خوفناک زلزلے کے دوران قیمتی جانوں کا زیاں میرواعظ کا اظہار رنج وغم ، متاثرین کیساتھ اظہار ہمدردی

سرینگر/حریت کانفرنس کے چیرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے ایران اور عراق میں آئے خوفناک زلزلے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر قیمتی جانوں کے زیاںاورہزاروں افراد کے شدید زخمی ہو جانے پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اپنی اور کشمیری عوام کی جانب سے متاثرین کے ساتھ دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے ۔میرواعظ نے ایرانی اور عراقی عوام کو یقین دلایا کہ قدرتی آزمائش کے ان گھڑیوں میں وہ ان کے ساتھ/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 ہیں۔ میرواعظ نے زخمیوں کی فوری صحتیابی کی اللہ تعالیٰ سے خصوصی دعا کی۔میرواعظ نے الور راجستھان میں ہندو انتہا پسند گائو رکھشکوں کے ہاتھوں ایک نہتے مسلمان عمر خان کی ہلاکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بھارت میں مسلمانوںکو انتہا پسندی کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور آئے روز گائو رکھشک کی آڑ میں نہتے مسلمانوںکو تہہ تیغ کیا جارہا ہے ۔انہوں نے حقوق بشر کے عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہو رہی زیادتیوں اور نا انصافیوںکا سنجیدہ نوٹس لیں اور حکومت ہندوستان پر دبائو ڈالیں کہ وہ مسلمانوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔اس دوران حریت ترجمان نے زچلڈارہ ہندوارہ میں ایک عسکری معرکے کے دوران شہید ہوئے دو عسکری پسندوں شہید عاشق احمد بٹ ساکن پلہالن اور شہید طیب مجید میر ساکن براٹھ کلان سوپور، کو ان کی شہادت پر بھر پور خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی ظلم و جبر سے عبارت پالیسیاں یہاں کے نوجوان نسل کو عسکریت کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کررہی ہے ۔ترجمان نے کہا کہ کشمیری نوجوان نسل کو پشت بہ دیوار کرنے کیلئے بھارت اور اس کے ریاستی حواری جس ڈھٹائی کے ساتھ جبر وتشدد کا بے تحاشہ استعمال کررہے ہیں اس نے بھارت کی نام نہاد جمہوری کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے ۔ترجمان نے کہا کہ کشمیری نوجوان ایک عظیم مقصد کے حصول کیلئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں اور یہ پوری قوم اور قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہدائے کشمیر کے مشن کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے اس مشن اور مقصد کے تئیں بھر پور استقامت اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ترجمان نے کہا کہ شہدائے زچلڈارہ اور دوسرے ہزاروں شہدائے کشمیر کی قربانیوں کی بدولت آج مسئلہ کشمیر کی گونج پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے اور اس دیرینہ تنازعہ کے حل کو اس خطے کے دائمی امن اور استقام کیلئے ناگزیر سمجھا جارہا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں