بی جے پی کا ایک اور لیڈر باغی ہوگیا پارٹی کے خلاف ریلی منعقد کرنے کا اعلان کیا

جموں/یو این آئی /جموں وکشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں کے حلقہ انتخاب مڑھ سے بھارتیہ جنتا پارٹی ﴿بی جے پی﴾ کے رکن اسمبلی سکھ نندن کمار چودھری نے ریاستی کابینہ میں حالیہ پھیربدل میں نظرانداز کئے جانے کے خلاف باغیانہ رخ اختیار کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ وہ نظرانداز کئے جانے کے خلاف اتوار کو یہاں ایک ریلی کا انعقاد کریں گے۔ سکھ نندن چودھری نے یو این آئی کو بتایا ’میں پارٹی کا ایک سینئر لیڈر ہوں۔ میرے حلقہ انتخاب کے لوگ مجھے کابینہ میں شامل نہ کئے جانے کے خلاف ناراض ہیں‘۔ انہوں نے بتایا ’آپ کو میرے حلقہ انتخاب کے لوگوں کی ناراضگی ریلی میں دیکھنے کو ملے گی‘۔ سکھ نندن سابق پی ڈی پی بی جے پی مخلوط حکومت جس کی قیادت مرحوم مفتی محمد سعید کررہے تھے، میں کابینی وزیر تھے۔ سکھ نندن نے بتایا ’میرے حلقہ انتخاب کے لوگ ناراض ہیں۔ اُن سے رنگ روڑ کی تعمیر کے لئے زمینیں لی گئیں لیکن انہیں مناسب معاوضہ ادا نہیں کیا گیا‘۔ انہوں نے بتایا ’وہ چاہتے ہیں کہ انہیں بھی زمین کے عوض اتنا ہی معاوضہ دیا جائے جتنا کشمیر میں دیا گیا‘۔ دریں اثنا بی جے پی کے دوسرے لیڈر و سابق وزیر چودھری لال سنگھ 20 مئی کو ضلع کٹھوعہ کے ہیرا نگر تحصیل میں ایک ریلی کا انعقاد کریں گے جس میں وہ کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کی سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ دہرائیں گے۔ لال سنگھ نے گذشتہ ماہ پارٹی کی ہدایت پر ریاستی کابینہ سے استعفیٰ دیا۔ مستعفی ہوجانے کے دن سے لیکر اب تک لال سنگھ نے متعدد احتجاجی پروگراموں کا انعقاد کرکے کٹھوعہ واقعہ کی سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ کیا۔ کٹھوعہ واقعہ کی وجہ سے ریاست کی مخلوط حکومت میں شامل دو بھاجپا وزرائ چندر پرکاش گنگا اور لال سنگھ کو گذشتہ روز اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ بی جے پی کے اِن دو وزرائ نے یکم مارچ کو ضلع کٹھوعہ میں کمسن بچی کے عصمت دری و قتل کیس کے ملزمان کے حق میں ہندو ایکتا منچ کے بینر تلے منعقد ہونے والے ایک جلسہ میں شرکت کرکے سول و پولیس انتظامیہ کے عہدیداروں کو گرفتاریاں عمل میں نہ لانے کی ہدایات دی تھیں۔
 کٹھوعہ میں جلسہ سے خطاب کے دوران ان وزرائ نے ایک مخصوص کیمونٹی کے لوگوں کو یقین دلایا تھا کہ کیس کو سی بی آئی کے حوالے کیا جائے گا۔ تاہم دونوں مستعفی وزرائ کا کہنا ہے کہ انہیں پارٹی کی طرف سے وہاں جانے کے لئے کہا گیا تھا۔ واضح رہے کہ ضلع کٹھوعہ کے تحصیل ہیرانگر کے رسانہ نامی گاؤں کی رہنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی جو کہ گجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھتی تھی، کو 10 جنوری کو اُس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ گھوڑوں کو چرانے کے لئے نذدیکی جنگل گئی ہوئی تھی۔ اس کی لاش 17 جنوری کو ہیرا نگر میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی تھی۔ کرائم برانچ پولیس نے گذشتہ ہفتے واقعہ کے سبھی 8 ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں پیش کیا۔ کرائم برانچ نے اپنی تحقیقات میں کہا ہے کہ آٹھ سالہ بچی کو رسانہ اور اس سے ملحقہ گاؤں کے کچھ افراد نے عصمت ریزی کے بعد قتل کیا۔ تحقیقات کے مطابق متاثرہ بچی کے اغوا، عصمت دری اور سفاکانہ قتل کا مقصد علاقہ میں رہائش پذیر چند گوجر بکروال کنبوں کو ڈرانا دھمکانا اور ہجرت پر مجبور کرانا تھا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ کمسن بچی کو اغوا کرنے کے بعد ایک مقامی مندر میں قید رکھا گیاتھا جہاں اسے نشہ آور ادویات کھلائی گئیں اور قتل کرنے سے پہلے اسے مسلسل درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔ یو این آئی

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں