عام شہریوں کو تحفظ فراہم کیاجائے  فورسز کو وزارت داخلہ کی ہدایت  کشمیر میں سیاحتی سیزن کو کامیاب بنانے کیلئے کوششیں جاری رکھی جائینگی

سرینگر/ کے این ایس / سیکورٹی ایجنسیوں کو جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے محکمہ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ہم ریاست کی مجموعی سیکورٹی صورتحال پر گہرائی سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔ محکمہ داخلہ کے ایک سینئر افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر کے این ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ داخلہ نے ریاست میں کام کررہی سیکورٹی ایجنسیوں بشمول فوج، سی آر پی ایف، پولیس وغیرہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ریاست میں جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران عام شہریوں کے تحفظ کا خاص خیال رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگجوئوں کے ساتھ معرکوں کے دوران فوج کو خصوصی ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ لا اینڈ آرڈر مسئلے سے نمٹتے وقت خصوصی خیال رکھا کریں تاکہ عام شہریوں کی جانوں کو کوئی گزند نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ریاست میں گرما کے دوران حالات ناسازگار رہنے کی وجہ سے سیاحتی ڈھانچے کو کافی نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے جبکہ اب مرکزی اور ریاستی حکومتیں امسال گرما کو پرامن بنانے پر فکر مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوششیں ہیں کہ امسال موسم گرما میں زیادہ سے زیادہ سیاح وادی وارد ہوجائیں تاکہ گزشتہ برسوں میں سیاحتی ڈھانچے کو ہوئے نقصان کی تلافی ہوسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں تمام سیکورٹی ایجنسیوں کو گرما کو پرامن طور گزرنے کے لیے حوالے سے ہدایات دی گئی ہیں۔ محکمہ داخلہ کے افسر کا کہنا تھا کہ ریاست میں کام کررہی تمام سیکورٹی ایجنسیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جنگجوئوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہ برتیں بلکہ اُن کے ساتھ سختی سے پیش آئیں۔ انہوں نے کہا سیکورٹی ایجنسیوں کے سربراہاں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جنگجوئوں/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 کے ساتھ نپٹتے وقت عام شہریوں کی زندگی کا خاص خیال رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیکورٹی ایجنسیوں پر زور دیا گیا کہ وہ جنگجوئوں کے خلاف آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے آپسی تال میل بنائے رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ داخلہ نے سیکورٹی سربراہاں پر واضح کردیا ہے کہ جنگجو مخالف آپریشن جاری و ساری رہیں گے۔ محکمہ داخلہ ریاست کی صورتحال پر گہری نظر بنائے رکھے ہوئے ہیں اور آنے والا گرما ئی سیزن انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں امن کسی بھی حال میں قائم کیا جائے گا کیوں کہ لوگوں نے تنائو اور کشیدہ ماحول ہونے کی وجہ سے بہت نقصان برداشت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو پہلے ہی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جھڑپوں والے مقامات سے دوری بنائے رکھیں۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ جھڑپوں والے مقامات سے دوری بنائے رکھیں اور اپنی جانوں کو ضائع ہونے سے بچائیں کیوں کہ یہ ان کے فائدہ کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران رخنہ نہ ڈالنے کی بار بار تاکید کی جاچکی ہے۔ اسی دوران فوج کے ایک سینئر افسر نے کے این ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس عوامی احتجاج کو پیچھے دکھیلنے کے لیے غیر مہلک ہتھیار موجود نہیں ہوتے ہیں لہٰذا اس کے لیے پولیس اور سی آر پی ایف موجود ہیں جو غیر مہلک ہتھیار کا استعمال کرکے احتجاجی مظاہروں کو منتشر کرسکتی ہے۔ 2016سے متواتر عام لوگوں کو جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران دوری بنائے رکھنے کی تاکید کی گئی مگر پھر بھی لوگ جھڑپوں والے مقامات کی طرف پیش قدمی کرکے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں جو بعد میں ریاست میں کشیدگی اور تنائو والی صورتحال کو جنم دیتی ہے۔ پولیس افسر نے کہا کہ تمام سیکورٹی ایجنسیوں کو آپسی تال میل بنائے رکھنے کی خصوصی ہدایت دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جھڑپوں والے مقامات سے احتجاجی مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے کی ہرممکن کوشش کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مظاہرین کو جھڑپوں والے مقامات سے دور رکھنے کی ہر ممکنہ کوشش کریں۔ اگر پولیس اس کام میں ناکام ہوگئی تو فورسز اہلکار احتجاجی مظاہرین پر گولیاں چلانے میں مجبور ہوجائیں گے جس سے بعد میں کولگام جیسی صورتحال رونما ہوسکتی ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں