رمضان المبارک کی شروعات سے پہلے سیاحتی مقامات پر لوگوں کی بھیڑ

سرینگر /سی این آئی /ماہ رمضان کا با برکت اور مقدس ماہ شروع ہونے سے قبل ہی وادی کشمیر کے شمال و جنوب سے لوگوں اور اسکولی بچوں کے ساتھ ساتھ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کا سیلاب سیاحتی مقامات پر اُمڑ آیا اور وادی کشمیر کے تمام سیاحتی مراکز پر سیاحوں کا بھاری رش دیکھنے کو ملا ۔ماہ رمضان کی شروعات سے پہلے وادی کشمیر کے بیشتر سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات سیاحتی مراکز پر سیر و تفریح کیلئے روانہ ہوئے ۔اتوارکی صبح سے ہی مختلف علاقوں کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات چھوٹی بڑی مسافر گاڑیوں و سکولی بسوں میں الگ الگ سیاحتی مقامات کی طرف جاتے نظر آئے۔ سرینگر کے علاوہ وادی کے دوسرے علاقوں کے سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات بھی ایکسکرشن پر چلے گئے۔ سٹی رپورٹر نے کے مطابق ڈل جھیل کے کنارے واقع مشہور و تاریخی مغل باغات میں بھی سینکڑوں طلبہ و طالبات و ان کے اساتذہ سیر کرتے نظر آئے جبکہ اس حوالے سے ان باغات میں غیر معمولی بھیڑ نظر آئی ۔اُدھر پہلگام ، سونہ مرگ، گلمرگ ، یوس مرگ ، ویری ناگ، ککر ناگ اور اچھہ بل جیسے مشہور سیاحتی مقامات میں بھی اتوار کو غیر معمولی رش رہا اور ان مقامات میں سینکڑوں سکولی بچوں نے لطف لیا۔ نمائندوں نے بتایا کہ اب جبکہ ماہ رمضان کی آمد آمد ہے تو اس کو دیکھتے ہوئے وادی کے تعلیمی اداروں نے ایکسرشن جانے کا کئی دن پہلے ہی فیصلہ کیا تھا ۔ نمائندے کے ساتھ بات کرتے ہوئے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد نے بتایا کہ اب جبکہ ماہ رمضان کا مقدس ماہ شروع ہو رہا ہے جس کے پیش نظر انہوں نے ایک دن قبل ہی سیاحتی مراکز کی سرو تفریح کا من بنا کر ان صحت افزا مقامات کی سیر کی ۔جنوبی کشمیر کے مشہور و معروف سیاحتی مرکز پہلگا م سے نمائندے نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ آج صبح سے سیاحوں کی بھاری تعداد دیکھنے کو ملی جن میں مقامی سیاحوں کے علاوہ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی کافی تعداد شامل تھی ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں