شہری ہلاکتوں پر کوئی پردے کے پیچھے نوکوئی عوام کے سامنے روتا ہے : الطاف بخاری

سرینگر/ اے پی آئی /ایجنڈا آف الائنس کو ادھورا قرار دیتے ہوئے پی ڈی پی کے سینئر لیڈر اور وزیر خزانہ نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کی سیاسی پارٹیوں کے قائدین کو چاہیے کہ وہ بھانت بھانت کی بولیوں کے بجائے کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے ایک ہو جائے تاکہ خطے میں جو صورتحال بنی ہوئی ہے اسے/جاری صفحہ نمبر۱۱پر
 بہتر بنایا جا سکے ،نسل کشی کو ایک تو روکنا ہے تو سیاسی قیادت کو ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہو گا ۔ شہری ہلاکتوں پر کوئی پردے کے پیچھے روتا ہے تو کوئی جمہ غفیر کے سامنے ،دل سبوں کے مجروح ہو تے ہیں ۔اے پی آئی کے ساتھ طویل انٹر ویو کے دوران پی ڈی پی کے سینئر لیڈر اور وزر خزانہ سید الطاف بخاری نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایجنڈا آ ف الائنس پر کام نہیں ہو پا رہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جب 2015میں پی ڈی پی ،بی جے پی کی مخلوط حکومت قائم ہوئی تب سے تشدد میں بے تحاشا اضافہ ہوا اور ایجنڈا آف الائنس پر عمل درآمد کرنے کا موقعہ بھی نہیں ملا ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر امن قائم رہے تو ایجنڈا آف الائنس پر حروف بہ حروف کام ہو گا ۔ ریاست کی موجودہ صورتحال پر فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کی سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ بھانت بھانت کی بولیاں چھوڑ دیں ،اپنی ریاستی وحدت ، اجتماعیت اور انفرادیت کو اگر قائم رکھنا ہے تو سیاسی اختلافات سے بالا تر ہو کر کشمیر مسئلے کو حل کرنے کیلئے متفق ہوناچاہیے تاکہ دو نیوکلیئر طاقتوں بھارت اور پاکستان کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کی بات سنیں ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ گولیاں ہم پر چلتی ہیں ،جوان ہمارے مارے جا تے ہیں ، گھر ہمارے تباہ و برباد ہو تے ہیں ،بھارت پاکستان کا کچھ بھی نہیں بگڑتاہے اس کی سب سے بڑی وجہ سیاسی قیادت کی الگ الگ بولیاں ہیں ۔ وزیر خزانہ نے گفتگو کے دوران کہا کہ طاقت کے بل بوتے پر پاکستان کشمیر کو لے نہیں سکتا اور بھارت اسے چھوڑ نہیں سکتا ،اس کیلئے ضروری ہے کہ بات چیت کا سلسلہ شروع کیا جائے ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان میں حالات اس قدر سنگین ہیں کہ بھارت کی سیاسی قیادت یہ کہنے پر مجبور ہو رہی ہے کہ بات چیت کس سے کی جائے ،فوج سے ،نواز شریف سے ،آصف علی زرداری سے ،عمران خان سے ،سپریم کورٹ آف پاکستان سے یا حافظ محمد سید سے ۔ انہوںنے کہا کہ مشرف کو کنٹرول تھا وہ آگرہ آئے اور انہوںنے بات چیت کا سلسلہ شروع کیا مگر تب بھی پاکستان میں حالات اس قدر سنگین بنا دئیے گئے کہ معاہدے پر دستخط نہیں ہو سکے ۔ حد متارکہ کی صورتحال پر فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ کب تک آر پار گھر برباد ہوتے رہیں گے ؟کب تک ترک سکونت کا سلسلہ جاری رہے گا ؟بات چیت کی افادیت کو لازمی قرار دیتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کی سیاسی قیادت کو خود بھی آپس میں بات چیت کرنی چاہیے بے شک سیاسی اختلافات اور نظریات جداگانہ ہیں مگر جب تک نہ ہم ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کریں تب تک حاصل کچھ نہیں ہونے والا ۔ ریاست میں حکومت سازی کو لازمی قرار دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ریاستی حکومت مسئلہ کشمیر کو حل کر سکتی اس کا کام ہے لوگوںکے درپیش مشکلات کا ازالہ کرنا ،ریاست ملک کی تمام پسماندہ ریاستوں میں پہلے نمبرپر ہے جہاں لوگوں کو پینے کے پانی کی قلت ،بجلی کی عدم دستیابی ،بدنظم تعلیمی نظام ،طبی سہولیات کا فقدان ، سڑکوں کی خستہ حالت ،روزگار کی کمی ،اقتصادی بدحالی اور دوسرے مسائل کا سامنا ہے ان مسائل کے ازالے کیلئے حکومت لازمی ہیں ۔شہری ہلاکتوں پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ جب گولی چلتی ہیں اور کسی کی جاں ضائع ہو تی ہے تو کوئی جمہ غفیر کے سامنے رو کر اپنے قر ب و اضطراب کا اظہار کرتا ہے تو کوئی پردے کے پیچھے روکر اپنی قسمت کو کوستا ہے ۔ انہیں نے کہا کہ آنکھیں سب کی نم ہو تی ہے اگر ریاست کی سیاسی قیادت کو نسل کشی کو روکنا ہے تو سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ بھانت بھانت کی بولیاں بولنا چھوڑ دیں ،حقیقت کو تسلیم کریں اور صاف گوئی سے کام لیں ۔ انہوںنے کہا کہ برداشت کا مادہ ختم ہو چکا ہے جب تک نہ ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کیا جائے مسائل مزید بڑھ جائیں گے اور اس کیلئے ضروری ہے کہ سیاسی قیادت سنجیدگی ،دور اندیشی کا مظاہرہ کر کے قوم کو ایک صیح سمت دیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں