بے روزگاری کے خاتمے اور اقتصادی حالت بدلنے کیلئے مالی امداد ناگزیر- مرکز کی طرف سے ریاست میں تعمیر و ترقی ،سرکاری نوکریوں اور عوام کی مشکلات کو دور کرنے کیلئے اعلانات کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت

سرینگر/جے کے این ایس/بیان بازیوں کے بدلے کشمیر کے لوگوں کی حالت بدلانے کیلئے بڑے اقتصادی پیکیج کی ضرورت ہے تاکہ ریاست خاصکر وادی کے لوگ باعزت طور پر اپنی زندگی بسر کرکے نہ صرف اپنی بہتر صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں بلکہ آنے والے چیلنجوں کا بھی سامنا کر سکیں ۔ بیان بازیوں،وعدوں اور یقین دہانیوں نے کشمیر کے عوام کو حکومتوں سے بدظن کر دیا ہے اور بار بار کی وعدہ خلافی نے لوگوں کو جمہوری اداروں پر سے بھروسہ بھی ختم کر دیا ہے ۔ کشمیر کے بارے میں ریاستی و مرکزی حکمرانوں کی جانب سے بار بار تعمیر و ترقی سرکاری نوکریوں اور عوام کے مشکلات کو دور کرنے کیلئے بیان بازیوں کو اگر مدنظر رکھا جائے تو صرف پچھلے 15 برسوں سے مرکزی حکومت ریاست کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے امداد کا اعلان کیا ہے اور یہ آمدانی رقم پلاننگ کمیشن کی جانب سے ریاست کو اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے علاہ ہے اور پلاننگ کمیشن کی طرف سے ہر سال ایک سو کروڑ روپے کا اضافہ کر دیا جا تا ہے تاہم اس کے باوجود دریاست جموں و کشمیر مالی اعتبار سے ملک کی دوسری ریاستوں کے مقابلے میں بہت پیچھے ہے اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ حکومت سرکاری ملازمین کے بقایا جات ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور نہ صرف حکومت سرکاری ملازمین کو ٹال مٹول کر رہی ہے بلکہ اپنے مطالبات کو منوانے کیلئے سرکاری ملازمین سڑکوں پر پولیس کے ہاتھوں پٹ جا تی ہے اور ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ سرکاری ملازمین کو اپنے مطالبات کی بات کرنے پر گرفتار بھی کیا جا رہا ہے حالانکہ وہ کوئی بھیک یا خیرات سرکار سے طلب نہیں کرتے ہیں بلکہ جو کچھ مرکزی حکومت کے ملازمین کومراعات ملتی ہیں اور چھٹے پے کمیشن نے جو سفارشات کی ہیں ان پر عمل درآمد کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ ریاست کی حکومت نے اسمبلی میں برملا اس بات کا اعلان کیا کہ سرکار ی دفتروں میں 54 ہزار سے زیادہ اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں اور انہیں ُپر کرنے کے اقدامات اٹھا ئے جائینگے تاہم اگرریاستی حکومت حالت میں ہوتی کہ وہ 60 ہزار کے قریب خالی پڑی اسامیوں کو پُر کرنے کیلئے اقدامات اٹھا سکتی ۔ تو پہلے وہ سرکاری ملازمین کے بقایا جات ہی ادا کر تی اور سرکاری ملازمین کو سڑکوں پر نہ آنا پڑتا ۔ حکومتوں کی جانب سے پچھلے 63  برسوں سے ریاست خاصکر وادی کے لوگوں کو یہ یقین دہانیاں دی گئیں کہ اقتصادی حالت بہتر بنانے کو اولین ترجیع دی جا ئیگی جب جب بھی مرکزی حکومتوں نے اقتصادی پیکیجوں کا اعلان کیا اور 70% رقومات مرکزی اسکیموں اور منصوبوں پر خرچ کی گئیں ۔ 5سے 10%سٹیٹ سیکٹر پر خرچ ہوا جبکہ 20 سے 30 رقومات ہمیشہ لیپس ہوگئی اور یہ طریقہ کار پچھلے 6 دہائیوں سے چلا آرہا ہے اور دوسری جانب پلاننگ کمیشن سے جتنی بھی رقومات منظور کی جا تی ہیں ان پر پہلے سود کی رقم ادا کرنی پڑتی ہے اور اس طرح ریاست کو ایک طرف امداد دی جا تی ہے اور دوسری جانب مرکزی حکومت اسی رقم کو دوسرے ہاتھ سے واپس لے لیتی ہے ۔ آٹے میں نمک کے برابر پیسے ملنے کی وجہ سے ریاست کی ضرورتیں پورا نہیں ہو پا رہی ہیں یہاں تک ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے پر سرکار کو جموں کشمیر بینک کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑتا ہے اور اس لون پر جتنا سود ادا کرنا پڑتا ہے اسے ہر سال ریاست میں 2 ہزار تعلیم یافتہ نوجوانوں کو سرکاری نوکریاں فراہم کی جا سکتی ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں