ماسٹر پلان 2015-35پرعمل آوری اور عوامی رائے عامہ

 تعمیر و ترقی کے حوالے سے طویل اور قلیل مدتی منصوبے ترتیب دیئے جاتے ہیں۔ اسی طرح ریاستی حکومت نے بھی شہر سرینگر کیلئے ایک طویل مدتی تعمیراتی منصوبہ ترتیب دیا ہے جو سال 2015سے لے کر سال 2035پر محیط ہے۔ یعنی یہ منصوبہ بیس برسوں کیلئے بنایا گیا ہے اور اسے سرینگر ماسٹر پلان کا نام دیا گیا ہے جس کی رو سے شہر سرینگر کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ اس کی خوبصورتی کو بھی بڑھانا ہے۔ ماسٹر پلان میں سڑکوں کی کشادگی، بجلی اور پانی کی بلاخلل فراہمی، معقول ڈرینیج نظام، شہر خاص میں معقول پارکنگ کا انتظام، صحت و صفائی اور شہر کو گنجانیت سے نجات دلانے کیلئے اقدامات شامل ہیں۔ اس مقصد کیلئے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس سے اپنی رپورٹ بھی پیش کی ہے اور جس پر سرکاری افسروں کے درمیان متعدد مرتبہ تبادلہ خیال بھی ہوچکا ہے۔ لیکن ابھی تک اسے عام لوگوں کیلئے مشتہر نہیں کیاجاسکا ہے اور نہ ہی اس پر عام لوگوں کی رائے معلوم کی جاسکی ہے۔ ان حالات میں ا س ماسٹر پلان کی عمل آوری کے بارے میں خدشات کا اظہارکیاجارہا ہے۔ ماسٹر پلان کے تحت سب سے پہلے سڑکوں کی کشادگی کو ترجیح دی جائے گی یعنی ابتدا میں ہی انہدامی کاروائی شروع کی جائے گی۔ اس بارے میں ایک مقامی خبر رساں ایجنسی نے سرکاری ذرایع کے حوالے سے بتایا کہ نیو سیکریٹریٹ کو کسی بھی صورت میں اپنی جگہ سے نہیں منتقل کیا جائے گا۔ جبکہ ماسٹر پلان میں سول سیکریٹریٹ سمیت متعدد سرکاری عمارتوں کو شہر سے باہر لے جانے کی تجویز پیش کی گئی ہے اور اس پر گذشتہ روز سرکاری ذرایع نے بتایا کہ سیکریٹریٹ کو کسی بھی صورت میں شہر سے باہر نہیں لے جایا جاسکتا ہے۔ یعنی سرکاری طور پر ہی سب سے پہلے ماسٹر پلان کی عمل آوری پر اعتراضات اٹھائے جانے لگے ہیں۔ اسی طرح عام لوگوں میں بھی اس کے بارے میں مختلف خدشات کا اظہار کیاجانے لگا ہے ۔ ماسٹر پلان کی عمل آوری کے بارے میں عام لوگوں کو جب تک اعتماد میں نہیں لیا جائے گا تب تک اسے کسی بھی صورت میں عملایا نہیں جانا چاہئے کیونکہ اگر ایسا کیاگیا تو اس کی عمل آوری میں اڑچنیں پیدا ہوسکتی ہیں اور ایسا بھی ہوگا کہ معاملات کورٹ کچہری تک بھی پہنچ سکتے ہیں اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ماسٹر پلان کی عمل آوری سے قبل عام لوگوں سے بھی اس بارے میں رائے لی جائے تاکہ بعد میں اس کی عمل آوری میں کوئی اڑچن پیدا نہ ہوجائے۔ شہر میں اس وقت بہت سے مسایل ہیں اور کل ہی ڈویثرنل کمشنر نے معززین شہر کے ساتھ مختلف مسایل پر تبادلہ خیال کیا اور ان کو اس بات کا یقین دلایا گیا کہ شہر میں تعمیر و ترقی کے حوالے سے بہت جلد اقدامات اٹھائے جارہے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے ایسا ہر قدم اٹھانے سے پہلے عوامی نمایندوں اور معززین شہر کو پوری طرح سے اعتماد میں کیوں نہیں لیا جا رہا ہے اور ان کی آرا کو کیونکر قابل اعتنا نہیں سمجھا جارہا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں