اسمبلی میں دوسرے روز بھی ہنگامہ آرائی اور شورشرابہ

شہری ہلاکتوں اور وادی میں بجلی کی فراہمی میں مسلسل خلل پر بحث کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن سراپااحتجاج - مسئلہ کشمیر حل کئے بغیراگر گیلانی کو بھی وزیراعظم بنایاجائے گا تو بھی ریاست میں امن قائم نہیں ہوسکتا :انجینئر رشید
جموں/کشمیر نیوز سروس /بجٹ اجلاس کے دوسرے روز ہنگامہ آرائی ،نعرے بازی اورشورشرابے کے بیچ اپوزیشن ممبران نے اسمبلی میں شہری ہلاکتوں اورکشمیرمیں بجلی کی عدم دستیابی پر بحث کی اجازت نہ ملنے ایوان کی چاہ میں احتجاج کیا،اوراسپیکرکویندرگپتاکی جانب سے بحث کی اجازت نہ ملنے پرحزب اختلاف کے ممبران نے ایوان سے احتجاجاًواک آئوٹ کیا۔اس دوران بھاجپاکے ایک ممبراسمبلی نے بھی اُنکے حلقہ انتخاب کونظراندازکئے جانے پرواک آوٹ کیا۔پارلیمانی امورکے وزیرعبدالرحیم/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 راتھراورڈپٹی اسپیکر نذیر گریزی کی اپیل نیزممبراسمبلی محمدیوسف تاریگامی کی صلح صفائی کے باوجوداپوزیشن ممبران ایوان میں واپس نہیں آئے ۔بعدازاں پارلیمانی امورکے وزیرنے اپوزیشن پرایوان کاقیمتی وقت ضائع کرنے کاالزام لگاتے ہوئے کہاکہ حزب مخالف کے ممبران کے پاس کوئی ایشونہیں ،اسی لئے وہ شورشرابہ کرکے کارروائی میں رخنہ ڈال رہے ہیں ۔واک آوٹ سے پہلے اپوزیشن لیڈرعلی محمدساگراورمحمدیوسف تاریگامی نے سوال کیاکہ اس ایوان میں عوامی جان ومال اورلازمی سہولیات سے متعلق مسائل ومعاملات کی بات نہ کی جائے توپھرمنتخب عوامی نمائندے کہاں عوام کی نمائندگی کریں ۔اُدھرعوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے اسمبلی میں اپوزیشن نیشنل کانفرنس کو وادی میں سرکاری فورسز کے ہاتھوں ہورہی ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مگرمچھ کے آنسو نہ بہانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس،وقت وقت پر قاتلوں کا دفاع کرتی اور کشمیر کاز کو زک پہنچاتی رہی ہیں۔ انجینئر رشید نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر اگرخود سید علی شاہ گیلانی کوبھی وزیر اعظم بنایا جائے، اور سید صلاح الدین سے لیکر یٰسین ملک تک کو انکی کابینہ میں شامل کیا جائے،تشدد کو روکا جاسکتا ہے اور نہ ہی امن کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔اسمبلی کا اجلاس منگل کی طرح ہی ہنگامہ آرائی سے شروع ہوا ۔ حزب اختلاف کے ممبران نے کشمیرمیں سال2017کے دوران ہوئی شہری ہلاکتوں اوروادی میں رواں موسم سرماکے دوران بجلی سمیت دیگرلازمی سہولیات کی عدم دستیابی پر تحاریک التوائ پیش کرکے بحث کی مانگ کی لیکن۔ اسپیکرکویندرگپتا نے علی محمدساگراورمحمدیوسف تاریگامی کی جانب سے پیش کردہ تحاریک التوائ یہ کہہ کر انکار کیا کہ گورنر این این ووہرا نے اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے اپنے خطاب میں شہری ہلاکتوں پر حکومت کی طرف سے وضاحت کی ہے۔ اپوزیشن ممبران اسپیکر کے بیان سے مطمئن نہیں ہوئے اور انہوں نے نعرے بازی شروع کردی ۔ کچھ اپوزیشن ممبران نے ایوان کی چاہ میں پہنچ کر اسپیکر کے سامنے جاکر زوردار احتجاج کیا ۔احتجاج کے دوران تلخ کلامی کے بیچ اپوزیشن ممبران اسمبلی نے شہری ہلاکتوں پربحث کے اپنے مطالبے کو واپس لینے سے انکار کیا تو اسپیکر نے مجبور ہوکر شہری ہلاکتوں پر ایک گھنٹے طویل بحث پر رضامندی ظاہر کی ۔ اسپیکر کی جانب سے شہری ہلاکتوں پر بحث پر رضامندی ظاہرکرنے کے بعد بھی حزب اختلاف ک ممبران مطمئن نہیں ہوئے اور انہوں نے گورنر کے خطبے کی شکریہ کی تحریک پر بحث کو التوائ میں رکھ کر فوری طور شہری ہلاکتوں پر بحث کا مطالبہ کیا ۔ اسپیکر نے اپوزیشن کے شہری ہلاکتوں پر بحث کے مطالبے سے اتفاق نہیں کیا اور اپوزیشن ممبران نے اپنا احتجاج جاری رکھا اور جب اسپیکر نے گورنر کے خطبے پر شکریہ کی تحریک پر حزب اقتدار کے ممبران کو بولنے کی اجازت دی تو اپوزیشن ممبران نے ایوان سے واک آئوٹ کیا ۔اس دوران اپوزیشن لیڈرعلی محمدساگراورمحمدیوسف تاریگامی نے سوال کیاکہ اس ایوان میں عوامی جان ومال اورلازمی سہولیات سے متعلق مسائل ومعاملات کی بات نہ کی جائے توپھرمنتخب عوامی نمائندے کہاں عوام کی نمائندگی کریں ۔ کچھ منٹ بعد سی پی آئی ایم سیکریٹری محمد یوسف تاریگامی ہائوس میں لوٹ آئے اور پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمان ویری سے مطالبہ کیا کہ وہ ذاتی طور اپوزیشن ممبران کو ہائوس میں واپس آنے کیلئے آمادہ کریں ۔ سی پی آئی ایم سیکریٹری محمد یوسف تاریگامی کے مطالبے پر وزیر برائے پارلیمانی امور عبدالرحمان ویری نے اپوزیشن ممبران سے ملاقات کرکے ان کو ہائوس میں واپس آنے کی صلاح دی ۔ اپوزیشن ممبران نے وزیر برائے پارلیمانی امور عبدالرحمان ویری سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کیلئے وقت مانگا اور اس دوران حزب اقتدار کے ممبران نے گورنر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث جاری رکھی ۔ اُدھرمحمدیوسف تاریگامی نے وادی میں بجلی بحران کی صورتحال سے تحریک التوائ پیش کرتے ہوئے بحث کی مانگ کی لیکن اس مانگ کوبھی اسپیکرنے نامنظورکردیا،جس پرتاریگامی نے بھی واک آئوٹ کیا۔اس دوران بھاجپاکے ایک ممبراسمبلی سکھندن کمار نے بھی اُنکے حلقہ انتخاب کونظراندازکئے جانے پرواک آوٹ کیا۔اُدھرعوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے اسمبلی میں اپوزیشن نیشنل کانفرنس کو وادی میں سرکاری فورسز کے ہاتھوں ہورہی ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مگرمچھ کے آنسو نہ بہانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس،وقت وقت پر قاتلوں کا دفاع کرتی اور کشمیر کاز کو زک پہنچاتی رہی ہیں۔ بدھ کی صبح جونہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی انجینئر رشید نے سرکاری ملازمین کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی لگائے جانے اور کئی دیگراہم معاملات اٹھائے اور سرکار سے وضاحت طلب کی۔انجینئر رشید احتجاج کرتے ہوئے ویل میں آگئے اور انہوں نے ایوان میں موجود وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ انگریزی سے لیکر ہندی زبانوں میں ٹویٹ کرسکتی ہیں تو پھر سرکاری ملازمین کیلئے کیونکر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگائی گئی ہے اور انکا حق اظہار رائے کیوں انسے چھین لیا گیا ہے۔ انجینئر رشید نے انہیں اپنے دور اقتدار کے ریکارڈ کو مد نظر رکھتے ہوئے واویلا کرنے میں شرم محسوس کرنے کیلئے کہا۔ انہوںنے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے ممبران کو اپنی کرتوت کو یاد کرکے شرم محسوس کرنی چاہیئے اور انہیں مگر مچھ کے آنسو بہاکر لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیئے۔نیشنل کانفرنس کے ممبران نے تاہم طیش میں آکر انجینئر رشید کے ساتھ بدکلامی کی ۔ممبر اسمبلی لنگیٹ نے تاہم دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کا ریکارڈ زیادہ مختلف نہیں ہے بلکہ دونوں ہی جماعتوں نے وقت وقت پر شراکت دار کا کردار نبھایا ہے اور قاتلوں کا دفاع کرکے کشمیر کاز کو زک پہنچایا ہے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ نیشنل کانفرنس نے اپنے دور اقتدار میں وہی سب کیا ہے کہ جو کچھ آض پی ڈی پی کر رہی ہے لہٰذا انسانی حقوق کی پامالیوں پر اس پارٹی کا واویلا خلوص اور نیک نیتی پر مبنی نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔ انجینئر رشید نے یہ بات دہرائی کہ انسانی جانوں کے اتلاف کو روکنے اور لوگوں کو امن کی زندگی گذارنے کا واحد راستہ لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف میں لوگوں کو حق خود ارادیت دیکر مسئلہ کشمیر کو حل کروانے کا ہے۔اپنی تقریر میں انجینئر رشید نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر اگرخود سید علی شاہ گیلانی کوبھی وزیر اعظم بنایا جائے، اور سید صلاح الدین سے لیکر یٰسین ملک تک کو انکی کابینہ میں شامل کیا جائے،تشدد کو روکا جاسکتا ہے اور نہ ہی امن کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں تب تک خون خرابا جاری رہے گا کہ جب تک نہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے لوگوں کو حق خود ارادیت دیا جائے۔نیشنل کانفرنس اور پی ڈٰ پی سے ایک دوسرے پر الزامات لگانے اور طعنہ زنی کرنے سے اجتناب کرنے کی اپیل کرتے ہوئے ممبر اسمبلی لنگیٹ نے کہا کہ دونوں جماعتوں کو نئی دلی کے سامنے اپنی اوقات سمجھ لینی چاہیئے اور اگر وہ واقعہ لوگوں کیلئے فکر مند ہیں اور انکی خواہشات کا کچھ خیال رکھتے ہیں تو پھر انہیں وزیر اعظم مودی کو صاف صاف کہہ دینا چاہیئے کہ تنازعہ کشمیر کو حل کئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں