ہندپاک مندوبین کے درمیان تلخ کلامی

 اقوام متحدہ کے ہیومن رائیٹس کونسل کے حالیہ اجلاس جو جنیوا میں منعقد ہوا میں بھارت اور پاکستان کے مندو بین کے درمیان اس وقت تلخ کلامی ہوئی جب پاکستان کی طرف سے حسب سابق مسئلہ کشمیر اٹھایا گیا اور بھارت پر الزام عاید کیاگیا کہ وہ اس ریاست میں انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہورہا ہے۔ چنانچہ اس موقعے پر بھارت کی خاتون مندوب نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں دہشت گردی پنپ رہی ہے اور جہاں اسامہ بن لادن کو تحفظ حاصل ہوا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان میںدہشت گرد سڑکوں پر گھومتے رہتے ہیں انہوں نے کہا کہ بھارت حکومت پاکستان کی طرف سے ان افراد کیخلاف قابل عمل کاروائی کا انتظار کررہاہے جو 2008کے ممبئی حملوں اور 2016میں پٹھانکوٹ اور اوڑی حملوں میں ملوث ہیں۔ بھارتی مندوب نے کہا کہ بھارت کو انسانی حقوق اور جمہوریت پر سبق پڑھانے کی ضرورت نہیں جس کی اپنی حالت انتہائی خراب ہو چکی ہو اس کو یہ سب زیب نہیں دیتا ہے اس سے قبل پاکستانی مندوب نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جواہر لعل نہرو نے کشمیر میں رائے شماری کروانے کی حامی بھرلی لیکن بھارتی رہنما ئ اس پر برابر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ چنانچہ بھارتی مندوب نے فوراًسال 1972کے شملہ معاہدے اور سال1999کے لاہور اعلامیہ کا ذکر کیا اور کہا کہ شملہ معاہدے میں اس وقت کی وزیر اعظم ہند اندرا گاندھی اور اس وقت کے پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان دستخط کئے گئے اور اس میں اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر دوطرفہ مسئلہ ہے جسے بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے اسی طرح لاہور اعلامیہ میں اٹل بہاری واجپائی اور نواز شریف نے تما م متنازعہ مسایل بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملک ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے دور رہیںگے۔ بہر حال اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اس وقت بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ کشمیر اور جموں کے مختلف سیکٹروں میں بھارت اور پاکستانی فوج کے درمیان اب روزانہ گولیوں کا تبادلہ ہورہا ہے ۔ ان حالات میں سرحدوں پر امن قایم ہوگا تو کیسے ؟اور ترقی کی راہیں کھل جائیگی تو کیسے؟ اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کشیدہ ہونگے تو اس کا اثر براہ راست کشمیر پر بھی پڑتا ہے اور جو لوگ ٹریک ٹو سطح پر کا م کرتے ہیں یعنی غیر سرکاری طور پر دونوں ملکوںکے درمیان قیام امن کیلئے کوشاں ہیں ان کو بھی بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں۔ اور وہ کھل کر اپنا مشن آگے نہیں بڑھا سکتے ہیں۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اب گھڑے مردے اکھاڑنے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ موجودہ صورتحال کو مد نظر رکھ کر ایسے اقدامات کئے جانے چاہئے جس سے امن بھی قیام ہوگا اور دونوں ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہونگے۔ جب ایسا ہوگا تو کشمیر میں بھی امن قایم ہوسکتا ہے اور اسی کی بنا ئ پر بات چیت کا عمل بھی خوشگوار انداز میں شروع ہوگا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں