فوجی سربراہوں کے  حوصلہ افزا بیانات

بھارت اور پاکستان کے فوجی سربراہوں کے حالیہ بیانات سیاسی حلقوں میں اس وقت بحث کا موضوع بن گئے ہیں اور لوگوں کی اکثریت ان بیانات کو صورتحال میں تبدیلی کے حوالے سے مثبت قرار دے رہی ہیں۔ سیاسی اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ملکوں کی حکومتیں اپنے اپنے فوجی سربراہوں کی تجاویز پر عمل پیرا ہونگی تو واقعی امن بھی قایم ہوگا اور مسلئے کے حل کیلئے راہیں بھی نکل آینگی ۔کیونکہ جیسا کہ اس سے پہلے بھی ان ہی کالموں میں کہا جا چکا ہے کہ جب تک امن قایم نہیں ہوگا کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا ہے ۔ دونون ملکوں کے فوجی سربراہ کوئی معمولی افسر نہیں بلکہ پوری ملک کی فوج کے سربراہ ہیں اور ان کی تجاویز کو کسی بھی صورت میں رد نہیں کیاجاسکتا ہے کیونکہ ان کی باتوں میں وزن ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا دونوں ملکوں کی حکومتیں ان کی طرف سے پیش کردہ تجاویز کو عمل جامہ پہناتی ہیں یا نہیں۔ جہاں تک بھارت کے فوجی سربراہ جنرل بپن راوت کا تعلق ہے تو انہوں نے دوٹوک الفاظ میں حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں فوج اور نہ ہی جنگجو بندوق سے کچھ حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ بقول ان کے بندوق کسی بھی مسلئے کا حل نہیں اسی طرح پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ مسایل کے تصفیہ کی خاطر جامع مذاکرات لازمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہند پاک کے درمیان تلخیوں کو دور کرنے کیلئے جامع اور بامعنی مذاکرات کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ پرامن ماحول میں رہنا چاہتا ہے کیونکہ آپسی مسایل مل بیٹھ کر ہی حل کئے جاسکتے ہیں۔ دوسری جانب بھارت کے فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے قیام امن کیلئے مل بیٹھ کر کوئی راستہ نکالنا ہی پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ وحدت میں کثرت کو کشمیریت کا اصل نظریہ قرار دیا اور کہا کہ پاکستان میں بعض قوتیں کشمیر میں بد امنی پھیلا رہی ہیں۔ انہوں نے کشمیر کی موجودہ صورتحال کے بارے میں کہا کہ اس ریاست اور خاص طورپر وادی میں امن و قانون کی صورتحال ابتر نہیں بلکہ اس میں بگاڑ ہے ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پاکستان کے ساتھ مسایل کے حل کیلئے مذاکرات کو ناگزیر قرار دیا۔ دونوں ملکوں کے فوجی سربراہوں کے بیانات پر جہاں عام لوگوں نے اطمینان کا اظہار کیا وہیں پرحریت رہنما میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق نے اطمینان کا اظہار کیااور کہا کہ کشمیری عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ اگر مسئلہ پر امن طور پر حل ہوجاے تو برصغیر میں امن لوٹ آئے گا اور لوگ خوش حال زندگی بسر کرینگے ۔عوام اب اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ دونوں ملکوں کی حکومتیں اپنے اپنے فوجی سربراہوں کے بیانات پر کس طرح کا ردعمل ظاہر کرینگی۔ عوامی حلقے پر امید ہیں کہ بھارت اور پاکستان کی حکومتیں اس بارے میں مثبت کاروائی کرکے دیرینہ حل طلب مسایل کو حل کرنے کیلئے اعتماد سازی اقدامات کے تحت مذاکرات کا سلسلہ شروع کریں گی تاکہ برصغیر امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں