سابق چیف جسٹس کی سربراہی میں 5رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو 20اپریل کو جموں اور کٹھوعہ جائیگی  تحقیقات کے دوران اگر ہڑتال کو غیر قانونی پایا گیا تو ملوث وکلائ کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی :بار کونسل آف انڈیا

سرینگر/ یو پی آئی /بار کونسل آف انڈیا نے واضح کردیا ہے کہ کھٹوعہ اور جموں کے وکلائ کی جانب سے آصفہ کیس کے سلسلے میں ہڑتال کرنے اور چارج شیٹ کو داخل کرنے کے وقت رکاوٹ ڈالنے کا بار نے سخت نوٹس لیتے ہوئے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ بار کونسل کے مطابق کمیٹی میں شامل ممبران 20اپریل کو جموں اور کٹھوعہ جائینگے اور آزادانہ جانچ کے بعد سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کی جائے گی۔ بار کونسل نے واضح کیا کہ اگر تحقیقات کے دوران پایا گیا کہ وکلائ نے غیر ضروری طور پر ہڑتال کی تو اُن کے لائسنس منسوخ کرنے کو خارج ا زامکان قرار نہیں دیاجاسکتا ہے۔ نئی دہلی میں بار کونسل آف انڈیا کے ممبران نے ایک پُر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ آصفہ معاملے پر کٹھوعہ اور جموں بار ایسو سی ایشن کی جانب سے ہڑتال کرنے کا کونسل سے سخت نوٹس لیا ہے۔ بار کونسل کے ممبر منن مشرا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ سابق چیف جسٹس ترون اگروال کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو 20اپریل کو جموں اور کٹھوعہ جائے گی اور اس سلسلے میں مکمل تحقیقات کرئے گی۔ بار کونسل کا مزید کہنا تھا کہ کمیٹی جموں اور کٹھوعہ کے وکلائ سے بھی اس ضمن میں بات کرئے گی اور آزادانہ جانچ کے بعد رپورٹ عدالت عظمیٰ میں جمع کرئے گی۔ بار کونسل آف انڈیا کے ممبران نے بتایا کہ اگر آزادانہ تحقیقات کے دوران پایا گیا کہ وکلائ نے غیر قانونی طورپر ہڑتال کی تھی تو اُن کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی یہاں تک کہ لائسنس منسوخ کرنے کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں