بابری مسجد معاملے پرسمجھوتہ خارج از امکان

سرینگر/بابری مسجد معاملے پر کسی بھی سمجھوتے کوخارج ازامکان قراردیتے ہو ئے مسلم پرسنل لا بورڈکے سیکرٹری مولاناعمرین محفوظ رحمانی اورمسلم ممبرپارلیمان اسد الدین اویسی نے کہاکہ جوکوئی بابری مسجد پرسمجھوتہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ اللہ کو جوابدہ ہیں۔ آل انڈیامسلم پرسنل لائ بورڈکے حیدرآباددکن میں جاری تین روزہ اجلاس کے دوسرے دن کے اختتام پر مولانا عمرین محفوظ رحمانی سکریٹری مسلم پرسنل لا بورڈ اور بیرسٹر اسد الدین اویسی رُکن پارلیمنٹ حیدرآباد و صدر مجلس نے کہا ہے کہ مسجد ایک مرتبہ اگر تعمیر ہوجائے تو پھر وہ ہمیشہ کے لئے مسجد ہی برقرار رہتی ہے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ بابری مسجد کے معاملہ میں کسی سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ اوریہ کہ جو کوئی سمجھوتہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ اللہ کو جوابدہ ہیں۔خبررساں ایجنسی یواین آئی کے مطابق مولانا عمرین محفوظ رحمانی نے دوسرے دن کی کاروائی کے اختتام پر دن بھر کی کاروائی کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کل ہند مسلم پرسنل لائ بورڈ کے26ویں اجلاس کے دوسرے دن کا دوسرا سیشن صبح 10 بجے سے بعددوپہر2 بجے تک منعقد ہوا جس میں بورڈ کی روایت کے مطابق صدر بورڈ مولانا رابع حسنی ندوی کا خطاب ہوا جس میں انہوں نے یہ واضح کردیا کہ مسلم پرسنل لائ بورڈ بابری مسجد کے مسئلہ پر اپنے سابقہ موقف پر قائم ہے۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ شریعت پرقائم رہیں اور شرعی احکام کے مطابق زندگی گزارنے کو اپنا فرض سمجھیں۔ سکریٹری بورڈ مولانا سید محمد ولی رحمانی نے بورڈ کی کارکردگی اور اس کی مختلف ذیلی کمیٹیوں کی رپورٹ پیش کی جس کے بعد کئی اراکین نے تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ دوسرا اجلاس شام میں ہوا۔ دوسرے اجلاس میں یہ طئے کیا گیا کہ اصلاح معاشرہ کے لئے بورڈ کی جانب سے جو بھی اقدامات کئے جارہے ہیں اور مہم چلائی جارہی ہے‘ اس میں مزید بہتری لائی جائے۔ بورڈ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ نوجوان لڑکے لڑکیوں اور شادی شدہ جوڑوں کو اسلامی احکام سے واقف کروانے اور انکی اسلامی زندگی کی تربیت کے لئے ورک شاپ منعقد کئے جائیں۔انہوں نے بتایا کہ مسلم پرسنل لائ بورڈ ملک میں جو بھی مقدمات کی پیروی کررہا ہے ، اس کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ بورڈ کے اخراجات اور آئندہ بجٹ کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بیرسٹر اسد الدین اویسی ایم پی نے کہا کہ اتوار کی دوپہر کو بورڈ کے سہ روزہ اجلاس کا اختتام عمل میں آئے گا اور بورڈ کی روایت کے مطابق اختتام پر حیدرآباد اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تین طلاق بل دستور کی دفعات کے خلاف ہے اور بابری مسجد سے متعلق جو بھی سمجھوتہ کرنے کی کوشش کررہ ہیں وہ اللہ کو جوابدہ ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں