حکومت جنگجوئوں کی ہلاکت پر فخر نہ کرے دنیشور شرما کا مشن کیا ہے اسکی وضاحت کی جائے: عمر عبداللہ

جموں/یو این آئی / نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر عمر عبداللہ نے وادی کشمیر میں امن وامان کی خراب صورتحال کے لئے ریاست کی موجودہ پی ڈی پی ، بی جے پی مخلوط حکومت کو براہ راست ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ فخر کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ’ہم نے سال 2017 میں 200 سے زیادہ جنگجو مارے‘۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے والد مرحوم مفتی/جاری صفحہ نمبر۱۱پر
 محمد سعید کی قیادت والی پی ڈی پی کانگریس دور حکومت میں اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے موجودحکومت پر ہر محاذ پر ناکام ہونے کا الزام عائد کردیا۔ عمر عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار منگل کو یہاں قانون ساز اسمبلی میں گورنر این این ووہرا کے خطبے سے متعلق شکریہ کی تحریک پر ہوئی بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کشمیر میں نوجوانوں کے عسکریت پسندی کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان کے لئے حکومت کو ذمہ ٹھہراتے ہوئے محترمہ مفتی سے مخاطب ہوکر کہا ’آپ نے ایک بار مجھ سے کہا کہ برہان وانی ﴿ حزب المجاہدین کمانڈر﴾ کو پیدا کرنے میں میرا رول رہا ہے۔ آپ نے کہا، تو ٹھیک ہے۔ کبھی آپ نے سوچا کہ ان ڈیڑھ برسوں کے دوران آپ نے کتنے برہان وانی پیدا کئے۔ مجھ پر اگر ایک کا الزام ہے تو آپ پر کتنوں کا الزام ہے۔ آپ کو کبھی اس کا احساس ہوا ہے۔ آپ کو اس کا احساس ہونا چاہیے‘۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ حکومت کی طرف سے فخر کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ’ہم نے سال 2017 میں 200 سے زیادہ جنگجو مارے‘۔ انہوں نے کہا ’یہاں ان باتوں پر دعوے کئے جاتے ہیں جن پر ہمیں افسوس ہونا چاہیے۔ ہم نے 200 سے زیادہ جنگجو مارے۔ جب کوئی جنگجو بنا تب ہی آپ کو اسے مارنے کی مجبوری پڑی۔ یہ آپ کے ہی حکومت میں ہی جنگجو بنے ہیں۔ آپ کی حکومت میں زیادہ جنگجو اس لئے مارے گئے کیونکہ اس حکومت میں زیادہ جنگجو بنے۔ ان نوجوانوں نے بغیر کسی ٹریننگ کے ہاتھوں میں ہتھیار لئے ہیں۔ کل کی ہی خبر ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک اسکالر نے حزب المجاہدین جوائن کرلی ہے۔ کشمیری نوجوان فدائین حملے کرنے لگے۔ ایسا تو سننے میں نہیں آتا تھا۔ فدائیں افغانستان اور پاکستان سے آتے تھے، لیکن اب کشمیری جنگجو بھی فدائین حملے کررہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا ’پولیس سربراہ کہتے ہیں کہ اچھا ہوا کہ ہم نے 200 سے زیادہ جنگجو مارے۔ پی ڈی پی کے ترجمان اعلیٰ کہتے ہیں کہ اگر ہم ان کی موت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہیں تو کوئی بری بات نہیں ہے۔ ایک ﴿مرکز﴾ کو خوش کرنے کے لئے مارتا ہے اور دوسرا ﴿کشمیریوں﴾ کو خوش کرنے کے لئے ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔ پہلے پیلٹ گن سے مارتے ہو اور پھر نوکریوں کے آڈر تھما دیتے ہو۔ یہ اس حکومت کی اصلیت ہے۔ سالوں سال کے بعد سیکورٹی فورسز کو آئی ای ڈی دھماکے کا نشانہ بنایا گیا۔ ہم تقریباً بھول ہی گئے تھے کہ آئی ای ڈی کیا چیز ہے۔ دیہات میں کریک ڈاونوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ لوگوں کو برا نہیں لگے اس لئے اسے کارڈن اینڈ سرچ آپریشن کا نام دیتے ہیں۔ جن چیزوں کو لوگ بھول گئے تھے، ان چیزوں کو دوبارہ زندہ کیا جارہا ہے‘۔ مسٹر عبداللہ نے کہا کہ اننت ناگ پارلیمانی حلقے کے ضمنی انتخابات ملتوی کرکے ریاست حکومت نے علیحدگی پسندوں کے سامنے سرینڈر کردیا ہے۔ انہوں نے کہا ’آپ ﴿محبوبہ مفتی﴾ نے ریکارڈ اگر بنایا ہے تو غلط چیزوں کے لئے بنایا ہے۔ پہلی مرتبہ حکومت سے پارلیمنٹ انتخابات نہ کرائے جاسکے۔ یہ 1996 کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ جب ہمیں حریت کانفرنس اور دوسری طاقتوں کے سامنے سر جکانا پڑا جو ہمیشہ سے الیکشن کے خلاف رہے ہیں۔ یہ طاقتیں کبھی الیکشن کے حق میں نہیں رہی ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ جب حکومت نے ہاتھ اوپر کرکے سرینڈر کیا۔ اس طرح سے ان کی جیت ہوئی۔ آپ کس منہ سے کہہ رہے ہو کہ حالات اب بہتر ہورہے ہیں۔ آپ کے بی جے پی کے ساتھی مجبوراً چپ ہیں۔ اگر کسی دوسرے حکومت میں یہاں الیکشن ملتوی ہوئے ہوتے تو آپ نے اس حکومت کے پورے ملک میں پتلے نذر آتش کئے ہوتے۔
 چونکہ یہ آپ کی اور نااہلی کا ثبوت ہے، اس لئے آپ خاموش ہیں‘۔ انہوں نے کہا ’آپ جب 2017 کے حالات کا ذکر کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ بہتری آئی ہے۔ جب اس کا آپ 2016 سے موازنہ کریں گے تو بہتری نظر آئے گی۔ آپ اس کو 2011، 2012 اور 2013 سے موازنہ کیجئے، پھر حقیقت سامنے آئے گی‘۔ عمر عبداللہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے گذشتہ 15 اگست ﴿یوم آزادی﴾ کے خطاب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ’15 اگست کو وزیر اعظم نے لال قلعہ سے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ گولی یا گالی سے نہیں بلکہ کشمیریوں کو گلے لگانے سے حل ہوگا۔ ہم نے سوچا کہ اس سے ایک نئی شروعات ہوگی۔ ہم انتظار کرتے گئے لیکن اس شروعات کی اب تک ایک کرن بھی نظر نہیں آئی ہے۔ پھر اچانک مرکز سے اعلان ہوا کہ مرکز کی طرف سے کشمیر کے لئے ایک نمائندہ نامزد کیا گیا ہے۔ نامزدگی کا اعلان کیا ہوا کہ الجھن ہی الجھن پیدا ہوئی۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے ہیں کہ دنیشور شرما صاحب کا درجہ کیا ہے۔ اس کو کبھی مذاکرتکار تو کبھی مرکز کے خصوصی نمائندے کا نام دیا گیا۔ مرکز میں کوئی کہتا ہے کہ آئین کے دائرے میں سبھی سے بات ہوگی تو کوئی کہتا ہے کہ علیحدگی پسندوں سے بات نہیں ہوگی، آپ کا کہنا ہے کہ سب سے بات ہوگی۔ ہوم منسٹر صاحب خود کہتے ہیں کہ دنیشور شرما خود فیصلہ کریں گے کہ انہیں کس سے بات کرنی ہے‘۔ نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ دنیشور شرما کا مشن بے سمت ثابت ہورہا ہے کیونکہ بقول ان کے وہ بجلی اور پینے کے پانی کی فراہمی کے مسئلے حل کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا ’وہ اپنی مرضی کے کہاں مالک ہیں۔ وہ یہ فیصلہ کیسے کریں گے کہ انہیں سید علی گیلانی صاحب، میرواعظ صاحب اور یاسین ملک سے بات کرنی ہے یا نہیں۔ ان کو تو اجازت ملنی چاہیے نا۔ ان کو حاصل منڈیٹ واضح ہونا چاہیے نا۔ لوگوں کا اس عمل میں اب بھروسہ ہی نہیں رہا ہے۔ کچھ ہماری غلطیاں اور کچھ ہمیں وراثت میں ملی ہے۔ جو ہمیں وراثت میں ملا، اگر آپ کو اس کو درست نہیں کریں گے اور اس میں مزید ایک باب کا اضافہ کریں گے تو کیا فائدہ ہے۔ یہ کلیئر کرئیں کہ دنیشور شرما صاحب کا مشن کیا ہے۔ دنیشور شرما کا کام بجلی ٹرانسفارمر ٹھیک کرانا اور پینے کے پانی کی سپلائی فراہم کرنا نہیں ہے۔ ان کی ذمہ داری الگ ہے۔ مہربانی کرکے ان سے کہئے وہ صرف ان لوگوں سے ملیں جن سے بڑے بڑے مسئلے حل ہوسکتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ موجودحکومت ہر محاذ پر ناکام ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ریاست ہر لحاظ سے پیچھے چلی جارہی ہے۔ تین سال ہوگئے ہیں حکومت کو۔ تین سال کا عرصہ ایک معنی رکھتا ہے۔ مفتی محمد سعید صاحب تین سال کے لئے ہی ریاست کے وزیر اعلیٰ بنے تھے۔ اگر انہوں نے بھی آپ کی ہی طرح تین سال گھنوائے ہوتے تو ان کے پاس دکھانے کے لئے کچھ نہیں ہوتا۔ اس وقت آپ نے بہت چیزوں پر اپنی مہر لگائی۔ ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن بے شک انہوں نے کچھ اچھے کام کئے۔ لوگوں نے اس کا کریڈٹ آپ کو دیا۔ سری نگر سے مظفرآباد تک بس چلی۔ مغل روڑ کی تعمیر کے کام میں تیزی لائی۔ آج بھی لوگ مغل روڑ کا کریڈٹ مفتی صاحب کو دیتے ہیں۔ راجوری اور اونتی پور میں یونیورسٹیوں کی تعمیر۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ ان تین برسوں کے دوران کچھ کام تو ہوا۔ جس کو آپ نے لوگوں میں فروخت کیا۔ مفتی صاحب کے دوران حکومت میں رمضان المبارک کے دوران گیس ٹربائن چلایا گیا۔ صبح شام بجلی کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔ آج بھی وہ گیس ٹربائن ہے، لیکن آپ چلاتے نہیں۔ آج آپ کے دلوں میں لوگوں کے لئے وہ ہمدردی نہیں ہے۔ ہمیں کچھ بھی نظر نہیں آرہا کہ ہم یہ کہہ سکیں کہ آپ نے اپنے تین سال لوگوں کی بہتری کے لئے استعمال کئے‘۔ یو این آئی

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں