عدالت عالیہ نے کے اے ایس مینز 2016کے امتحانات کو کالعدم قراردیا  امتحانی عمل سے باہر رکھے گئے ،429امیدواروں کو امتحان میں شامل رکھنے کی ہدایت

سرینگر/کے این ایس /عدالت عالیہ نے ’’کے اے ایس﴿مین﴾ 2016امتحان پرروک‘‘ لگاتے ہوئے پبلک سروس کمیشن کومشترکہ مقابلہ جاتی امتحان سے باہررکھے گئے429اُمیدواروں کوشاملِ امتحان رکھنے کی ہدایت دی۔اسکے ساتھ ہی ہائی کورٹ کے پبلک سروس کمیشن کویہ ہدایت بھی دی کہ مجوزہ مقابلہ جاتی امتحان کیلئے تازہ شیڈول مرتب کیاجائے۔خیال رہے کے اے ایس مینز2016کے امتحانات رواں ماہ کی14اور17تاریخ کی لئے جانے تھے ،اوراس کیلئے سر ینگراورجموں میں کل 14 امتحانی مراکزقائم کئے گئے ہیں ۔ ریاستی ہائی کورٹ نے پبلک سروس کمیشن کی جانب سے میرٹ کے نام پرمشترکہ مقابلہ جاتی امتحان یعنی کے اے ایس مینز2016سے ڈراپ کئے گئے 429اُمیدواروں کی دائرعرضی کومنظورکرتے ہوئے مجوزہ امتحانات کے انعقادپرروک لگادی ۔جسٹس جنک راج کوتوال اورجسٹس سنجیوکمارشکلاپرمشتمل دورکنی بینچ نے عرضی کوزیرسماعت لانے کے بعدمنگل کے روزاہم فیصلہ سناتے ہوئے پبلک سروس کمیشن کی جانب سے لئے جانے والے کے اے ایس مینز2016امتحان کے انعقادپرروک لگادی ۔عدالت عالیہ کے ڈبل بینچ نے پی ایس سی کی جانب سے 429اُمیدواروں کے مجوزہ امتحان میں شامل ہونے پرلگائی گئی روک یاریاستی سطح کے اعلیٰ ترین سیول سروسزامتحان کومذکورہ اُمیدواروں کیلئے شجرممنوعہ بنائے جانے کے فیصلہ کوغلط مانتے ہوئے یہ فیصلہ صادرکیا۔ہائی کورٹ نے سبھی429ڈراپ شدہ اُمیدواروں کوامتحانات میں شامل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے پبلک سروس کمیشن کویہ حکم بھی دیاکہ مجوزہ مقابلہ جاتی امتحان کیلئے تازہ شیڈول مرتب کیاجائے۔اسکے ساتھ ہی عدالت عالیہ کے دونفری بینچ نے یہ ہدایت بھی دی کہ اُن 2365اُمیدواروں کوبھی مشترکہ مقابل جاتی امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے جنہوں نے ڈراپ شدہ429اُمیدواروں میں شامل آخری اُمیدوارکے برابریااسے زیادہ نمبرات یاپوائنٹس حاصل کئے ہیں ۔جسٹس جنک راج کوتوال اورجسٹس سنجیوکمارشکلاپرمشتمل دورکنی بینچ نے مجوزہ مقابلہ جاتی امتحان کے انعقادپرروک لگانے کافیصلہ سناتے ہوئے واضح کیاچونکہ مقدمہ سازی کی وجہ سے مجوزہ امتحان کے انعقادمیں تاخیرہوئی ہے ،اسلئے پبلک سروس کمیشن اس عمل یعنی امتحان کے انعقادکوجلدسے جلد مکمل کرکے نتائج کوبلاتاخیرمنظرعام پرلائے۔خیال رہے ریاستی پبلک سروس کمیشن نے پہلے/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 مجوزہ مشترکہ مقابلہ جاتی امتحان کیلئے 15فروری سے 8مارچ 2018تک کاشیدول جاری کیاتھالیکن موسمی صورتحال خراب ہونے اورسری نگرجموں شاہراہ بندرہنے کے باعث اس اہم ترین امتحان کے شیڈول میں تبدیلی کی گئی ،اوراب یہ امتحانات رواں ماہ کی14اور17تاریخ کوبیک وقت جموں اورسری نگرمیں لئے جانے تھے جس کیلئے دونوں شہروں میں بالترتیب 8اور6امتحانی مراکزمقررکئے گئے تھے ۔اسکے ساتھ ہی 12مارچ کوجنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایک آرڈرزیرنمبر426-GADآف 2018بتاریخ 12مارچ 2018کے تحت مجوزہ مقابلہ جاتی امتحانات کیلئے کل 22مبصرین کی نامزدگی عمل میں لائی گئی ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں