ایگریکلچر اور ہارٹیکلچر شعبوں کو بچانا ہوگا

اس سے قبل ان ہی کالموں میں اس بات کا تذکرہ کیاجاچکا ہے کہ اب کشمیر میں صرف زراعت اور ہارٹیکلچر ایسے دو سیکٹر رہ گئے ہیں جن پر اب یہاں کی معیشیت کا دارومدار ہے کیونکہ ٹوارزم سیکٹر تو کب کا دم توڑ چکا ہے اور اب بہت کم تعداد میں سیاح وادی کا رخ کرتے ہیں۔ اس موسم میں یہاں کوئی بھی ہوٹل، گیسٹ ہاوس یا ہاوس بوٹ خالی نظر نہیں آتا تھا۔ صحت افزا مقامات پر اس قدر سیاحوں کارش رہتا تھاکہ تل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی تھی آج شاید پانچ فی صد ہوٹل بھی بک نہیں ہونگے کیونکہ جہاں بھی نظر جاتی ہے تو ہوٹل، گیسٹ ہاوس اور ہاوس بوٹ خالی نظر آتے ہیں۔ ڈل میں وہ گہما گہمی نہیں۔ بلیوارڈ خالی خالی ۔اب ان حالات میں صرف زراعت اور ہارٹیکلچر دو ایسے سیکٹر ہیں جن پر وادی کی معیشیت کا دارومدار ہے لیکن بے رحم موسم نے تو لوگوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ سنیچر کے طوفانی باد و باراں نے شمالی اور جنوبی کشمیر میں تو میوے کی فصل تباہ کرکے رکھدی جبکہ دوسرے اضلاع میں بھی موسم نے فصلوں پر قہر ڈھایا۔ بتایا جاتا ہے کہ خاص طور پر گلاس کی فصل تو بقول فروٹ گروورس زمین بوس ہوگئی جبکہ سیبوں کی فصلوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جہاں تک زرعی سیکٹر کا تعلق ہے تو اس کو بھی موسم نے زبردست متاثر کیا ہے۔ چنانچہ اس پر ماہرین نے تشویش ظاہر کی اور باغ مالکان کے نا م ایڈوائیزی جاری کردی گئی جس میں ان سے کہاگیا کہ وہ دواپاشی کے سابق شیڈول کو منسوخ کرکے اس نئے شیڈول پر عمل درآمد کریں جو نئے سرے سے ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ موسم کی قہر سامانیوں کی وجہ سے پیش آیا۔ اس سے کئی روز قبل لنگیٹ اور آس پاس کے علاقوں میں اس قدر ژالہ باری ہوئی کہ میوے کی بات نہیں پتے بھی گرگئے اور چھوٹی چھوٹی ٹہنیاں بھی ٹوٹ گئیں اس طرح اس ژالہ باری سے میوے کی فصلوں کو ہی نہیں بلکہ درختوں کو بھی نقصان ہوا ہے ۔ سنیچر کی شام جو طوفانی بادوباراں نے بھی تباہی مچادی اس سے نہ صرف میوے اور دوسری فصلوں کو نقصان پہنچا ہے بلکہ اس سے ہزاروں درخت جڑ سے اکھڑ گئے ، مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا اور درجنوں مکانوں اوردکانوں کے علاوہ دیگر ڈھانچوں کی چھتیں تک اڑ گئیں۔ نقصان کا اندازہ کروڑوں لگایا جارہا ہے۔ فروٹ گروورس اور دوسرے زمیندار زبردست مالی نقصان سے دو چار ہوگئے ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ریاست کو بھی مالی طور نقصان سے دوچار ہونا پڑسکتا ہے اسلئے ریاستی حکومت کو چاہئے کہ وہ ماہرین سے تجاویز طلب کرکے میوہ اگانے والوں اور دوسرے زمینداروں کو دواپاشی اور کھاد وغیرہ کے بارے میں مفید مشورہ دیں تاکہ وہ بچی کچھی فصلوں اور میوے کو بچاسکیں۔ فروٹ گروورس کو اس مقصد کیلئے امداد بھی فراہم کی جائے اس کے علاوہ ان کو رعایتی داموں پر جراثیم کش ادویات اور کھاد وغیرہ کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ وہ جتنا بھی ہوسکے فصل اگا سکیں۔ اور اپنے اہل و عیال کیلئے روزی روٹی کا بندو بست کرسکیں۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیاجاچکا ہے کہ اب یہی دو سیکٹر یعنی ایگریکلچر اور ہارٹیکلچر ایسے شعبے رہ گئے ہیں جن پر اس ریاست کی معیشیت کا دارومدار ہے اور اگر اس جانب بھی کسی قسم کی غفلت شعاری برتی گئی تو پھر اس ریاست کو اقتصادی بحران سے کوئی نہیں بچاسکتا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں