سرینگر ہوائی اڈے کو رات کی پروازوں کیلئے تیار کیاجارہاہے وزیراعلیٰ نے سرینگر اور جموں ہوائی اڈوں کو بڑھاوادینے کے کام کا جائزئہ لیا امن وقانون کی صورتحال پر اعلیٰ پولیس حکام کیساتھ بھی تبادلہ خیال کیا

سرینگر/سرینگر ہوائی اڈے پر عنقریب ہی شبینہ لینڈنگ سہولت دستیاب ہوگی جس کے لئے متعلقہ ایجنسیوں کی طرف سے تمام تیاریاں کی جارہی ہیں۔یہ جانکاری آج وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی صدارت میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 دی گئی۔اس سہولت کے شروع ہونے سے ریاست میں ایک طرف سیاحتی سیکٹر کو دوام حاصل ہوگا اور دوسری طرف ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ روابط میں بھی اضافہ ہوگا۔علاوہ ازیں ریاست کی اقتصادیات کو بھی تقویت حاصل ہوگی۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ شہری ہوا بازی کے ڈائریکٹوریٹ جنرل نے شبینہ پروازیں چلانے کے لئے لازمی اجازت دی ہے اور اس سلسلے میں ائیر پورٹ اتھارٹی آف انڈیا اور دیگر ریاستی ایجنسیاں ہوائی اڈے پر بنیادی ڈھانچے کو فروغ دی رہی ہیں۔وزیر اعلیٰ نے تمام کام ایک ماہ کے اندر اندر مکمل کرنے کی ہدایت دی تا کہ اس سہولت کو وادی میں سیاحتی سیزن کو مد نظر رکھتے ہوئے جلد از جلد شروع کیا جاسکے۔ انہوں نے ائیر پورٹ پر شبینہ پروازوں کے لئے بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کو پورا کرنے کے لئے3.86 کروڑ روپے فوری طور سے واگذار کرنے کی ہدایت د۔محبوبہ مفتی نے متعلقہ ایجنسیوں سے کہا کہ وہ ہمہامہ سے سرینگر ہوائی اڈے کو جانے والی سڑک پر ٹریفک کی گنجانیت کو کم کرنے کے لئے بھی اقدامات اُٹھائیں۔انہوں نے گیٹ پر مزید باڈی سکینر نصب کرنے کے امکانات تلاش کرنے ، گیٹ سے ٹرمنل عمارت تک سڑک کی کشادگی اور ہوائی اڈے کے اندر مسافروں کو بسوں کے ذریعے لے جانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔وزیر اعلیٰ نے جموں ہوائی اڈے کو وسعت دینے کے کام کا جائیزہ لیتے ہوئے رن وے کو وسعت دینے کا کام جلد از جلد شروع کرنے کی ہدایت دی جس کے لئے ٹینڈر پہلے ہی جاری کئے گئے ہیں۔ انہوں نے ڈویثرنل کمشنر جموں اور جموں ائیر پورٹ اتھارٹی سے کہا کہ وہ اراضی کے تبادلے کے لئے لوازمات پورا کریں تا کہ رن وے پر وسعت کا کام جلد از جلد شروع کیا جاسکے۔میٹنگ میں جانکاری دی گئی کہ بیلی چرانہ میں 375 کنال اراضی پہلے ہی محکمہ پشو پالن کو رن وے کے لئے درکار اراضی کے بدلے دی گئی ہے اور باقی ماندہ زمین محکمہ کو چٹھہ میں دی جائے گی۔محبوبہ مفتی نے جموں ائیر پورٹ حکام اور ڈویثرنل انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ جموں ائیر پورٹ پر لینڈنگ کے اوقات5 بجے سے آگے لے جانے کے امکانات تلاش کر کے اس حوالے سے اقدامات اُٹھائیں۔وزیر اعلیٰ نے جموں صوبائی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ جموں میں گرین فیلڈ ائیر پورٹ تعمیر کرنے کے لئے جگہ کی نشاندہی کریں۔چیف سیکرٹری بی بی ویاس، ڈی جی پی ڈاکٹر ایس پی وید، فائنانشل کمشنر مکانات و شہرقی کے بی اگروال، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹری ، کشمیر جموں کے صوبائی کمشنرز، ائیر پورٹ اتھارٹی کے نمائندے اور کئی دیگر اعلیٰ افسران بھی میٹنگ میں موجود تھے۔ادھروزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے پولیس محکمہ کے افسروں سے کہا ہے کہ وہ روز مرہ کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے محتاط اور پیشہ وارانہ لائحہ عمل اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس عوامی اعتماد کا ایک ادارہ رہا ہے اور وہ یہ کام اب بھی نبھا رہا ہے۔وزیر اعلیٰ نے ان خیالات کا اظہار آج پولیس افسروں کے ایک گرؤپ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا۔محبوبہ مفتی نے پولیس افسروں کو صلاح دی کہ وہ ریاست میں جرائم کی سطح کم کرانے کے لئے کمیونٹی پولیسنگ اختیار کریں اور اس مزید عام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے سے نوجوانوں کو صحیح سمت دینے اور انہیں غلط راہ پر چلنے سے دور رکھنے میں مدد ملے گی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ فرائض کی انجام دہی کے دوران کو نسلنگ، صلاح اور استفسار پر توجہ مرکوز کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی پاسداری کرنے والے عام لوگوں کے ساتھ فعال اور ہمدردانہ لائحہ عمل اختیار کرنے سے سماج سے جرائم پسند عناصر خود بخود الگ تھلگ ہوجائیں گے۔ محبوبہ مفتی نے چھان بین کرنے اور جرائم کا پتہ لگانے کے لئے روائتی طور طریقوں کے بجائے جدید طریقوں کو استعمال میں لانے کی ہدایت دی۔وزیر اعلیٰ نے افسروں سے کہا کہ وہ نوجوانوںسے نمٹتے وقت سماج میں ایک مثبت کردار ادا کرنے کا راستہ اختیار کریں جس سے وہ تشدد کے راستے کی طرف راغب نہیں ہوں گی اور ان کی صلاحیتوں کو سماج کی بقائ کے استعمال میں لایا جاسکے گا۔محبوبہ مفتی نے افسروں سے کہا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں عوامی رابطے کو بڑھائیں اور وہ لوگوں کی ضروریات و مشکلات کے بارے میں بھی جانکاری حاصل کریں۔ انہوں نے افسروں سے کہا کہ وہ گاؤں کے بُزرگوں اور کمیونٹی لیڈروں کے ساتھ برابر رابطے میں رہیں اور انہیں ضرورت پڑنے پر ہر ممکن مدد فراہم کریں۔ڈی جی پی ڈاکٹر ایس پی وید، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اے جی میر اور مُنیر احمد خان، آئی جی پی کشمیر زون ایس پی پانی اور کئی دیگر پولیس افسران بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں