مرکز کی استدعا پر سپریم کورٹ نے شنوائی 3ماہ تک روک دی کشمیر کیلئے نامزد کئے گئے مذاکرات کا ر کی تقرری کے بعد کیس کی سماعت سے بات چیت کا عمل متاثر ہوسکتا ہے:مرکزی حکومت کا موقف

سرینگر/ کے این ایس / ’’آرٹیکل 35اے کا تنازعہ مزید 3ماہ کے لئے ٹل گیا ‘‘کیو نکہ سپریم کو رٹ آف انڈیا کے بنچ نے مر کزی سر کار کی استدعا پر نازک و حساس کیس کی سماعت 16اگست تک ملتوی کر دی ۔مر کزی سر کار کی جانب سے یہ مو قف اپنایا گیا ہے کہ کشمیر کے لئے مزاکرات کار کی نامزد گی کے بعد مزاکراتی عمل جاری ہے لہذا اس وقت اس کیس کی کوئی سماعت مزاکراتی عمل پر اثر انداز ہوگی۔اس دوران جموں و کشمیر کی طرف سے کیس لڑنے والے وکیل ایڈوو کیٹ رکیش ڈیوی ویدی نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے پہلے ہی اس معاملے کو سلجھا یاہے اور فیصلہ سنایا ہے کہ آر ٹیکل370کے تحت ریاست کو خصوصی اختیارات حا صل ہیں۔اب سپریم کورٹ آف انڈیا میں/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
جموں کشمیر سے متعلق پرا پرٹی ایکٹ کے تحت دفعہ 35اے کے خلاف دائر مختلف در خواستوں پر 16اگست کو سماعت ہو گی ۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے آرٹیکل 35اے کے خلاف دائر در خواستوں کی سماعت مزید 3ماہ کے لئے مو خر کرتے ہو ئے کہا کہ اب اس نازک و حساس کیس کی سماعت 16اگست کو ہو گی ۔سو موار کو اس اہم اور نازک معاملے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے بنچ نے بتایا کہ اس حوالے سے 6اگست کو سماعت ہو گیاور تب تک فریقین اس حوالے سے درخواستیں مکمل کریں ۔مر کزی سر کار نے سپریم کورٹ کو اس اہم اور نازک معاملے کی سماعت کو ملتوی کر نے کی استدعاکرتے ہو ئے بتایا کہ مر کزی سر کار نے ریاست جموں کشمیر کے لئے مزاکرات کار کی تعینات عمل میں لائی ہے اور وہ ریاست جموں کشمیر میں مختلف فریقین کے ساتھ بات چیت کے عمل میں مصروف ہے لہذا اس وقت اس کیس پر کوئی بھی سماعت یا فیصلہ مزاکراتی عمل پر اثر انداز ہو گا ۔ ایڈوو کیٹ رکیش ڈیوی ویدی نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے پہلے ہی اس معاملے کو سلجھا یاہے اور فیصلہ سنایا ہے کہ آر ٹیکل370کے تحت ریاست کو خصوصی اختیارات حا صل ہے۔انہوں نے عدالت اعظمیٰ سے اپیل کی کہ اگر اس مسئلے پر شقوں پر تشریح کی ضرورت ہے تو اس حوالے سے کوئی عبوری فیصلہ نہیں ہو نا چاہئے ۔جموں کشمیر کے پشتینی اور مستقل باشندوں کو حاصل خصوصی حقوق سے جڑے آئین ہند کی دفعہ 35اے کے خلاف کم سے کم 4عرضیوں کی بنیاد پر دائر کیس کی اہم ترین سماعت کو 6اگست تک ملتوی کیا گیا ۔آرٹیکل 35اے کے خلاف سال 2014میں دہلی کی ایک این جی او﴿وی دی سٹیزنس﴾ نے درخواست دائر کی تھی اور ریاست جموں کشمیر کو آرٹیکل 370کی شق 35اے کے تحت حاصل خصوصی اختیار کو عدالت اعظمیٰ میں چلینچ کیا اور اسکے بعد آرٹیکل 35اے کو کالعدم کر نے کے لئے سپریم کورٹ میں مزید 3درخواستیں دائر کی گئی جس کے بعد 30اکتوبر کو اس کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ میں سماعت ہو ئی تاہم بعد میں اس حساس معاملے پر سپریم کورٹ نے مرکزی سر کار کی استدعا پر اس کیس کی سماعت کو 3ماہ کے لئے مو خر کر دیا تھا ۔اس وقت بھی مر کزی سر کار نے سپریم کورٹ میں یہ مو قف اختیار کیا تھا کہانہوں نے ریاست میں مختلف فریقین کے ساتھ بات چیت کے لئے مزاکرات کا کا تعین کیا ہے اور اس حساس معا ملے پر سماعت سے مزاکراتی اور امن عمل میں رخنہ پڑ سکتا ہے جس کے بعد عدالت اعظمیٰ نے اس کیس کی عماعت کو 3ماہ کے لئے مو خر کر دیا تاہم آج دوسری بار بھی مر کزی سر کار نے یہی مو قف اپنایا ہے کہ ریاست کے لئے تعینات مر کزی سر کار کا خصوصی مزاکرات کا ر اس وقت بھی بات چیت کے عمل میں مصروف ہے لہذا اس کیس کی سماعت بات چیت کے عمل میں رخنہ ڈال سکتا ہے لہذا اس کیس کی سماعت کو مذید وقت کے لئے مو خر کیا جائے جس کے بعد عدالت عظمیٰ کے بنچ نے اس کیس کی سماعت کو 16اگست تک کے لئے مو خر کر دیا ہے ۔خیال رہے کہ آرٹیکل 35اے کے تحت جموں کشمیر کے پشتینی اور مستقل باشندوں کو خصوصی اختیارات حاصل ہیںجبکہ ریاستی اسمبلی کو یہ اختیارات دیا گیا ہے کہ وہ ریاست کے حدود میں رہنے والے لوگوں کو پشتینی یا مستقل رہائشی ہو نے کا تعین کر سکتی ہے ۔آئینی وقانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ صدارتی ریفرنس کے زریعے اس اہم دفعہ کو ختم کیا جاتا ہے تو بیرون ریاست باشندے بھی یہاں کی اسٹیٹ سبجکٹ حاصل کر نے کے ساتھ ساتھ یہاں پر زمین و جائیداد خرید نے کا حق پا سکتے ہیں ۔ستمبر2017میں پہلی مرتبہ دفعہ35Aکیخلاف دائرعرضیوں کوعدالت عظمیٰ میں زیرسماعت لایاگیاتاہم مرکزی سرکارکے پیشکش کردہ موقف کہ جموں وکشمیرکیلئے نامزدکردہ مذاکرات کارکی سرگرمیوں کونقصان پہنچ سکتاہے ،کی بنائ پرسپریم کورٹ نے اس معاملے کی سماعت موخرکرتے ہوئے تین ماہ کیلئے شنوائی روک دی تھی ۔سوموارکے روزعدالت عظمیٰ کے ایک خصوصی بینچ نے جموں وکشمیرسے جڑایہ معاملہ زیرسماعت لاتے ہوئے اسکی سماعت کوپھرتین ماہ کیلئے ٹالتے ہوئے اگلی سماعت کیلئے16اگست2018کی تاریخ مقررکردی۔خیال رہے دفعہ35اے دراصل دفعہ370کی ہی ایک ذیلی دفعہ ہے۔بتایا جارہا ہے کہ1953میں جموں وکشمیر کے اْس وقت کے وزیراعظم شیخ محمد عبداللہ کی غیرآئینی معزولی کے بعد وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی سفارش پر صدارتی حکم نامے کے ذریعہ آئین میں دفعہ35Aکو بھی شامل کیا گیا، جس کی رئو سے بھارتی وفاق میں کشمیر کو ایک علیحدہ حیثیت حاصل ہے جبکہ آئین ہندکی دفعہ35A کے تحت صرف ریاست جموں وکشمیرکے پشتنی باشندوں کویہاں کی زمین وجائیدادکے مالکانہ حقوق حاصل ہیں اوریہ کہ کوئی بھی غیرریاستی شہری جموں وکشمیرمیں زمین وجائیدادخرید نہیں سکتا۔ 10اکتوبر 2015کو جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں دفعہ370کو ناقابل تنسیخ و ترمیم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ﴿دفعہ35A﴾ جموں وکشمیر کے موجودہ قوانین کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں