وادی میں بجلی بحران اسمبلی میں چھایارہا

فوج اور فورسز کیمپوں میں 24گھنٹے بجلی تو عام لوگوں کی قسمت میں اندھیرا کیوں؟ اپوزیشن کے الزامات- بانڈی پورہ میں پاکستانی ترانہ گانے پر کھلاڑیوں کی گرفتاری پر انجینئر رشید کا احتجاج
 مارشلوں کے ذریعہ ایوان سے باہر نکالے گئے
جموں/کے این ایس/قانون سازاسمبلی میں بجلی بحران کی گونج کے بیچ حزب اختلاف اورحزب اقتدارکے کئی ممبران نے الزام لگایاکہ سرکاراہل وادی اورلداخ کے عوام کوراحت پہنچانے میں ناکام رہی ۔کانگریس کے نوانگ ریگزن جورانے سوالیہ اندازمیں کہاکہ جب سرکارکے پاس فوجی اورفورسزکیمپوں کیلئے بجلی دستیاب ہے توعام لوگوں کی قسمت میں اندھیرا کیوں لکھاگیاہے ۔یائوردلاورمیر اوردیگی کئی ممبران اسمبلی نے بھی بجلی کی عدم دستیابی پرایوان میں سخت احتجاج کیا۔نائب وزیراعلیٰ نرمل سنگھ کی یقین دہانی کہ رواں سال بجلی کی صورتحال میں بہتری لائی /جاری صفحہ نمبر۱۱پر
جائیگی ،پرمطمئن پرنہ ہوکراپوزیشن ارکان نے ایوان سے واک آئوٹ کیا۔اس دوران انجینئررشیدنے کرناہ اورگریزکیلئے ٹنلوں کی تعمیرکامطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ اگرسرکارایسانہیں کرسکتی توسرحدی علاقوں کے لوگوں کوسرحدپارجانے دیاجائے ۔بانڈی پورہ میں کچھ کھلاڑیوں کی گرفتاری پرشورشرابہ کرنے کے بعدانجینئررشید کوایوان سے مارشل آئوٹ کردیاگیا۔ کئی روزکی چھٹی کے بعدمنگل کی صبح جب قانون سازاسمبلی میں بجٹ اجلاس کے تحت کارروائی شروع ہوئی تونیشنل کانفرنس ،کانگریس اوردیگرکئی اپوزیشن ممبران کیساتھ ساتھ حکمران اتحادسے وابستہ کچھ ممبران اسمبلی نے ایوان میں عوامی ضروریات اوربنیادی سہولیات سے جڑے مسائل اورمشکلات اُٹھائے جبکہ ممبراسمبلی انجینئررشیدنے پاکستانی ترانہ گانے کی پاداش میں بانڈی پورہ میں کچھ نوجوان کھلاڑیوں کوگرفتارکرنے کامعاملہ بھی ایوان میں اُٹھایا۔کشمیروادی میں بجلی کی عدم فراہمی اوراضافی کٹوتی کامعاملہ ایوان میں اُٹھاتے ہوئے ممبراسمبلی رفیع آبادیائوردلاورمیر نے کہاکہ اُن کے حلقہ انتخاب کے لوگ بجلی سپلائی سے محروم ہیں ۔انہوں نے کہاکہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے اسمبلی حلقہ رفیع آبادکے لوگوں کوشدیدسردی کے ان ایام میں سخت مشکلات کاسامناکرناپڑتاہے ۔انہوں نے کہاکہ بجلی کی عدم دستیابی کیساتھ ساتھ اُن کے اسمبلی حلقے کے بیشتردیہات پینے کے صاف پانی سے بھی محروم ہیں ،جس وجہ سے عام لوگوں بالخصوص خواتین کوسخت پریشانی کاسامناکرناپڑرہاہے ۔انہوںنے کہاکہ رفیع آبادکے لوگ بجلی اورپانی کی عدم دستیابی کامعاملہ متعلقہ انجینئروں کی نوٹس میں بارہالاچکے ہیں لیکن اسکے باوجوددنوں لازمی سہولیات وضروریات کی فراہمی کوبہترنہیں بنایاگیاہے ۔ممبراسمبلی یائوردلاورمیرنے بجلی اورپانی کی سپلائی میں بہتری لانے کیلئے رائج مختلف اسکیموں کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ کوئی بھی اسکیم اسمبلی حلقہ رفیع آبادکے لوگوں کوراحت نہیں پہنچاسکی ہے ۔اس دوران کانگریس کے ممبراسمبلی نوانگ ریگزن جورانے بھی لداخ خطے میں بجلی کی عدم دستیابی کامعاملہ ایوان میں اُٹھایا۔انہوں نے کہاکہ عام صارفین بجلی نہ ہونے کی وجہ سے سخت مشکلات جھیل رہے ہیں لیکن اُنھیں کوئی راحت پہنچانے والانہیں۔نوانگ ریگزن جوراکاکہناتھاکہ فوجی اورفورسزکیمپوں کوچوبیسوں گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے اوروہاں چاروں اطراف روشنی ہی روشنی نظرآتی ہے لیکن عام لوگوں کے گھروں میں تاریکی رہتی ہے کیونکہ حکومت عام صارفین کے گھروں میں بجلی دستیاب رکھنے کی جانب کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔اپوزیشن کے دیگرکئی اراکین بشمول دویندرسنگھ رانا،عبدالمجیدلارمی ،اشفاق جبار،واررسول وغیرہ نے بھی کشمیروادی میں بجلی کی عدم دستیابی پرسخت احتجاج کرتے ہوئے الزام لگایاکہ اب اعلان شدہ کتوتی شیڈول کوبھی بالائے طاق رکھاگیاہے ،جس وجہ سے کشمیرمیں شہرودیہات عام لوگوں کوسخت مشکلات درپیش ہیں ۔اپوزیشن ممبراسمبلی نے ایوان سے احتجاجاًواک آئوٹ کیا۔اس دوران ممبراسمبلی یائوردلاورمیرکے سوال کاجواب دیتے ہوئے نائب وزیراعلیٰ نرمل سنگھ جن کے پاس وزارت بجلی کاقلمدان بھی ہے ،نے اسبات کی یقین دہانی کرائی کہ سال 2018میں پوری ریاست میں بجلی سپلائی میں بہتری لائی جائیگی ۔ اس دورانممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے ایوان کرناہ اور گریز میں ٹنلیں تعمیر کرکے ان علاقوں کو ہمہ موسم رابطہ سڑکیں فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر سرکار سرحدی علاقوں میں رہنے والوں کو یہ ٹنلیں اور دیگر بنیادی سہولیات نہیں دے سکتی ہے تو پھر ان علاقوں کے لوگوں کو لائن آف کنٹرول کے اُس پار جانے کی اجازت دی جانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ایل او سی کی دوسری جانب کے لوگ زندگی کی ہر سہولت کا مزہ لے رہے ہیں وہیں اِس جانب کے لوگوں کو پتھر کے زمانے میں جینے کیلئے مجبور کئے رکھا گیا ہے اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے انکی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے۔
ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے کہا کہ گریز اور کرناہ میں بہتر سڑک رابطہ اور دوسری سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال ان علاقوں میں کتنے ہی لوگ بے موت مارے جاتے ہیں لیکن وقت کی سرکاریں بلند بانگ دعووں سے آگے بڑھ کر ان علاقوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش تک نہیں کرتی ہیں۔کرناہ کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے انجینئر رشید نے سادھنا کے قریب ٹنل کی تعمیر کے انکے مطالبہ کو جائز ٹھہرایا اور کہا کہ انسانی زندگیوں کو بچانے کیلئے اس پر جلد کام شروع کیا جانا چاہئے۔اس دوران انجینئر رشید کو اس وقت ایوان سے مارشل آوٹ کرایا گیا کہ جب انہوں نے بانڈی پورہ میں ایک کھیل مقابلے کے دوران مبینہ طور پاکستانی ترانہ گنگنانے کے الزام میں مقامی کھلاڑیوں کو گرفتار کرنے اور ان کے خلاف ایف ا آئی آر درج کرانے کا معاملہ اٹھایا اور اس پر زور دار احتجاج کیا۔ایوان کے بیچوں بیچ آکر انجینئر رشید نے کہا کہ اگر کشمیر میں کرکٹ کھیلتے بچے پاکستانی ترانے گنگناتے ہیں تو اس میں انکی کوئی غلطی نہیں ہے بلکہ یہ ریاستی اور مرکزی سرکار کی ناکامی ہے جنہیں مزید دیر ہوئے بغیر اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں اپنے آپ کو مین سٹریم کے سیاستدان کہلانے والوں کو سوچنا ہوگا کہ کشمیری نوجوان پاکستان کے گن کیوں گاتے ہیں۔اس دوران پی ڈی پی اور بی جے پی کے ممبران کے ساتھ گرم گفتاری کرتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ چونکہ نئی دلی مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کیلئے کوئی بھی ٹھوس اقدام کرنے میں ناکام ہوئی ہے جموں کشمیر کے نوجوان مین سٹریم اور مزاحمتی خیمے کے لیڈروں سے بھی مایوس ہوچکے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ قیادت انہیں کچھ بھی دینے میں ناکام ہوئی ہے۔اس موقعہ پرممبراسمبلی بانڈی پورہ عثمان مجیدنے گرفتارکھلاڑیوں کی رہائی کامطالبہ کیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں