کٹھوعہ نیشنل کانفرنس کا بلاک صدر  پارٹی کی بنیادی رکنیت سے خارج

سرینگر/ کے این ایس/ ’’میں سب سے پہلے ہندو ہوں، اس کے بعدکسی جماعت کا کارکن ہوں‘‘۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے خارج شدہ لیڈر شانتی سواروپ نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کیا ہیرانگر جموں سے تعلق رکھنے والا شانتی سواروپ جو کل تک نیشنل کانفرنس کا بلاک صدر مانا جاتا تھا نے سنیچروار کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں سب سے پہلے ہندو ہوں اور اس کے بعد ہی کسی جماعت کا کارکن ہوں، اور میں اپنی ہندو برادری کے ساتھ ناانصافی ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا‘‘۔ سواروپ نے میڈیا کو بتایا کہ’’ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اگر نیشنل کانفرنس نے مجھے پارٹی کی بنیادی رکنیت سے خارج کردیاہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ’’میں ہندوئوں کے ساتھ ناانصافی کو برداشت نہیں کرسکتا اور یہی وجہ ہے کہ میں ہندو ایکتا منچ کی جانب سے نکالی گئی ریلی کا حصہ بنا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’میںذاتی طور نیشنل کانفرنس کی طرف سے لیے گئے فیصلہ سے غیر مطمئن ہوں جبکہ ہندو ایکتا منچ تنظیمی سطح سے اُوپر اٹھ کر ہندوئوں کے لیے کام کررہی ہے‘‘۔ سواروپ کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں بہر حال ہندو برادی کے لیے کھڑا ہونا ہوگا کیوں کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی دونوں ہندومخالف جماعتیں ہیں، وہ ہندوئوں کو غلط طریقے سے پیش کررہی ہیں۔‘‘۔واضح رہے شانتی سواروپ ہیرانگر علاقہ/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 سے تعلق رکھتا ہے اور جمعہ کی دوپہر تک نیشنل کانفرنس سے وابستہ تھا۔ موصوف نے کٹھوعہ معاملے میں ملوث عناصر کے حق میں ہندو ایکتا منچ کی جانب سے نکالی گئی ریلی میں حصہ لیا تھاجس کی پاداش میں پارٹی نے جمعہ کی دوپہر کو انہیں پارٹی کی بنیادی رکنیت سے خارج کردیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں