کشمیر میں نہ فوج اور نہ ہی جنگجو بندوق سے کچھ حاصل کرسکتے ہیں فوجی سربراہ جنرل بپن راوت کا انکشاف، کہا قیام امن کیلئے مل بیٹھ کر کوئی راستہ نکالنا پڑے گا کشمیر میں امن وامان کی صورتحال بے قابو یا اُبتر نہیں بلکہ اس میں بگاڑھے ، ہمیں کشمیریت کے فلسفے کو عام کرنا پڑے گا

نئی دہلی /آرمی چیف جنرل بپن راوت نے ’’بندوق اورتشددکولاحاصل عمل‘‘قراردیتے ہوئے واضح کیاہے کہ کشمیرمیں فورسزاورنہ جنگجوئوں کوکوئی منزل مل پائیگی۔جنرل راوت کاکہناتھاکہ وادی میں قیام امن کیلئے ہمیں مل بیٹھ کرکوئی راستہ نکالناپڑے گا۔انہوں نے وحدت میں کثرت کوکشمیریت کااصل نظریہ قراردیتے ہوئے خبردارکیاکہ پاکستان میں سرگرم قوتیں کشمیرمیں بدامنی کوجاری رکھنے پرتلی ہوئی ہیں ۔انہوں نے سرحدپارکی دراندازی کوبدامنی پھیلانے کی ایک کڑی سے تعبیرکرتے ہوئے کہاکہ جنگجوئوں کوجموں وکشمیرمیں دھکیلنے کی کوششیں جاری ہیں ۔جموں وکشمیرلائٹ انفنٹری ڈویژن کے 70ویں یوم تاسیس کے موقعہ پرنئی دہلی میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل بپن راوت نے کہاکہ جموں وکشمیربالخصوص وادی میں امن وامان کی صورتحال بے قابویاابترنہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیرمیں صورتحال ابترنہیں ہوئی یاہورہی ہے بلکہ اس میں کسی حدتک بگاڑیاتنائوپیداہواہے ۔ آرمی چیف کاکہناتھاکہ کشمیرکی صورتحال میں تنائویا بگاڑ پیدا ہونا /جاری صفحہ نمبر۱۱پر
کوئی اچھی بات نہیں ہے لیکن صورتحال جیسی بھی ہے ،اس پرسیکورٹی فورسزکامکمل کنٹرول ہے۔جنرل بپن راوت کاکہناتھا’کشمیرکے ماحول میںبگاڑپیداہواہے نہ کہ وہاں کی امن وامان کی صورتحال ابترہوئی ہے‘۔سرحدی علاقہ اوڑی اورحساس قصبہ سوپورسمیت کشمیرکے مختلف علاقوں میں ڈیوٹی انجام دے چکے فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے واضح کیاکہ کشمیرمیں تعینات فورسزاوروہاں سرگرم جنگجوئوں میں سے کسی کواپنی مطلوبہ منزل نہیں ملے گی ۔آرمی چیف نے بندوق اورتشددکولاحاصل عمل قراردیتے ہوئے کہاکہ نہ فورسزاورنہ ہی ملی ٹنٹ اپنی منزل یامقصدحاصل کرسکتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ کشمیرمیں قیام امن کیلئے ہمیں مل بیٹھ کرکوئی راستہ نکالناپڑے گا۔جنرل راوت نے کہاکہ یہی ایک راستہ ہے جوہم سب کوکامیابی کی جانب لے سکتاہے ۔فوج کے سربرا ہ نے اپنی تقریرکے دوران یہ واضح کیاکہ کشمیرمیں بندوق اورتشددسے کسی کوکچھ حاصل نہیں ہونے والاہے ۔انہوں نے کہاکہ کچھ کشمیری نوجوان بھٹک گئے ہیں یاکہ اُنھیں بہکایاگیاہے لیکن بقول آرمی چیف جلدایسے نوجوانوں کوبھی اسبات کااحساس ہوجائیگاکہ اُنھیں بندوق اورتشددسے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔انہوں نے کہاکہ کشمیری نوجوانوں کوبنیادپرستی اورشدت پسندی کی تعلیم دیکربندوق کاراستہ اپنانے کی ترغیب دی گئی۔آرمی چیف نے تاہم کہاکہ بھٹکے اوربہکائے گئے نوجوانوں کی تعدادکافی کم ہے۔جنرل بپن راوت کے بقول’کشمیرمیں ایک مخصوص اورچھوٹاگروپ بھٹک گیاہے جبکہ کشمیریوں کی غالب اکثریت امن پسندہے اوروہ ہندوستان کیساتھ رہناچاہتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کچھ نوجوانوں کے بہک یابھٹک جانے کے تناظرمیں یہ کہناٹھیک نہیں کہ کشمیرکی صورتحال بگڑچکی ہے یاکہ وہاں کی صورتحال ابترہوئی ہے۔انہوں نے کشمیریت کے فلسفے کوعام کرنے پرزوردیتے ہوئے کہاکہ یہ فلسفہ ہمیں وحدت میں کثرت کاپیغام دیتاہے ۔آرمی چیف کاکہناتھاکہ ہمیں کشمیریت اوراسکے فلسفے کوواپس عام کرناہوگا،کیونکہ یہی فلسفہ کشمیرمیں بحالی امن کی راہ ہموارکرسکتاہے ۔انہوں نے کہاکہ کشمیری نوجوانوں تک کشمیریت کے فلسفے اورپیغام کوپہنچاناپڑے گاتاکہ وہ اصل بات سمجھ سکیں اوروادی میں بحالی امن میں اپنارول اداکرسکیں ۔جنرل بپن راوت نے کشمیریت کے احیائے نوکی وکالت کرتے ہوئے کہاکہ سب لوگ ملکرکام کریں توکشمیریت کوپھرسے عام کیاجاسکتاہے ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں ایک ساتھ مل بیٹھ کرراستہ نکالناہوگاتاکہ کشمیروادی میں پھرسے امن وامان کاماحول قائم ہوسکے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں