احمد نگر سرینگر اور کوکر ناگ اننت ناگ میں مسلسل ہڑتال، کئی مقامات پر سنگ باری،گاندربل ڈگری کالج سٹوڈنٹس کی طرفسے کلاسوں کا بائیکاٹ,

,

سرینگر/نیازحسین /کے ایم این /ہاکورہ اننت ناگ معرکہ آرائی میں جاں بحق ہوئے جنگجوؤں کی یاد میں منگلوارکوان کے آبائی علاقوں احمد نگر سرینگر اور کوکرناک اننت ناگ کے علاوہ ضلع گاندربل میں بغیر کسی کال کے مسلسل دوسرے روز مکمل ہڑتال رہی۔تاہم سرینگر اور اننت ناگ اضلاع کے بیشتر علاقوں میں ایک روزہ جبکہ جنوبی ضلع شوپیاں میںمسلسل8روزہ ہڑتال کے بعد معمولات زندگی بحال ہوگئے۔ادھر گاندربل میں ڈگری کالج کے طلبہ نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کئے جبکہ ایس پی کالج سرینگر سے بھی طلبہ نے احتجاجی جلوس نکالنے کی کوشش کی۔اس دوران گاندربل کے قمریہ چوک،بی ہامہ اور کنگن میں کئی ایک مقامات پرمعمولی نوعیت کے پتھراؤ کے واقعات پیش آئے،پولیس کے مطابق منگلوار کو پوری وادی میں مجموعی طور پر صورتحال پرسکون رہی ، اسکولوں اور کالجوں میں معمول کے مطابق تعلیمی سرگرمیاں جاری رہی اور ریل خدمات بھی بحال کی گئیں۔ 11اور12مارچ کی درمیانی شب جنوبی ضلع اننت ناگ کے ہاکورہ نامی علاقہ میں فورسز اور جنگجوؤں کے مابین مسلح تصادم میں عسکری تنظیم تحریک المجاہدین کے ضلع کمانڈر سمیت3عساکر مارے گئے،جن میں 2کی شناخت عیسیٰ فاضلی ساکنہ احمدنگر صورہ اور سید اوئیس شفیع ساکنہ گوہن کوکرناگ کے بطور ہوئی۔قابل ذکر ہے کہ عیسیٰ اور اوئیس اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور عسکری صفوں میںشمولیت سے قبل وہ انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کررہے تھے۔ عیسیٰ فاضلی کے والدنعیم فاضلی نے معرکہ آرائی کے اختتام کے بعد سوموار کی صبح سوشل میڈیا پر اپنے بیٹے کے جاں بحق ہونے کی خبر دی ۔ عیسیٰ فاضلی کی ہلاکت پر صورہ سرینگر کے علاوہ ضلع گاندربل کے بیشتر علاقوں میں منگلوار کو مسلسل دوسرے روز بھی ہڑتال کے نتیجہ میں عام اور کاروباری زندگی مفلوج رہی جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ معطل اور دکانیں بند رہیں۔اس دوران لوگوں نے عیسٰی فاضلی کے آبائی گھر پہنچ کر لواحقین سے تعزیت ویکجہتی کا اظہار کیا جبکہ زندگی کے مختلف طبقہ ہائے فکر سے وابستہ لوگوں نے تعزیتی تقریب سے خطا ب بھی کیا۔ادھر /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
گاندربل سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ ڈگری کالج کے طلبہ نے اسکولوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے احتجاجی ریلی نکالی۔نمائندے کے مطابق احتجاجی طلبہ ڈگری کالج سے نعرہ بازی کرتے ہوئے قمریہ چوک تک پہنچے،جہاں پہلے سے موجودپولیس کی ایک جمعیت نے انہیںروکااور آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی ،جس پر طلبانے مشتعل ہوکر اپنے ہاتھوں میںسنگ اُٹھائے۔نمائندے کے مطابق اس موقعہ پر طلبا نے پتھراؤ کیا۔تاہم پولیس نے انہیں منتشر کیا، جس کے بعد یہاں حالات معمول پر آگئے۔ادھربی ہامہ چوک میں منگل کی صبح دُکانوں اور گاڑیوںپر پتھراؤ کیا گیا جبکہ گاندربل اور کنگن میں کئی ایک مقامات پر احتجاجی نوجوانوں اور فورسز میں جھڑپیں ہوئیں۔تاہم اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیںآیا۔صورہ اور گاندربل میںجہاں ہڑتال سے زندگی مفلوج رہی، وہیں ضلع سرینگر کے بیشتر علاقوں میں ایک روزہ ہڑتال کے بعد زندگی پٹری پر لوٹ آئی اوردُکانیں کھلنے کے علاوہ سڑکوں پر معمول کے مطابق ٹریفک کی روانی جاری رہی۔ادھر جنوبی کشمیر سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ ہاکورہ اننت ناگ معرکہ آرائی میں جاں بحق ہوے تحریک المجاہدین سے وابستہ اعلیٰ تعلیم یافتہ جنگجو سید اوئیس کی یاد میں کوکرناگ میں مسلسل دوسرے روز تعزیتی ہڑتال رہی۔نمائندے کے مطابق کوکرناگ میں تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی اور اس دوران لوگوں نے اوئیس کے آبائی گھر پہنچ کر لواحقین کے ساتھ تعزیت ویکجہتی کا اظہار کیا۔نمائندے نے بتایا کہ کوکرناگ میں جہاں ہڑتال رہی وہیں اننت ناگ کے بیشتر علاقوں میں ایک روزاور جنوبی ضلع شوپیاں میںمسلسل 8روزہ ہڑتال کے بعد زندگی پٹری پر لوٹ آئی۔ادھر شوپیاں کے مین مارکیٹ میں دکانیں کھلنے کے بعد اُس وقت سراسیمگی پھیل گئی جب نامعلوم افراد نے گول چکری کے مقام پر ایک پیٹرول بم داغا۔تاہم اس سے کسی کو کوئی گزند پہنچنے کی اطلاع موصول نہیںہوئی ہے۔

,
مزید دیکهے

متعلقہ خبریں