کے اے ایس امیدواروں کو امتحان میں شامل ہونے اور فیس داخل کرنے کیلئے صرف تین دن  بیشتر امیدوار ریاست سے باہر ،متفکر امیدواروں کی طرف سے کمیشن پر بے ضابطگیوں کے الزامات

سرینگر/کے اے ایس مینز کے امتحان میں شامل ہونے والے امیدواروں نے اس بات پر زبردست تشویش کا اظہار کیا ہے کہ انہیں اچانک یہ اطلاع دی گئی کہ امتحان 15سے شروع ہونگے جبکہ ان کو یہ تک نہیں معلوم کہ ان کے سنٹر کہاں ہیں ۔یہاں آے ہوے امیدواروں کے ایک وفد نے بتایا کہ حکومت نے اس سارے معاملے کومذاق بنا کے رکھ دیاکیونکہ اس قدر شارٹ نوٹس پر ایسے اہم اعلانات نہیں کئے جانے چاہئیں کیونکہ نہ تو امیدواروں نے تیاری کی ہے اور نہ ہی ان کو اس بات کا پتہ چل رہا ہے کہ ان کے امتحانات کہاں ہیں ۔وفد نے بتایا کہ بہت سے طلبہ باہر کی ریاستوں میں کوچنگ کے لئے گئے ہیں لیکن وہ بھی اس معاملے میں سرکا ری اعلان سے پریشان ہوگئے کیونکہ ان کے لئے بھی اس قدر شارٹ نوٹس پر یہاں آکر تیاری کرنا قریب قریب ناممکن ہے ۔وفد نے بتایا کہ وہ انتہائی پریشان ہیں جبکہ یہ امتحان امیدواروں کے مستقبل کے لئے اہم حیثیت رکھتے ہیں اسلئے ان امتحانات کو مناسب وقت تک ملتوی کیاجاے تاکہ طلبہ کو بھر پور تیاری کرنے کا موقعہ مل سکے ۔امید واروں نے بتایا کہ پبلک سروس کمیشن نے سال 2016میں کے اے ایس کی 277 اسامیاں مشتہر کی تھیں جن میں سے بعد میں مشکوک آنسر کیز کی بنا پر 429امیدواروں کو فہرست سے خارج کیاگیا تھا اور ان کی جگہ 429امیدواروں کو شامل کیاگیا تھا ۔ناراض امیدواروں نے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا جس نے حکم صادر کیا کہ ان کو بھی فہرست میں شامل کیاجاے ۔اب کمیشن نے ان امیدواروں سے کہا کہ وہ تین دنوں کے اند اندر اس بڑے اوراہم امتحان کی تیاری شروع کریں ۔جن میں سے ایک دن اتوار کا چلاگیا اب پھر صرف تین دن باقی رہ گئے ہیں امیدواروں کو آٹھ پرچوں کا امتحان دینا ہے وہ کس طرح تیاری کرینگے ۔بیان میں امیدواروں نے بتایا کہ یہ سارا معاملہ مشکوک نظر آرہا ہے جس کی تحقیقات کی جانی چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں