جاپان میں چوٹی کے بیوروکریٹ کی برخاستگی کا فیصلہ

ٹوکیو،16اپریل ﴿رائٹر﴾ جاپانی وزیراعظم شنجو آبے نے کئی خواتین صحافیوں کے جنسی استحصال کے ملزم وزارت خزانہ میں تعینات ایک چوٹی کے بیوروکریٹ کو برخاست کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ روزنامہ 'سانکئی' نے آج یہ اطلاع دی۔ اہم ہفتہ وار میگزین شنچو نے جمعرات کو اپنے شمارہ میں ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ وزارت خزانہ میں تعینات ڈپٹی ایڈمنسٹریٹیو افسر جونیچی فوکودا ایک خاتون صحافی کے ساتھ ایک بار میں گئے اور وہاں خاتون سے کہاکہ میں آپ کو گلے لگانا او ر چومنا چاہتا ہوں۔ اس افسر پر پہلے بھی کئی خواتین نے الزامات لگائ ہیں اور یہ مسئلہ وزیراعظم (ع) آبے اور وزیر خزانہ تارو آسوں کے لئے نیا سردرد بن سکتا ہے کیونکہ ان دونو ں پر حال ہی میں کنبہ پروری اور دوستوں کو فائدہ پہنچانے کے الزامات لگے ہیں۔ اس درمیان آج صبح دفتر پہنچنے پر فوکودا نے بتایا کہ وہ آج دن میں ایک بیان جاری کرے گا اور اس معاملہ میں تھوڑا صبر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ صحافیوں کے استعفی سے وابستہ سوال پر فوکودا نے کہاکہ ابھی استعفی دینے کا سوال ہی نہیں ہے ۔ میگزین نے ان خواتین صحافیوں کے ناموں کو عام نہیں کیا ہے ۔ عالمی سطح پر چلائی جارہی 'می ٹو' مہم کے بعد کئی خواتین نے دفتر اور دیگر مقامات پر ہوئے جنسی استحصال کی شکایتیں درج کرائی ہیں۔ اس کے بعد درجنوں افسران کو یا تو ملازمت سے نکال دیا گیا یا انہوں نے استعفی دے دیا ہے ۔ کئی معاملات میں پولیس نے جانچ شروع کردی ہے ۔ وزیر خزانہ نے پارلیمانی پینل کو اس معاملہ پر بتایا کہ فوکودا نے ان سے ملاقات کرکے اپنا موقف پیش کیا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں