صحافیوں کی نئی تنظیم جے اینڈ کے ایڈیٹرس فورم کی تشکیل

سرینگر/ ریاست کے تینوں خطوں سے تعلق رکھنے والے 40مدیران کی ایک ہنگامی میٹنگ سرینگر میں منعقد ہوئی جس دوران ’’جے اینڈ کے ایڈیٹریس فورم ‘‘ کو تشکیل دیا گیا۔ فورم میں روز ناموں ، میگزینز اور نیوز ایجنسیز سے تعلق رکھنے والے مدیران شامل ہیں ۔ اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران صحافیوں کو درپیش مسائل پر گفت شنید ہوئی اور معاملات کو حکومت کے ایوانوں تک پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ تینوں خطوں لداخ ، جموں اور کشمیر صوبوں سے تعلق رکھنے والے مدیران نے متفقہ طورپر فورم کا قیام عمل میں لایا ۔ میٹنگ /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
کے دوران محسوس کیا گیا کہ اخبارات کے تئیں حکومت کی سر د مہری سم قاتل ہے اگر چہ حکومت نے مسائل کے حل کی خاطر یقین دہانی کرائی تاہم آج تک ان پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ شرکا ئ نے صحافیوں کے مسائل کے ساتھ ساتھ ریاست جموںوکشمیر میں میڈیا انڈسٹری کو مضبوط کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے پر کا فیصلہ لیا ۔ میٹنگ کے بعد ایڈہاک کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ روز نامہ آفتاب کے مدیر ظہور ہاشمی کو کنوینئر ، کشمیر نیوز سروس کے مدیر اعلیٰ محمد اسلم کو کو کنوینئر نامز کیا گیا ۔ میٹنگ کے دوران گیارہ ممبران پر مشتمل عبوری کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ کمیٹی میں بلاگ صحافت کے طارقی علی میر ، ایشین میل کے مدیر اعلیٰ رشید راہل ، روز نامہ گھڑیال کے ارشید رسول ، کشمیر لیڈر میگزین کے ظہور گلزار ، کشمیر ٹرولر کے نثار پیرزادہ ، کشمیر سکین کے چسفیدہ شاہ ، برئٹر کشمیر کے فاروق وانی ، لداخ ریچ لہیہ کے رچن آنگ مو ، اڑان کے تنویر احمد خطیب شامل ہیں۔ کمیٹی میں روز نامہ رائزنگ کشمیر کے بھی عہدیدار ہیں۔ میٹنگ میں لداخ ، جموں اور کشمیر سے شائع ہونے والے اخبارات کے مدیران نے شرکت کی ۔ میٹنگ میں رائزنگ کشمیر ، آفتاب ، کشمیر میگزین، کے این ایس ، جے کے این ایس ، ایشین میل ، برائٹر کشمیر ، گھڑیال ، انڈین ٹائمز ، کشمیر ٹھنڈر ، لیڈر میگزین ، گلوبل کشمیر ، گلوبل پوسٹ ، مقصد ، کشمیر میڈیا نیٹ ورک ، بے لاگ صحافت ، سرینگر ٹوڈے ، کشمیر کنوینئر ، کشمیر ڈائی جسٹ ، کشمیر سکین ، ایشین ایکسپرس ، صبح کشمیر ، پرشیش کشمیر ، جیو کشمیر ، سرینگر میل ، نگہبان، کشمیر امن ، کشمیر گلوری ، کشمیر ریز ، انسائڈ کشمیر ، آواز خلق ، کشمیر کلیرن ، کشمیر ہاری زون ،راجوری سے دستور ، جموں سے اُڑان ، لداخ سے رانگل اور کشمیر ٹرولر کے سے وابستہ مدیران نے شرکت کی ۔ بیان کے مطابق اپروڈ اور نان اپروڈ اخبارات کیلئے بھی فورم کے دروازے کھلے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں