سانحہ کٹھوعہ کے معاملے پر سپریم کورٹ کی ریاستی حکومت کو نوٹس  متاثرہ کنبے اور خاتون وکیل کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت

نئی دہلی/جموں /کے این ایس/’’ضلعی کورٹ کٹھوعہ تاسپریم کورٹ آصفہ کیس کی گونج‘‘کے دوران متاثرہ کنبے کے افراد،اُنکی خاتون قانونی صلاحکاراورملزمان نے3 الگ الگ عرضیاں دائرکیں ۔چیف جسٹس جسٹس دیپک مشراکی سربراہی والے سپریم کورٹ کے سہ رکنی بینچ نے یہاں دائرعرضی کوزیرسماعت لانے کے بعدریاستی سرکارسے آصفہ کیس کوکسی اورجگہ منتقل کئے جانے کے بارے میں جواب طلب کیاجبکہ سپریم کورٹ نے ریاستی سرکارکومتاثرہ کنبے اورخاتون وکیل کومکمل تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے اس حساس معاملے کی اگلی سماعت کیلئے27اپریل کی تاریخ مقررکردی ۔اس دوران آصفہ کیلئے انصاف کی لڑائی لڑنے والی خاتون وکیل دیپکاسنگھ راجاوت نے بنیادپرست ہندئوگروپوں سے عزت اورزندگی کوسنگین خطرہ لاحق ہونے کااندیشہ ظاہرکرتے ہوئے کہا ’ مجھے نہیں معلوم کہ میں کب تک زندہ رہوں گی، میری عصمت محفوظ نہیں ہے‘‘۔ 8سالہ آصفہ کے والداورمتاثرہ کنبے کی خاتون وکیل کوتحفظ فراہم کئے جانے اوراس حساس کیس کوبیرون ریاست مثلاًچندی گڑھ منتقل کئے جانے سے متعلق عرضیاں سوموارکی صبح سپریم کورٹ کی ایک سینئرخاتون قانون داں ایڈووکیٹ اندرا جئے سنگھ نے داخل کیں ۔چیف جسٹس جسٹس دیپک مشراکی سربراہی والے سہ رُکنی بینچ جس میں جسٹس اے ایم خانوالکاراورجسٹس ڈی وائے چندرچوڑ بھی شامل ہیں ،نے دائرعرضی کومنظورکرتے ہوئے اسکی سماعت کیلئے دن کے2بجے کاوقت مقررکیا۔سہ رُکنی بینچ نے اس معاملے کوانتہائی حساس اورنازک مانتے ہیں ،سوموارکوہی اسکی سماعت عمل میں لانے کااعلان کیا۔میڈیارپورٹس /جاری صفحہ نمبر۱۱پر
کے مطابق متاثرہ کنبے اوراُنکی مقامی وکیل ایڈووکیٹ دیپکاسنگھ راجاوت کی جانب سے دائرعرضی کے حق میں دلائل پیش کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی خاتون قانون داں اندرا جئے سنگھ نے عدالت عظمیٰ کوبتایاکہ آصفہ عصمت دری اورقتل کیس کی سماعت نیزمتاثرہ خاندان اوراُنکی قانونی صلاحکارکیلئے چونکہ کٹھوعہ میں ماحول ٹھیک نہیں ہے ،اسلئے اس کیس کوکسی اورجگہ منتقل کرنے کیساتھ ساتھ آصفہ کے اہل خانہ اورخاتون وکیل کومکمل تحفظ فراہم کیاجائے ۔آصفہ کے اہل خانہ کا مطالبہ ہے کہ اس کیس کی سماعت کٹھوعہ کے مجسٹریٹ کورٹ میں نہ ہوبلکہ اس کی سنوائی چنڈی گڑھ میں کرائی جائے۔متاثرہ کے خاندان کی جانب سے عدالت عظمیٰ کی سینئر خاتون وکیل اندرا جئے سنگھ نے کہا کہ غیر جانبدارانہ جانچ کے لئے وہاں﴿کٹھوعہ﴾ کا ماحول صحیح نہیں ہے۔اس دوران آصفہ کے والد نے بتایاکہ اُنھیں جموں وکشمیرپولیس کی جانب سے کی جارہی تحقیقات پرمکمل بھروسہ ہے لیکن وہ صرف اس بنائ پراس کیس کوکٹھوعہ سے باہرکسی اورعدالت میں منتقل کراناچاہتے ہیں کیونکہ اُنھیں اوراُن کے اہل خانہ وہاں محفوظ نہیں ہیں ۔عدالت عظمیٰ کے سہ رُکنی بینچ نے دوپہر2بجے ان عرضیوں کوزیرسماعت لانے کے دوران خاتون وکیل ایڈووکیٹ اندرا جئے سنگھ کے دلائل پھرسنے ۔خاتون وکیل کی جانب سے ظاہرکردہ خدشات کافوری نوٹس لیتے ہوئے چیف چیف جسٹس دیپک مشراکی سربراہی والے تین رکنی بینچ نے جموں وکشمیر سرکارکے نام نوٹس جاری کرتے ہوئے آصفہ کیس کوکسی اورعدالت میں منتقل کئے جانے سے متعلق جواب طلب کیاجبکہ عدالت عظمیٰ نے حکومت جموں وکشمیرکویہ ہدایت بھی دی کہ آصفہ کے گھروالوں اوراُنکی خاتون قانونی صلاحکارایڈووکیٹ دیپکاسنگھ راجاوت کومکمل تحفظ فراہم کیاجائے ۔ادھرسپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے سابق سیکرٹری ایڈووکیٹ اشوک ارورہ نے نئی دہلی سے کے این ایس کوفون پربتایاکہ عدالت عظمی نے آصفہ کیسکے سلسلے میں جموں و کشمیر حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے سماعت کے درمیان جموں و کشمیر حکومت کو متاثرہ خاندان اور وکیل کو تحفظ فراہم کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔عدالت عظمیٰ میں اس پر اگلی سماعت 27 اپریل کو ہوگی۔اُدھرسوموارکی صبح آصفہ کیس سے متعلق عرضی دائرہونے کے بعد متاثرہ خاندان کی وکیل دیپکا راجاوت نے کہا کہ انہیں قتل اور عصمت دری کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ آٹھ سالہ بچی کے خاندان کی طرف سے مقدمہ کی پیروی کرنے والی وکیل دیپکا سنگھ راجاوت کا کہنا تھا ’’ مجھے نہیں معلوم کہ میں کب تک زندہ رہوں گی‘‘۔انہوں نے کہاکہ میری عصمت محفوظ نہیں ہے۔ ایڈووکیٹ دیپکاکے بقول ’’مجھے کل دھمکی ملی تھی کہ ہمیں معاف نہیں کریں گے‘‘۔ ایک نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ سپریم کورٹ کو بتائیں گی کہ اُن کی جان کو خطرہے۔دیپکاراجاوت نے کہا ’’مجھے ان لوگوں نے الگ تھلگ کر دیا ہے۔ عدالت میں پریکٹس کرنے تک سے روکا جا رہا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ آگے کیسے گزارا کرئوں گی‘‘۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لڑکی کیلئے انصاف کی لڑائی لڑنے پر مجھے ہندئو مخالف کہہ کر سماج سے نکالنے کی بات کہی جا رہی ہے‘‘۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں