندوں کو تلاش کرنے کیلئے فوج نے سرحدی ضلع کپواڑہ کے مضافاتی علاقوں میں تلاشی آپریشن شروع کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فوج کی بھاری جمعیت نے رانگوار اور لالپورہ کپواڑہ کے پہاڑی علاقوں کو محاصرے میں لے کر تلاشی کارروائی شروع کی اس دوران ہیلی کاپٹروں کے ذریعے جنگلی کی نگرانی کی گئی تاہم عسکریت پسندوں اور فورسز کے درمیان آمنا سامنا نہیں ہوا۔ دفاعی ذرائع کے مطابق شمالی کشمیر کے حاجن اور کپواڑہ میں عسکریت پسندوں کو مار گرانے کیلئے جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق حاجن میں آپریشن کو ختم کیا گیا ہے تاہم سرحدی ضلع کپواڑہ کے جنگل میں تلاشی آپریشن جاری ہے۔ دریں اثنا مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد پولیس وفورسز نے جنوبی کشمیر کے حسن پورہ بجبہاڑہ گائوں کو محاصرے میں لے کر فرار ہونے کے راستوں پر پہرے بٹھا دئے ۔ ذرائع کے مطابق حسن پورہ بجبہاڑہ اور اُس کے ملحقہ علاقوں کو فورسز نے پوری طرح سے سیل کرکے لوگوں کو گھروںمیں ہی رہنے کو تلقین کی ۔ دفاعی ذرئع کے مطابق حسن پورہ بجبہاڑہ میں جنگجو مخالف آپریشن کے دوران گھر گھر تلاشی لی گئی جس دوران مکینوں کے شناختی کارڈ چیک کئے گئے۔ دفاعی ذرائع نے مزید بتایا کہ آس پاس علاقوں میں بھی پہرے بٹھا دئے گئے ہیں تاکہ سماج دشمن عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ تلاشی آپریشن کے دوران جامر نصب کئے گئے جس کی وجہ سے موبائیل فونوں کے ذریعے رشتہ داروں کے ساتھ رابط قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں