آصفہ قتل کیس میں اب سیاست کی گنجائش نہیں رہی,

,

اقتدار میں رہ کر تین برس کا عرصہ گذرنے پر جموں میں بی جے پی نے ایک ریلی کا اہتمام کیا جس میں مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے ریاستی بی جے پی لیڈروں کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان کی طرف سے کٹھوعہ میں آصفہ کے قتل کے معاملے پراپنائے گئے طرز عمل پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ آصفہ کے معاملے پر بی جے پی کے مقامی رہنماوں نے جو طرز عمل اپنایا وہ قابل افسوس ہے ۔ غالباًیہی وجہ ہے کہ اس ریلی میں نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ ، وزیر جنگلات لال سنگھ اور دو ممبران اسمبلی نے شرکت نہیں کی جس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کٹھوعہ میں معصوم آصفہ کے بارے میں پارٹی کے اندر اتفاق رائے کی کمی ہے اور ایک با اثر حلقہ اس بات کے حق میں ہے کہ جن لوگوں کیخلاف پولیس نے کاروائی کی ان کیخلاف عدالت میں مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔ جب معصوم آصفہ کی لاش بر آمد ہوئی تو اس کے فوراًبعد پولیس نے دو ایس پی اوز کو گرفتار کرلیا جن سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ چنانچہ ان کو رہا کروانے کے حق میں ہندو ایکتا منچ نامی ایک پارٹی نے کٹھوعہ میں ریلی نکالی اور گرفتار کئے گئے ایس پی اوز کی رہائی کا مطالبہ کیاگیا اس ریلی میں بھاجپا کے دو وزیروں نے بھی شرکت کی جس پر اور تو اور جموں میں لوگوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ اس سے لوگوں میں بی جے پی کی ساکھ بری طرح متاثر ہوگئی۔ کیونکہ یہ بات سامنے آگئی ہے کہ جس شخص نے ہندو ایکتا منچ کی بنیاد ڈالی وہ ایک ریٹائیرڈ سرکاری ملازم ہے اور جس کا تعلق مبینہ طور پر بی جے پی سے بتایا گیا جو بقول پولیس اس کیس میں پولیس کو مطلوب ہے ۔آصفہ کے افراد خانہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ پولیس ایف آئی آر میں اس سرکاری ریٹائیرڈ ملازم کا نام ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اسے اب تک گرفتار کیوںنہیں کیا گیا ۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ہندو ایکتا منچ کے جھنڈے تلے خود کو بچانے کی کوشش کررہا ہے ۔ اور اس معاملے پر بھی لوگ بی جے پی سے ناراض ہیں جس پر مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جیتندر سنگھ بھی اس پارٹی کے طرز عمل سے ناراض ہوگئے کیونکہ انہوں نے حقایق کو سمجھ لیا ہے اور وہ نہیں چاہتے ہیں کہ سنگین جرم میں ملوث افراد کو بچانے کیلئے بی جے پی میدان میں اترے اور ان افراد کے حق میں بی جے پی تحریک چلائے۔ اس سے قبل وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مرکزی وزیر داخلہ کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا تھا اور ان کی توجہ اس معاملے پر بی جے پی کے طرر عمل کی طرف مبذول کروائی۔ اس دوران پارٹی کے دوسرے لیڈروں نے بھی اس بات پرزور دیا کہ آصفہ قتل کیس کو غیر ضروری طور پر طول دیا جارہا ہے بلکہ اس میں ملوث افراد کیخلاف پہلے ہی کاروائی کی جانی چاہئے تھی شاید ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے آصفہ کے معاملے پر جو کچھ کہا اس سے پارٹی کے بعض لیڈر ناراض نا خوش ہوئے ہونگے اور اسی بنا پر انہوں نے جموں کی ریلی میں شرکت نہیں کی ۔ اب ریاستی حکومت کو چاہئے کہ جتنی جلد ہوسکے مجرموں کیخلاف چالان عدالت میں پیش کرے تاکہ ملوثین کو کڑی سے کڑی سزا دی جاسکے ۔ اس معاملے پر اب سیاست کی کوئی گنجایش باقی نہیں رہی ۔ پولیس کو چاہئے کہ تمام مشتبہ افرا دکو گرفتار کرکے ان کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کرکے جلد از جلد چالان پیش کرے ۔

,
مزید دیکهے

متعلقہ خبریں