حوالہ نیٹ ورک اور فنڈنگ طریقہ کار کی تحقیقات مکمل 7حریت رہنمائوں اور ایک کشمیری تاجر کیخلاف جمعہ کو دہلی کی عدالت میں چارج شیٹ داخل کی جارہی ہے

سرینگر/کے این ایس/ حوالہ نیٹ ورک اورفنڈنگ طریقہ کارکی تحقیقات مکمل کرنے کے بعدقومی تفتیشی ایجنسی ’این آئی اے ‘کی جانب سے’’7کشمیری لیڈروں کیخلاف 12جنوری کوچارج شیٹ عدالت میں داخل ہونے کاامکان ‘‘ہے ۔ این آئی اے ذرائع نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاہے کہ چارج شیٹ داخل کرنے سے پہلے استغاثہ کیلئے مرکزی وزارت داخلہ کی منظوری لی جارہی ہے ۔اس دوران تفتیشی ایجنسی نے دعویٰ کیاہے کہ ملزمان کیخلاف الزامات ثابت کرنے کیلئے اُسکے پاس مضبوط دستاویزی وفارنسک ثبوت اوراہم گواہوں کے بیانات بھی ہیں ۔ کشمیروادی میں مختلف نوعیت کی علیحدگی پسندانہ سرگرمیوں کیلئے مبینہ طورپرحوالہ نیٹ ورک اوردیگرطریقوں سے رقومات حاصل کرنے کی پاداش میں/جاری صفحہ نمبر۱۱پر
 لگ بھگ 6ماہ قبل گرفتارکئے گئے7کشمیری مزاحمتی لیڈروں اورایک معروف کشمیری تاجرکیخلاف تفتیشی وتحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے اپنی تحقیقات اورضبط شدہ دستاویزات کی جانچ پڑتال مکمل کرلی ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ماہ جون وجولائی 2017میں مختلف چھاپوں کے دوران مزاحمتی لیڈروں اوردیگرمشتبہ افرادکے گھروں ودیگرمقامات سے ضبط شدہ دستاویزات کی جانچ پڑتال اورباریک بینی سے تحقیقات کیلئے تفتیشی ایجنسی نے مرکزی وزارت خزانہ کے ماہرین کی خدمات حاصل کیں ،اورلگ بھگ7ماہ کی جانچ پڑتال اورتحقیقات کے بعدان ماہرین نے حوالہ نیٹ ورک اورفنڈنگ طریقہ کارکی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی،جس دوران این آئی اے افسروں اوروزارت خزانہ کے ماہرین نے ملکر آرپارتجارت سے متعلق لین دین ،بیرون ممالک سے مختلف طریقوں سے کروڑوں روپے کی رقومات سے جڑی ہزاروں دستاویزات کی چھان بین کی ۔این آئی اے کے ذرائع نے بتایاہے کہ اسکی ایک ٹیم اوروزارت خزانہ کے ماہرین نے رات دن کام کرنے کے بعد جانچ پڑتال اورتحقیقات مکمل کرلی ،اوراب گرفتارکشمیری لیڈروں کیخلاف عدالت میں چارج شیت داخل کرنے کے لوازمات پورے کئے جارہے ہیں ۔میڈیارپورٹس میںاین آئی اے ذرائع کاحوالہ دیتے ہوئے بتایاگیاہے کہ چارج شیٹ داخل کرنے سے پہلے استغاثہ کیلئے مرکزی وزارت داخلہ کی منظوری لی جارہی ہے،اوراس کیلئے وزارت داخلہ سے رجوع کیاگیاہے ۔ اس دوران تفتیشی ایجنسی نے دعویٰ کیاہے کہ ملزمان کیخلاف الزامات ثابت کرنے کیلئے اُسکے پاس مضبوط دستاویزی وفارنسک ثبوت اوراہم گواہوں کے بیانات بھی ہیں ۔اس دوران معلوم ہواکہ حوالہ فنڈنگ کی پاداش میں 6ماہ قبل گرفتارکئے گئے7کشمیری لیڈروں بشمول نعیم احمدخان ،الطاف احمدشاہ ،پیرسیف اللہ ،ایازاکبر،معراج الدین کلوال،شاہدالاسلام اورفاروق ڈارعرف بٹہ کراٹے کے علاوہ معروف تاجرظہوروٹالی ،جنوبی کشمیرکے نوجوان فوٹوجرنلسٹ کامران یوسف اورجاویداحمدکوماہ جنوری 2018کی 12تاریخ کوپٹیالہ ہائوس کورٹ نئی دہلی کی عدالت میں کیس کی سماعت کے سلسلے میں پیش کیاجائیگا،اوراسی دوران این آئی اے اُن کیخلاف ممکنہ طورپرعدالت میں چارج شیٹ داخل کرے گی ۔خیال رہے یہ سبھی کشمیری لیڈر،تاجراورفوٹوجرنلسٹ گزشتہ کئی کئی مہینوں سے نئی دہلی کے تہاڑجیل میں ایام اسیری کاٹ رہے ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں