ڈویژنل کمشنر اورعوامی مسائل کاحل

گذشتہ دنوں ڈویثرنل کمشنر اور ڈپٹی کمشنر دونوں افسروں نے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے لوگوں کو درپیش مسایل و مشکلات سے آگاہی حاصل کرلی اور اس بات کا یقین دلایا کہ ان مسایل کو حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاے گی۔ انہوں نے عام لوگوں کے خیالات سے بھی جانکاری حاصل کی اور ان سے بھی مختلف مسایل کے بارے میں تجاویز پیش کی گئیں۔ ڈویژنل کمشنر نے خاص طور پر ٹریفک سے متعلق مسایل کا جائیزہ لیا اور اس بارے میں موقعے پرہی احکامات صادر کئے۔ دونوں افسر وں نے حول چوک یعنی فردوس سنیما کے قریب ٹریفک کے بارے میں موقعے پرہی دیکھا کہ اس چوک میں بار بار ٹریفک جام ہوجاتا ہے تو انہوں نے محکمہ ٹریفک کوفوری طور مستقل ڈیوائیڈرز نصب کرنے کی ہدایت دی۔ مقامی لوگوں نے بھی اس اقدام کو سراہا اور اسکے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ وہاں جو چھاپڑیاں لگائی گئیں ہیں ان سے بھی ٹریفک میں بار بار خلل پڑرہا ہے اس سلسلے میں انہوں نے پولیس اور میونسپلٹی کو ہدایات دیں کہ وہ ان چھاپڑیوں کو ہٹائیں اور اس کے علاوہ جن دکانداروں نے اپنا مال سڑکوں پر بچھا کر فٹ پاتھوں کو نا قابل آمدورفت بنایا ان فٹ پاتھوںپر یہ قبضہ ہٹایا جائے۔ اس موقعے پر وہاں لوگوں نے میونسپل عملے پر الزامات عاید کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو وہاں چھاپڑی لگانے کی اجازت نہیں دے سکتے تھے لیکن نہ معلوم کیوں وہ ایسا نہیں کرتے ہیں۔ بہر حال اب دیکھنا یہ ہے کہ میونسپل حکام کس طرح چھاپڑیوں کیلئے مناسب مقامات ڈھونڈینگے۔ لیکن یہ بات سچ ہے کہ دکاندار اب اپنا مال دکانوں میں کم اور فٹ پاتھوں پر زیادہ رکھتے ہیں۔ اس طرح کے رحجانات کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی ہونی چاہئے۔ اس کے بعد دونوں افسروں نے لال چوک اور آس پاس کے علاقے میں ٹریفک مسایل کا جائیزہ لیا اور بعض غلط مقامات پر پارکنگ کیلئے جاری کئے گئے اجازت نامے واپس لینے کے احکامات صادر کئے۔ اس فیصلے کی ہر خاص و عام نے سراہنا کی کیونکہ گذشتہ دنوں لالچوک اور مولانا آزاد روڈ پر کئی ایسے مقامات کی نشاندہی کرکے وہاں سڑکوں پر کار پارکنگ لاٹ قایم کئے گئے جو کسی بھی طور مناسب قرار نہیں دئے جاسکتے تھے لیکن اب انہوں نے ان مقامات پر گاڑیاں پارک کرنے کی اجازت نہ دے کر لوگوں کو بہت بڑے ذہنی عذاب سے نجات دلائی۔ جہاں تک ٹریفک نظام کا تعلق ہے تو گوجوارہ چوک میں بھی ڈیوائیڈرز نصب کئے جانے چاہئے جبکہ راجوری کدل اور بہوری کدل میں بھی اسی طرح کے اقدام سے ٹریفک جام پر قابو پایا جاسکتا ہے اسی طرح شہر کے دوسرے مقامات پر بھی ٹریفک جام کی صورتحال پر قابو پانے کیلئے صوبائی کمشنر کو کاروائی کی جانی چاہئے۔ جہاں کہیں سے بھی ٹریفک جام کی شکایت آتی ہوگی وہاں اگر ڈیوائیڈر نصب کرنے میں کوئی اڑچن پیش آتی ہو تو وہاں ٹریفک پولیس کو تعینا ت کیاجاناچاہئے۔ کیونکہ ٹریفک کا مسئلہ اہل وادی کیلئے سب سے سنگین مسئلہ بن کر ابھر رہا ہے کیونکہ گذشتہ دنوںبڈشاہ چوک میں ٹریفک جام کی وجہ سے ایک ایسی ایمبو لنس بر وقت ہسپتال نہیں پہنچ سکی جس میں ایک علیل بچہ تھا اور آخر کا ر وہ اسی وجہ سے ایمبولنس میں دم توڑ بیٹھا جس پر ڈرائیور نے ایمبولنس واپس موڑدی۔ اگر ٹریفک جام نہیں ہوتا تو ہوسکتا ہے کہ یہ بچہ ہسپتال پہنچ پاتا جہاں اسے بر وقت طبی امداد بہم پہنچائی جاسکتی تھی ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں