قانون سازیہ اور عوامی مسائل

ریاستی اسمبلی کا بجٹ اجلاس جاری ہے اور پہلے دنوںکی کاروائی کا مشاہدہ کرنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ابھی تک ایوان میں کوئی ڈھنگ کی کاروائی نہیں ہوسکی ہے۔ کیونکہ اپوزیشن نے شہری ہلاکتوں، بجلی اور پانی کی عدم فراہمی، اشیائے ضروریہ کی مہنگائی، بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ، شہر خاص میں بار بار کی بندشیں وغیرہ جیسے مسائل اٹھاتے ہوئے ایوان میں زبردست احتجاج کیا اور واک آوٹ کیا۔ جمہوری طرز نظام میں ہر ایک کو اپنی بات کہنے اور جائیز مطالبات اور مسائل کو ابھارنے کا بھی حق ہے۔ اپوزیشن ممبروں نے جو کچھ کیا یاوہ جو کچھ کررہے ہیں اس کا ان کو حق ہے لیکن اس سے حکومت سے جواب طلبی میں تاخیر ہورہی ہے۔ وادی یا بالفاظ دیگر ریاست میں جو کچھ بھی ہورہا ہے اس پر ریاستی حکومت سے پوچھنا ضروری ہوتا ہے کہ ایسا کیا اور کیوں ہورہا ہے ؟ لیکن جب ایوان میں احتجاج کرنے کے بعد واک آوٹ کیاجائے تو پھر حکومت سے کون متذکرہ معاملات پر وضاحت کرنے کیلئے کہے گا۔ اپوزیشن کی طرف سے ایوان میں جو کچھ کیا جارہا ہے وہ اپنی جگہ صحیح ہے کیونکہ اپوزیشن کو اس کا حق ہے کہ وہ احتجاج کرے لیکن اس کے بعد واک آوٹ کرنے سے حکومت جواب طلبی سے بچ جاتی ہے۔ ورنہ ریاستی حکومت ہر معاملے کی وضاحت کرنے کی پابند ہوتی ہے اور اسے اپنے طور پر ہر اس سوال کا جواب دینا ہوتا ہے جو اپوزیشن کی طرف سے پوچھا جائے گا۔ ایوان میں دونوں کا رول انتہائی اہم ہے۔ ریاست میں کیا ہورہا ہے اور لوگوں کو کن مسائل و مشکلات کا سامنا ہے اگر ان معاملات کو اپوزیشن کی طرف سے ایوان میں نہیں اٹھایا جائے گا تو پھر یہ اپوزیشن بیکار ہے اور اگر حکومت بھی اپوزیشن کی طرف سے اٹھائے جانے والے معاملات پر جواب دینے میں آنا کانی کریگی تو حکومت بھی بیکار ہے اسلئے اس ایوان کے وقار کو برقرار رکھنا فریقین کیلئے لازمی ہے۔ لیکن یہ تب ہی ہوسکتا ہے جب ایوان میں امن و سکون قایم کیاجائے اور مسائل و مشکلات کو اٹھایا جائے۔ ورنہ اسمبلی کا کیا مطلب۔ جمہوری طرز نظام میں یہ بات لازم ہے کہ عوامی مسائل کو حل کیاجائے لیکن اگر حکومت کے سامنے مسلئے اٹھائے نہیں جاینگے اور صرف شور شرابہ اور واک آوٹ کیاجائے تو پھر حکومت بھی جوابدہی کے جھنجھٹ سے بچ جائے گی اسلئے اپوزیشن کو جو کچھ بھی کرنا ہوگا اس کیلئے لائحہ عمل مرتب کیاجانا چاہئے۔ اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک نے جمہوری طرز حکومت کو ہی اپنا یا ہے یہ اسلئے کیونکہ اس طرز حکومت میں حکومت عوام کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے اور حکومت کی تشکیل بھی لوگوں کے ووٹوں سے ہوتی ہے اسلئے یہاں بھی اپوزیشن کو اس بارے میں مثبت طرز عمل اختیار کرکے عوامی مسائل کو اٹھا کر حکومت سے ان مسائل کا حل تلاش کرنے کیلئے دبائو ڈالنا چاہئے ورنہ ووٹر یہی سوچینگے کہ جن اراکین اسمبلی کو انہوں نے اپنے نمایندے بنا کر بھیجا ہے وہ ان کیلئے کچھ نہیں کررہے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں