پلوامہ کے شخص نے اپنے خون کا 154واں عطیہ پیش کیا ،نوجوانوں کو خون دینے کی تلقین کی

سرینگر/ /اے پی آئی/ خون انسان کے پاس قیمتی سرمایہ ہے جسے کسی کی زندگی بچائی جاسکتی ہے، پچھلے کئی برسوں سے نوجوان نسل خون کا عطیہ دینے کے لیے آگے آرہے ہیں انہی میں سے ایک معروف سوشل ورکر غمگین مجید ناربلی جو ضلع پلوامہ سے تعلق رکھتا ہے نے آج تک اپنے جسم سے 154پوئنٹ خون عطیے کے طور پر دیا ۔ انسان کے پاس سب سے قیمتی سرمایہ اسکا خون ہوتا ہے جو کسی دوسرے انسان کی زندگی بچانے کے لیے پیش کیا جاسکتاہے۔ خون زندگی کی علامت ہے۔یہ وہ واحد چیز ہے جو بنایا نہیں جا سکتا ہے بلکہ عطیہ کے طور پر دیا جاسکتا ہے۔ وادی کشمیر میں پچھلے کئی برسوں سے ایسے افراد سامنے آرہے ہیں جو اپنی رگوں سے خون نکال دوسروں کی زندگی بچانے کے لیے عطیہ کے طور پر پیش کرتے ہیںجسے ایک عظیم قربانی سے تعبیر کیا جانا چاہیے۔ تفصیلات کے مطابق غمگین مجید ناربلی ایک ایسے ہی سوشل ورکر ہے جو جنوبی ضلع پلوامہ کے پنگلگام سنگو ناربل علاقے سے تعلق رکھتے ہیں نے آج تک اپنے جسم سے 154پوئنٹ خون عطیے کے طور پر دیا۔عوامی حلقوں نے غمگین مجید کو ایک بہترین سوشل ورکر قرار یتے ہوئے کہا کہ اسطرح انسانی جانوں کو بچانے کے لیے خون کا عطیہ پیش کرنا خدمت خلق کا بہترین ذریعہ ہے۔ نمائندے تنہا ایاز کے مطابق وادی میں شاید ایسے افراد بہت کم ہے جو دوسروں کی خاطر اپنے آپ کو وقف رکھتے ہے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ ایسے افراد کی بڑے پیمانے پر حوصلہ افزائی ہونی چاہیے جو دوسروں کی زندگی بچانے کے لیے اپنا قیمتی خون عطیے کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔کیونکہ خون بیش قیمتی قدرتی سرمایہ ہے جو انسان کی رگوں میں دوڑ کر اسکی حیات کا سبب ہے۔ کسی بینک سے نہیں آتا ۔لہٰذا عوام کا مطالبہ ہے کہ ایسے افراد کی عزت افزائی ہونی چاہیے تاکہ سماج کے ہر فردمیں جذبہ پیدا ہو جائے کہ وہ بھی رضاکارانہ طور پر خون کا عطیہ دینے کے لیے آگے آئیں ۔ نمائندے کے ساتھ کئی افراد نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد کا آگے آنا اور خون کاعطیہ دینا ایک خوش آ ئیند قدم ہے اور ایسے افراد کی عزت افزائی ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی ان لوگوں نے سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے افراد کی بڑے پیمانے پر عزت افزائی کریںجو خون کا عطیہ دے کر دوسروں کی زندگی بچانے کے لیے اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں