زینہ گیر سوپور میں چھاپے پانچ نوجوان گرفتار ی کے بعد انٹروگیشن سینٹر منتقل جماعت اسلامی کے رہنما اور اسکے بیٹے کو گرفتاری کے بعد ڈسٹرکٹ جیل اننت ناگ بھیج دیاگیا

سرینگر/ عابد نبی /کے این این/ سوپور میں شبانہ چھاپہ مار کارروائیوں ‘کے دوران 5نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا ۔ذرائع کے مطابق پولیس نے نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں محمد اشرف میر نامی ڈرائیور کی ہلاکت کے خلاف سوپور قصبہ میں پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کردیا ۔ادھر جماعت اسلامی لیڈر اور اِسکے فرزند کو ضلع جیل اسلام آباد منتقل کیا گیا ۔ پولیس نے شمالی کشمیر میں پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران مزید پانچ نوجوانوں کو حراست میں لیکر تھانہ بند کیا ۔اس سلسلے میں ملی تفصیلات کے مطابق زینہ گیر سوپور علاقے میں پولیس نے شبانہ چھامار کارروائیاں انجام دیں ،جس دوران نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ عمل میں لائی گئی ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ کئی روز/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 نوجوانوں کی گرفتاری کا سلسلہ شروع کردیا ۔معلوم ہوا ہے کہ سوپور کے ہارون علاقے میں متعدد رہائشی مکانوں پر چھاپے ڈالے ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں محمد اشرف میر نامی شہری جوکہ پیشہ سے ڈرائیور تھا کو ہلاک کرنے کے بعد سوپور میں پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کردیا ۔یاد رہے کہ اس حملے میں مہلوک شخص کی بیوی زخمی ہو ا تھا ۔یہ واقعہ 4مئی 2018کو پیش آیا ۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو پوچھ تاچھ کے لئے حراست میں لیا گیا اور پاچھ تاچھ مکمل ہونے کے بعد اُنہیں رہا کیا جائیگا ۔ادھر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جماعت اسلامی لیڈر کے فر زند کو ضلع جیل اسلام آباد منتقل کیا گیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام نیگلزار احمد بٹ ساکنہ ارنیہال جوکہ جماعت اسلامی کے تحصیل صدر ہیں اور اسکے فرزند عاقب احمد بٹ کو 10مئی کے روز حراست میں لیا گیا تھا ،کو اسلام آباد ضلع جیل منتقل کیا گیا ۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں باپ بیٹے سنگبازی کے واقعات میں ملوث ہیں اور سنگبازی کے الزام میں ہی دونوں کو حراست میں لیا گیا ۔پولیس افسر نے بتایا کہ دونوں کے خلاف ایف آئی آر زیر نمبر 66/2018زیر دفعات147،148،149،336،427،332،341ا ور307آر پی سی کے تحت پولیس اسٹیشن بجبہاڑہ میں کیس درج ہے ۔ان کا کہناتھا کہ دونوں باپ ،بیٹے کو سوموار کے روز جیل منتقل کیا گیا ۔ضلع مجسٹریٹ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ ابھی تک باپ ،بیٹے کے خلاف کوئی پی ایس اے آرڈر جاری نہیں ہوا ہے ۔یاد رہے کہ جمعہ کو پولیس نے جماعت اسلامی کے ضلع صدر سرینگر بشیر احمد لون اور تحریک حریت کے ضلع صدر سرینگر محمد رفیق شاہ کو پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا ۔یاد رہے کہ بشیر احمد لون جاں بحق اسسٹنٹ پروفیسر جنگجو ڈاکٹر محمد رفیع کی نماز ِ جنازہ کی پیشوائی کی تھی ۔جاں بحق جنگجو کشمیر یونیورسٹی میں تعینات تھے اور 6مئی کو وہ شوپیان میں جاں بحق ہوئے تھے ۔سید علی گیلانی نے بھی پروفیسر کے جلوس جنازہ سے ٹیلی فونک خطاب کیا تھا ،تحریک حریت لیڈر کے ہاتھ میں موبائیل فون تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں لیڈران کو نفرت انگیز تقاریر کرنے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں