شہری ہلاکتیں قیام امن کی راہ میں رُکاوٹیں

مرکز کی طرف سے نامزد مذاکرات کار دینشور شرما نے ایک اخباری انٹرویو میں بتایا کہ کشمیر میں معمول کے حالات بحال کرنے کیلئے پولیس اور فورسز کو عدم تشدد کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ جب اخباری نمایندے نے ان کی توجہ پہنو شوپیان میں پیش آئے ہوئے حالیہ واقعے کی طرف مبذول کروائی تو انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں نے بحالی امن کی کوششوں کو نقصان پہنچادیا۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں جس قدر بھی امن ہوگا اسی قدر مذاکراتی عمل صحیح راستے پر گامزن ہوگا اور اگر امن میں کسی قسم کا رخنہ ڈالا جائے گا تو مذاکرتی عمل پٹری سے نیچے آجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہری ہلاکتوں سے جس قدر بھی ہوسکے اجتناب کیاجانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ امن کی بحالی کیلئے سب سے پہلے لوگوں میں اعتماد کی فضا پیدا کرنا لازمی ہے لیکن شوپیان جیسے واقعات سے ان کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔ جہاں تک دینشور شرما کے مشن کا تعلق ہے تو اس کیلئے امن لازمی ہے اور قیام امن کے بغیر ان کا مشن کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ شہری ہلاکتوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو لوگوں میں شدید غم و غصہ پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔ کسی بھی مسلے کا حل شہری ہلاکتیں نہیں ہیں بلکہ شہری ہلاکتوں سے حالات میں تنائو پیدا ہوتا ہے اور حکومت کی طرف سے لاکھ کوششیں کی جائیں ان حالات میں امن قایم نہیں ہوسکتا ہے۔ اس دوران کھٹوعہ میں معصوم لڑکی کا قتل کیس بھی سامنے آیا ہے اور اس پر بھی لوگوں میں غم غصہ پیدا ہوگیا۔ اس واقعے کو بھی جس طرح مفاد خصوصی رکھنے والوں نے پیش کیا اس پر ہر مکتب فکر میں حیرت کا اظہار کیاجارہا ہے کیونکہ کچھ عناصر اب قاتلوں اور زانیوں کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئے ہیں اس طرح یہ ایک اور مسئلہ بن گیا ہے۔ کرائیم برانچ نے جو ابتدائی رپورٹ مرتب کی ہے اس میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ کٹھوعہ میں مسلم گوجروں اور بکروالوں کی آمد کو روکنے کیلئے بھی یہ دلدوز واردات انجام دی گئی۔ لیکن اس سے سب لوگ واقف ہیں کہ سالہاسال سے گوجر اور بکروال اسی جگہ آکر ڈھیرا جماکر دو تین مہینے یہاں رہ کر وادی کی اور کوچ کرجاتے ہیں نہ تو وہ زمین پر قابض ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کا مقصد ایسا ہوتا ہے بلکہ کہا جارہا ہے کہ جن لوگوں نے ان پر جنگل کی زمین پر قبضہ کرنے کا الزام عاید کیا ہے دراصل وہی لوگ اس زمین پرنظریں جمائے ہوئے ہیں اور وہی اس پر قبضہ جمانے کا پروگرام بنارہے تھے لیکن خانہ بدوش گوجروں اور بکروالوں کی موجودگی کی بنا پر ان کیلئے ایسا ناممکن تھا۔ سچ کیاہے اور جھوٹ کیا ہے اس بارے میں تو آگے چل کر ہی پتہ چل سکتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ قیام امن کی کوششوں کو تقویت ملنی چاہئے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب فورسز کی طرف سے شہری ہلاکتوں کا سلسلہ بند کیا جائے اور ایسی کوششوں کو جاری رکھا جائے جس سے قیام امن میںمدد مل سکے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں