سزائے موت کا بل پاس کروانے کیلئے اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے: ڈاکٹر فاروق عبداللہ ’مرکزی قیادت اور ملک کو اس سانحہ پر خاموشی  توڑنے اور آواز اُٹھانے میں 2ماہ کا وقت لگا

سرینگر//پی ڈی پی بھاجپا سرکار نے جموں وکشمیر کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے میں کوئی بھی کثر باقی نہیں چھوڑی، کٹھوعہ میں معصوم بچی کے ساتھ پیش آیا واقعہ موجودہ مخلوط حکومت کی اُس پالیسی کا نتیجہ ہے جس کے تحت فرقہ پرست عناصر کی پشت پناہی اور حوصلہ افزائی کی گئی،مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ملک کو اس سانحہ کیخلاف آواز اُٹھانے میں دو ماہ کا وقت لگا۔ ان باتوں کا اظہار صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آج پارٹی ہیڈکوارٹر پر صوبائی سطح کے ایک غیر/جاری صفحہ نمبر۱۱پر
 معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال اور صوبائی صدر ناصر اسلم وانی کے علاوہ صوبہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے ضلع صدور، ضلع سکریٹری، کانسچونسی انچارج ، یوتھ اور خواتین ونگ کے عہدیدران بھی موجو دتھے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیشنل کانفرنس نے ایسے جرائم کے مرتکب افراد کیلئے سزا موت کی بل اسمبلی میں لانے کا فیصلہ کیا ہے اور ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس بل کو جلد سے جلد منظور کروانے کیلئے اسمبلی کا خصوصی اجلاس بالایا جائے۔انہوں نے کہاکہ آصفہ کا خون ناحق ضرور رنگ لائے گا، اللہ کے دربارہ میں دیر ہے مگر اندھیر نہیں،اس معصوم بچی کاخون ناحق رائیگاں نہیں جائے گا۔ اس بچی کو کا درندگی کا نشانہ بنانے والے شیطان جہنم واصل ہوں گے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ پوری عالم انسانیت، امن پسند اقوام، بڑے بڑے ممالک اور دنیا کے سب بڑے جمہوری ادارے اقوام متحدہ نے بھی اس معصومہ کی وحشیانہ اورسفاکانہ قتل و عصمت ریزی کی مذمت و ملامت کی اور اس معصومہ کے والدین کو انصاف دینے کا مطالبہ کیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات ہے کہ مرکزی قیادت اور ملک کو اس سانحہ پر خاموشی توڑنے اور آواز اُٹھانے میں 2ماہ کا وقت لگا۔اتنی دیر میں اس معصومہ کے والدین کو انصاف بھی فراہم ہونا چاہئے تھا۔اُن کا کہنا تھا کہ ملک میں فرقہ پرستی کا رجحان غالب ہوگیا ہے اور ریاست بھی اس کی لپیٹ میں آچکی ہے۔ ہم نے اس بات کی پہلی ہی نشاندہی کی تھی کہ بھاجپا اور پی ڈی پی کا اتحاد سے ریاست میں فرقہ پرستی کے رجحان کو عام کریگا اور اس کا خمیازہ یہاں کے لوگوں کو بھگتنا پڑے گا۔ وقت نے ہماری پیش گوئی من وعن ثابت کردی۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ آج ملک کے اکثریتی آبادی کا 70فیصدی حصہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ملک کی سالمیت، اتحاد اور آزادی اُس صورت میں قائم و دائم رہ سکتی ہے جب ملک کی اقلیتوں خصوصاً25کروڑ مسلمانوں کو ساتھ ساتھ چلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی ناکامی پر ملک بھر میں چرچہ جاری ہے ۔ پی ڈی پی کی مہربانی سے ہماری ریاست پر جی ایس ٹی لاگو ہوا، جس کی بدولت نہ صرف یہاں کے تاجر، صنعت کار اور دستکار بری طرح متاثر ہوئے بلکہ ریاست کی مالی خودمختاری بھی نیلام ہوکر رہ گئی۔صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ ہم ہماری جماعت آج بھی دفعہ370کی مکمل بحالی﴿اٹانومی﴾ کے مطالبے پر قائم و دائم ہیں اور ہم مرکزی سرکار اور لیڈرشپ پر زور دیتے ہیں کہ وہ بنا مزید دیر کئے ریاست کی خصوصی پوزیشن کو بحال کرے۔ جو ریاست کے لوگوں کو آئین ہند کے تحت حاصل ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں