حکومت عوام کو نان شبینہ کا محتاج بنانے پر تُلی ہوئی ہے: فاروق عبداللہ

سرینگر//﴿آفتاب ویب ڈیسک ﴾نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے وادی میں اقتصادی اور معاشی بحران پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کے موجودہ حالات کسی بھی زاویئے سے روشن مستقبل کیلئے مواقف نہیں۔موصولہ بیان کے مطابق فاروق عبداللہ نے مزید کہا ہے کہ 2016کی بے چینی سے قبل تباہ کن سیلاب نے یہاں کے لوگوں کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی اور اس کے بعد نوٹ بندی و جی ایس ٹی جیسے اقدامات نے بچی کچی کثر بھی پوری کردی۔بیان کے مطابق فاروق عبداللہ آج پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں مختلف تجارتی اور کاروباری انجمنوں کے نمائندوں کے علاوہ، عوامی وفود، پارٹی عہدیداران اور لیڈران کیساتھ تبادلہ خیالات کررہے تھے ۔فاروق عبداللہ نے کہا کہ حکومت عوام کو نان شبینہ کا محتاج بنانے پر تلی ہوئی ہے، موجود مخلوط اتحاد نے ریاست کے اہم شعبوں کو بحرانوں کی نذر کردیا ہے۔ ریاست کی 60فیصد آبادی بلواسطہ یا طلاواسطہ سیاحتی شعبے پر انحصار کرتی ہے لیکن گذشتہ3برسوں میں یہ شعبہ بھی زوال پذیر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت سے وابستہ شکارے والے، ہاوس بوٹ والے ، ہینڈی کرافٹس ،پیپر ماشی، قالین بافی، شال دوشالے، ووڈ کارونگ، ٹیکسی ڈائیور ، ہوٹل مالکان، دکاندار حضرات، کاریگر حضرات لاکھوں کی تعداد میں اِس صنعت سے وابستہ ہیں۔ لیکن اس وقت اس شعبہ کی بدحالی سے یہ طبقہ بدترین مالی بحران سے دوچار ہوگئے ہیں۔ عوام سے آنے والے سیاحتی سیزن کو کامیاب بنانے کیلئے اپنا رول ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اس اہم شعبہ کی حفاطت کریں، کیونکہ یہ شعبہ ہماری اقتصادیات میں ریڈ ھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں