چھتر گل کنگن کا زخمی نوجوان دم توڑ بیٹھا علاقے میں کہرام ، آخری رسومات میں بھاری تعداد میں لوگوں کی شرکت

کنگن/ رحیم رضوان/ کے این ایس/ 21سالہ عامرحمید 12روزبعدزندگی کی جنگ ہارگیا۔خبرپھیلتے ہی کنگن سمیت کئی علاقوں میں غم واندوہ کی لہردوڑ گئی اورسبھی علاقوں میں تعزیتی ہڑتال رہی ۔معصوم نوجوان عامرحمیدکی تجہیزوتکفین میں شامل مرودزن اوربچوں وبزرگوں نے اسلام وآزادی کے حق میں نعرے بلندکئے ۔ 3اپریل کوفورسزکارروائی کے دوران شدیدزخمی ہونے والاکنگن کا21سالہ نوجوان عامرحمدلون ولد عبدالحمید ساکنہ چھترگل 12روزتک موت /جاری صفحہ نمبر۱۱پر
وحیات کی کشمکش میں مبتلائ رہنے کے بعداتوارکی صبح صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں زندگی کی جنگ ہارگیا،اوراس طرح سے حالیہ دنوں میں ہوئی شہری اموات کے واقعات میں ایک اورنام درج ہوا۔صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کے میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ڈاکٹرفاروق جان نے بتایاکہ رواں ماہ کی 3تاریخ کوکنگن کے نوجوان عامرحمیدکویہاں نازک حالت میں لایاگیاتھا،اوراُسکوفوری علاج ومعالجہ کے بعدانتہائی نگہداشت والے وارڈمیں وینٹی لیٹرپرکھاگیاتھا۔انہوں نے کہاکہ مذکورہ نوجوان کی حالت میں بتدریج بہتری آرہی تھی اوراب وہ بات بھی کرسکتاتھا۔ڈاکٹرفاروق نے ذرائع ابلاغ کوبتایاکہ عامرکی حالت میں بہتری آنے کے بعداُسکووارڈمیں منتقل کیاگیاتاہم اتوارکی صبح اچانک یہ نوجوان دم توڑبیٹھا۔اُدھر21سالہ نوجوان عامرحمیدکے دم توڑجانے کی خبرپھیلتے ہی وسطی ضلع گاندربل میں تشویش اورغم واندوہ کی لہردوڑگئی ،اوراتوارکوصبح سے ہی کنگن سمیت کئی علاقوں میں تعزیتی ہڑتال کی گئی ۔اس معصوم نوجوان کی یادمیں سبھی بازاراورکاروباری مراکزنیزکارخانے وغیرہ بندہوگئے جبکہ سڑکوں سے مسافرگاڑیاں بھی غائب ہوئیں ۔اکیس سالہ عامرحمیدکی میت کوجب صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ سے آبائی علاقہ چھترگل کنگن پہنچایاگیاتویہاں کہرام مچ گیا۔خواتین کی سینہ کوبی اورآہوزاری سے پوراماحول غمناک بن گیاجبکہ اس دوران نزدیکی دیہات سے لوگوں کی آمدآمدکاسلسلہ شروع ہوگیا۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ عامرکی موت واقعہ ہوجانے کی خبرپھیلتے ہی جوق درجوق لوگ چھترگل پہنچناشروع ہوگئے اورنمازجنازہ میں ہزاروں کی تعدادمیں لوگ شامل ہوئے ۔ہزاروں مردوزن اوربچوں وبزرگوں پرمشتمل جلوس جنازہ کے دوران نعرے بازی اورآہ وزاری کے مناظردیکھنے کوملے ۔بتایاجاتاہے کہ نمازجنازہ اوربعدازاں عامرکی میت کوآبائی مقبرہ میں سپردلحد کئے جانے کے دوران یہاں جمع ہوئے لوگوں نے اسلام اورآزادی کے حق میں نعرے بلندکئے جبکہ انہوں نے فورسزکے ہاتھوں اکیس سالہ معصوم نوجوان عامرحمیدکے جاں بحق ہوجانے کیخلاف بھی سخت غم وغصہ ظاہرکیا۔اتوارکوصبح لگ بھگ ساڑھے گیارہ بجے جب عامرحمیدکوسینکڑوں اشکبارآنکھوں کے سامنے سپردلحدکیاگیاتوچھترگل کنگن میں نعروں کی گونج سنائی دی جبکہ اس دوران خواتین کی چیخ پکارسے علاقہ ماتم کدے میں تبدیل ہوگیا۔اُدھرحریت﴿گ﴾ چیئرمین سیدعلی گیلانی نے ٹیلی فونک خطاب کے دوران معصوم عامرکوشاندارالفاظ میں خراج پیش کرتے ہوئے الزام لگایاکہ فوج اورفورسزکوکشمیریوں کی نسل کشی کاکام سونپاگیاہے اوروہ موقعہ ملتے ہی اپنایہ مذموم کام سرانجام دیتے ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں