محبوبہ مفتی نے باغبانی شعبے کی ترقی کو یقینی بنانے پر زور دیا - بنیادی ڈھانچے کو بڑھاوادینے کیلئے اضافی رقومات مختص

جموں/ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ریاستی اقتصادی منظرنامے میں آرٹیکلچر کے رول اور اس تجارت کے ساتھ آبادی کے ایک بڑے حصے کی وابستگی کے تناظر میں/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 اس شعبے کے لئے مختص رقومات میں اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔جموںمیں منعقدہ ایک میٹنگ کے دوران ہارٹیکلچر شعبے میں عملائی جارہی مختلف سکیموں کی عمل آوری کا جائزہ لینے کے دوران وزیر اعلیٰ نے ان اختراعی اقدامات کو اپنانے کی ضرورت اُجاگر کی جو اس صنعت کو ترقی کی بلندیوں تک لے جانے کے لئے لازمی ہے ۔انہوںنے کہا کہ منسلک بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے،اعلیٰ پیداوار دینے والے اقسام متعارف کرنے ، میوہ باغات تک سڑک رابطے پہنچانے ، کولڈ چین کی دستیابی اور اچھی مارکیٹنگ سہولیات بہم کرانا کچھ ایسے شعبے ہیں جن کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ اس صنعت کو اس مقام پہنچایا جاسکے جہاں یہ صحیح معنوں میں قومی سطح کی میوہ ضروریات کو پورا کر سکے۔باغبانی کے وزیر سید بشارت بخاری ، وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب اے درابواور باغبانی کی وزیر مملکت پریا سیٹھی بھی اس میٹنگ میں موجود تھیں۔محبوبہ مفتی نے پرانے باغات کو رفتہ رفتہ اعلیٰ پیداوار دینے والے اقسام اور پودوں سے بدلنے کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکموں کو ایک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے جس کی رو سے کسانوں کو مختلف اقسام کے مراعات دئیے جائیں تاکہ وہ نئے اقسام کے پودے اختیار کرنے کے لئے آمادہ ہوسکیں۔وزیر اعلیٰ نے میوہ باغات کو بڑی شاہراہوں کے ساتھ جوڑنے کی بھی پرزور وکالت کی تاکہ میوہ تیار کرنے کے خرچے میں کمی آسکے ۔ انہوں نے ایم جی نریگا ،ہارٹیکلچر،نبارڈ اور دیگر ایجنسیوں کی سکیموں کو ایک ساتھ جوڑنے پر بھی زور دیا تاکہ کسانوں کو بہتر سڑکیں ، بہتر آبپاشی سہولیات اور معیاری مواد دستیاب کرایا جاسکے ۔وزیر اعلیٰ نے کولد سٹوریج کی ٹرمنل سہولیات قائم کرنے اور وقت پر یہاں کے میوئوں کو ریاست سے باہر لے جانے کے لئے موزون سہولیات بہم رکھنے کی اہمیت کو بھی اُجاگر کیا۔
 محبوبہ مفتی نے ہائی ڈنسٹی ایپل پلانٹیشن ، اخروٹ صنعت اور پچھلے برس شروع کی گئی دیہات مخصوص میوہ سکیموں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔انہوں نے ایپل ائیر مہم کو سیاحتی مہموں کے ساتھ جوڑنے کی بھی ہدایات دیں تاکہ میوہ صنعت کی طرف بھی سیاحوں کو راغب کرایا جاسکے۔میٹنگ میں جانکاری دی گئی ہماری ریاست سالانہ 18لاکھ میٹرک ٹن میوے پیدا کرتی ہے جو قومی سطح کے میوہ پیداوار کا لگ بھگ 70فیصد ہے ۔ علاوہ ازیں اس صنعت کی بدولت 7کروڑ ایام کار پیدا ہوتے ہیں جو اقتصادیات کے کسی بھی سیکٹر میں سب سے زیادہ ہے تاہم میٹنگ میں بتایاگیا کہ اس وقت ریاست میں صرف 90ہزار میٹرک ٹن میوہ محفوظ کرنے کیلئے ہی سی اے سٹور ز کی سہولیات دستیاب ہے ۔میٹنگ میں مزید بتایاگیا کہ کٹھوعہ ، ریاسی اور رام بن اضلاع میں بالترتیب آم ، سنترے اور انار دانہ دیہات قائم کئے گئے ہیں جس پر 10.59کروڑ روپے صرف کئے جارہے ہیں۔میٹنگ میں چیف سیکرٹری بی بی ویاس، پرنسپل سیکرٹری خزانہ نوین کے چودھری، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری روہت کنسل، وائس چیئرمین جے کے ایچ پی ایم سی عبدالسلام ریشی، سیکرٹری باغبانی منظور لون ، ناظم ہارٹیکلچر کشمیر و جموں کے علاوہ کئی دیگر افسران بھی موجود تھے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں