ہندوارہ معرکے میں جاں بحق نوجوانوں کو گیلانی کا خراج حریت نے عمرعبداللہ کے بیان کی مذمت کی

سرینگر/مین حریت سید علی گیلانی نے ہندواڑہ معرکے میں شہید ہوئے دو نوجوانوں طیب مجید اور عاشق حسین پلہالن کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے یہ سرفروش اپنی قوم کو جبری فوجی قبضے کے آزاد کرانے کے لیے اپنی اٹھتی جوانیوں کوقربان کررہے ہیں۔ گیلانی صاحب نے نوجوانوں کی شہادت کے واقعات پر اپنی گہری تشویش اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک امن پسند قوم پر جنگ مسلط کی گئی ہے اور دنیا خاموش /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
تماشائی بنی اس خون خرابے کو اپنی ذاتی مفادات کی خاطر نظرانداز کررہی ہے۔ گیلانی صاحب نے کہا کہ ہمارے نوجوان اپنا خون دے کر اس تحریک کو سینچ رہے ہیں اور ہم پر یہ ذمہ داری عاید کرتے ہیں کہ ہم ان کے اس مقدس مشن کو پائیہ تکمیل تک پہنچائیں۔حریت کانفرنس نے اپنے ایک بیان میں ریاست جموں کشمیر کے اندر بھارت نواز سیاست دانوں کو استحصالی سیاست سے تائب ہوکر مسئلہ کشمیر کے پائیدار اور پُرامن حل نکالے جانے کے حوالے سے بھارت کے آلۂ کار بننے سے گریز کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی عوام نے بالخصوص 1931÷ئ سے آج تک چھ لاکھ سے زائد انسانی زندگیوں کی شہادتیں، عزت مآب خواتین کی لُٹی عصمتیں اور کھربوں روپے مالیت کی تباہ شدہ جائیدادوں کی صورت میں بیش بہا قربانیاں عیش وعشرت کی زندگی گزارنے والے سیاسی گماشتوں کے خاندانی راج کو دوام بخشنے کے لیے نہیں دی ہیں۔ حریت کانفرنس نے ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی طرف سے حریت چیرمین سید علی گیلانی پر خلاف واقع بے بنیاد الزام تراشی کی ناکام کوشش کرتے ہوئے ان پر رقیق حملے کئے جانے کی شدید ترین الفاظ میںمذمت کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس مکروفریب کی سیاست کاری سے بھری پڑی ہے، جس سے ریاستی عوام بالخصوص یہاں کی نوجوان نسل پوری طرح سے آشنا ہوچکی ہے۔ حریت کانفرنس نے واضح الفاظ میں کہا کہ قائد انقلاب سید علی گیلانی کی زندگی ایک کُھلی کتاب کی صورت میںاُن کے بے داغ کردار کی عکاس ہے۔ حریت کانفرنس نے سبھی بھارت نواز سیاستدانوں کو ریاستی اسمبلی کا پورا ریکارڈ ٹٹولنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سید علی گیلانی کے اُن تمام تقاریر کا بغور مطالعہ کرکے بتائیں کہ انہوں نے ریاست جموں کشمیر کو کبھی بھارت کا حصہ جتلایا ہے۔ حریت نے واضح کردیا کہ مسلم متحدہ محاذ نے آزادی حاصل کرنے کا مہذب اور جمہوری طریقہ سیاست اختیار کرتے ہوئے 1987÷ئ میں ریاستی اسمبلی الیکشن میں شمولیت کی تھی، لیکن بھارت نے ریکارڈ توڑ ووٹ چوری کرکے اس جمہوری طریقہ کار کو ہمیشہ کے لیے تلف کردیا، جس کے لیے نیشنل کانفرنس کو سیاسی غنڈہ گردی عملانے کے لیے اقتدار کے انعام سے نوازا گیا۔ حریت کانفرنس نے سبھی بھارت نواز سیاسی جماعتوں چاہے وہ نیشنل کانفرنس ہو یا پی ڈی پی یا اور کوئی جماعت ہو ان کا دائرہ سیاست صرف اور صرف اقتدار ہے۔ آزادی اُولعزم لوگوں کا ایک مقدس مشن ہوتا ہے، جس کے لیے انہیں اپنی پوری زندگی مصائب وآلام میں گزارنی پڑتی ہے۔ حریت کانفرنس عمر عبداللہ سے پوچھنا چاہتی ہے، پھر اُس آزادی کا کیا ہوا تھا جس کے لیے اُن کے دادا شیخ عبداللہ جیل میں ڈالے گئے تھے اور اُس گیلانی نے آج تک کب بھارت کے سامنے اقتدار کی بھیک مانگی ہے جو اُن دنوں اسمبلی کے فرش پر مسئلہ کشمیر کو اعلاناً متنازعہ قرار دیتا رہا ہے۔ کیا انہوں ﴿گیلانی صاحب﴾ نے آج تک اپنے موقف سے سرمو انحراف کیا ہے؟ گیلانی صاحب اور شیخ عبداللہ میں یہی فرق ہے کہ ایک نے اپنی پوری زندگی قوم کی آزادی کے لیے وقف کررکھی ہے۔ آج بھی نوے سال کی پیرانہ عمری میں قیدوبند کی زندگی گزاررہا ہے اور ایک وہ ہے جس نے محض اپنے خاندانی راج کو قائم دائم رکھنے کے لیے قوم کی عظیم قربانیوں سے شرمناک کھلواڑ کیا ہے اور اِسی بے وفائی کے طفیل ان کی تیسری پیڑی عمر عبداللہ کی صورت میں مسند اقتدار پر براجمان ہوکر قوم کی تقدیر سے مذاق کررہے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں