وادی میں تاجر ،ہوٹل مالکان ،ٹرانسپورٹر او ر صنعت کار شدید مالی بحران میں مبتلا
ٹرانسپورٹر قرضہ جات کی ادائیگی کے لئے گاڑیاں فروخت کررہے ہیں ،کساد بازاری نے کاروباریوں کی مشکلات بڑھادی ہیں

سرینگر /جی ایس ٹی کے نفاذ کے نتیجے میں ریاست میں اقتصادی حالات برابر مخدوش ہوتے جارہے ہیں جس کی بنا پر نہ صرف کاروباری طبقہ مالی مشکلات میں مبتلا ہوگیا ہے بلکہ وہ لوگ بھی اب مشکل سے اپنا گذارا کرنے لگے ہیں ۔اس سلسلے میں مختلف مکتب ہاے فکر سے تعلق رکھنے والوں نے بتایا کہ ان کی زندگی اجیرن بن گئی ہے کیونکہ ان کی مالی حالت ہر گذرتے دن خراب ہوتی جارہی ہے ۔وادی کے سرکردہ تاجروں کے ایک وفد نے بتایا کہ جب سے جی ایس ٹی نافذ ہوگیا ہے تب سے ان کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے انہوں نے کہا کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں اور شدید کساد بازار ی کا شکار ہورہے ہیں ۔وفد نے بتایا کہ جی ایس ٹی کی بنا پر ان کے لئے معمول کا کاروبار کرنا اب انتہائی مشکل بن گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ خریدار اب کہیں بھی نظر نہیں آرہے ہیں کیونکہ عام لوگ بھی زبردست مالی مشکلات میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔اس دوران ٹرانسپورٹرس نے اس بات کا انکشاف کیا کہ کا م کم ہونے کی بنا پر مختلف بنکوں سے قرضہ پر لی گئی گاڑیوں کو وہ اب بیچ کر قرضہ چکانے کے بعد بے کار بن گئے ہیں اور اب ان کے پاس مزدوری کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے ۔ان میں خاص طور پر/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 ٹورسٹ ٹیکسی ڈرائیورس شامل بتاے گئے اسی طرح ہوٹل مالکان بھی پریشان ہیں ایک ہوٹل مالک نے انکشا ف کیا کہ اس نے ساری جائیداد گروی رکھ کر ہوٹل تعمیر کیا اور اس میں بہت سے نوجوانوں کو اس امید پر ملازمت بھی فراہم کی کہ ہوٹل انڈسڑی اب اچھا کام کرے گی لیکن سال 2016سے اب تک اسے کوئی قابل ذکر آمدن نہیں ہوئی اور سیاحتی سیزن ٹھپ ہونے اور جی ایس ٹی کی بنا پر جب اس کے لئے ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنا نا ممکن بن گیا تو اس نے ایک ایک کرکے سارے ملازمین کی چھٹی کردی جو اس وقت اب بے کار ہوگئے ہیں جبکہ وہ چاہتا ہے کہ ہوٹل بھی فروخت کرے تاکہ قرضہ چکاسکے لیکن تعجب اس بات کا ہے کہ کوئی اس کا ہوٹل خریدنے کے لئے بھی تیار نہیں ہے ۔اسی طرح دوسرے صنعت کار بھی مالی بحران میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں