کیرالہ میں کٹھوعہ سانحہ پر ہڑتال اور جھڑپیں مظاہرین آر ایس ایس اور بی جے پی مخالف نعرے بلند کرتے رہے، درجنوں گرفتار

نئی دہلی /کٹھوعہ سانحہ کے خلاف بیرون ریاست کیرالہ میں ہڑتال کے دوران احتجاجی مظاہرے ہوئے جس دوران پولیس نے درجنوں احتجاجی مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔ ضلع کٹھوعہ میں پیش آئے آبروریزی اور قتل معاملے کے خلاف جہاں ریاست میں تنائو اور کشیدگی کا ماحول برقرار ہے اورزندگی کے مختلف شعبہ جات سے وابستہ لوگ اس شرمناک واقعہ کے خلاف صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں وہیں سوموار کو بھارت کے شہر کیرالہ میں بھی واقعہ کے خلاف سخت احتجاج کیا گیا۔/جاری صفحہ نمبر۱۱پر
 اطلاعات کے مطابق کیرالہ میں آصفہ نامی 8سالہ بچی کی فرقہ پرستوں کے ہاتھوں آبروریزی اور قتل کو لے کر مکمل ہڑتال کی گئی جس دوران پورے شہر میں زندگی کی جملہ سرگرمیاں معطل رہی۔ احتجاج کے دوران کیرالہ میں دکانیں، تجارتی ادارے، تعلیمی ادارے، سرکاری و غیر سرکاری ادارے بند کرنے کے علاوہ سڑکوں سے ٹریفک مکمل طور پر غائب رہا۔ کیرالہ کی مشہورسیاسی جماعت ’سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا‘ کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کئے اور آر ایس ایس اور بی جے پی کے خلاف نعرہ بازی کی۔ اس دوران مظاہرین نے مختلف علاقوں میں کھلے دکانات کو تالہ بند کروادیا اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے گاڑیوں کی آمدروفت مکمل طور روک دی۔ احتجاجی مظاہروں کو دیکھتے ہوئے کیرالہ پولیس نے مظاہرین کا تعاقب کرتے ہوئے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا سے وابستہ درجنوں کارکنان کو حراست میں لیا۔ اطلاعات کے مطابق احتجاج کے دوران سب سے زیادہ اثر ضلع کوزی کھوڑی، کنور، مالہ پورم، پالہ کڑ اور تیرووننتھ پورم میں دیکھنے کو ملا جو ذرائع کے مطابق سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کا گڑ مانے جاتے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں