بیج بہاڑہ میں پولیس گاڑی پر حملہ ، سپاہی لقمہ اجل وسیع علاقے کی ناکہ بندی اور گھرگھر تلاشیاں  دربگام پلوامہ اور وتر گام رفیع آباد میں جنگجو مخالف اوپریشن ، بھاری تعداد میں فورسز دستے تعینات

سرینگر/نیازحسین /جے کے این ایس / یو پی آئی /پازالپورہ بجبہاڑہ میں عسکریت پسندوں نے پولیس گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو اہلکار شدید طورپر زخمی ہوئے جن میں سے بعد میں ایک کی اسپتال میں موت واقع ہوئی ۔ ڈی آئی جی جنوبی کشمیر نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ حملہ آوروں کو تلاش کرنے کیلئے آس پاس علاقوں میں جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ ادھر شمالی کشمیر میں دوسرے روز بھی جنگجو مخالف آپریشن جاری رہا جس دوران مکینوں کے شناختی کارڈ باریک بینی سے چیک کئے گئے۔ معلوم ہوا ہے کہ وتر گام رفیع آباد میں سیکورٹی فورسز نے کئی گھنٹوں تک گائوں کی تلاشی لی ۔ پازالپورہ بجبہاڑہ میں اُس وقت سنسنی پھیل گئی جب تاک میں بیٹھے جنگجوئوں نے پولیس پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار دو اہلکار خون میں لت پت ہو گئے ۔ نمائندے کے مطابق ہیڈ کانستیبل عبدالرشید اور ایس پی او بلال احمد کو اگر چہ فوری طور پر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے بلال احمد کو مردہ قرار دیا۔ معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹروں نے عبدالرشید کی حالت نازک قرار دے کر سرینگر منتقل کیا ۔ نمائندے کے مطابق سیکورٹی فورسز نے آس پاس علاقوں کو محاصرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے پازالپورہ بجبہاڑہ اور اُس کے ملحقہ علاقوں کو سیل کرکے لوگوں کے چلنے پھرنے پر پابندی عائد کی ہے کیونکہ سیکورٹی فورسز کو اطلاع ملی ہے کہ جنگجو پاس کے ہی رہائشی علاقے کی طرف بھاگ گئے۔ معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے ایک درجن کے قریب علاقوں میں پہرے بٹھا دئے جبکہ گھر گھر تلاشی کارروائی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پولیس اہلکار ٹاٹا سومو میں سوار تھے کہ جنگجوئوں نے اُن پر فائرنگ کی ۔ ڈی آئی جی جنوبی کشمیر امیت کمار کے مطابق جنگجوئوں نے پازالپورہ بجبہاڑہ کے قریب جموںوکشمیر پولیس گاڑی پر فائرنگ کی جس کی وجہ سے دو اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے بعد میں ایک کی موت واقع ہوئی ۔ ڈی آئی جی کے مطابق سیکورٹی فورسز نے حملہ آوروں کو تلاش کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا ہے۔ ادھر عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
ملنے کے بعد 32آر آر ، ایس او جی رفیع آباد اور سی آر پی ایف کی مشترکہ پارٹی نے وتر گام رفیع آباد علاقے کو محاصرے میں لے کر گھر گھر تلاشی لی جس دوران مکینوں سے پوچھ تاچھ کی گئی ۔ مقامی ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت نے اعلیٰ الصبح گائوں کو محاصرے میں لے کر لوگوں کے چلنے پھرنے پر پابندی عائد کی اور گھر گھر تلاشی کے دوران شناختی کارڈ باریک بینی سے چیک کئے گئے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔ ادھرجنوبی کشمیر ضلع پلوامہ کے دربگام کو گزشتہ رات فوج نے محاصرہ میں لیکر تلاشی کاروائی عمل میں لائی ۔ فوج کی44 راشٹریہ رائفلز نے دوران شب پلوامہ کے مضافاتی دیہات دربگام کو محاصرے میں لیکر تلاشی کاروائی شروع کردی۔جونہی فوج نے علاقے میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کیلئے تلاشی کاروائی شروع کی جس دوران مکانوں کی باریک بنی سے تلاشی لینے کے علاوہ مکینوں سے پوچھ تاچھ کی گئی اور انکے شناختی کارڈ چک کرلئے گئے بتایا جاتا ہے کہ جب رات دیر گئے فوج اور جنگجووں کا کہیں پر آمنا سامنا نہیں ہوا تو انہوں نے علاقے کا محاصرہ ختم کرکے واپسی کی راہ لی۔ادھر فوج کی راشٹریہ رائفلز نے ہی گزشتہ شام این گنڈ پلوامہ میں جنگجوؤں کی مصدقہ اطلاع ملنے پر علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشی کاروائی عمل میں لائی۔نمایندیکے مطابق فوج اور دیگر فورسز نے علاقے کی تمام داخلی وخارجی راستوں پر خاردار تار بچھاکر ان راستوں کو مکمل طور سیل کرکے رکھ دیا تاہم جب کئی گھنٹوں تک فوج اور جنگجوؤں کے مابین کوئی آمنا سامنا نہیں ہوا۔مقامی ذرائع کے مطابق فوج نے مزار شہدا پر نصب جنگجوئوں کے بینروں کو تہس نہس کیا۔مقامی لوگوں میں فورسز کی اس کاروائی کو لیکر زبردست غم وغصہ کا اظہار پایا جارہا ہے۔ دریں اثنا جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے وتر گام گنڈ کریم خان گائوں کو محاصرے میں لے کر گھر گھر تلاشی لی جس دوران مکینوں کے شناختی کارڈ باریک بینی سے چیک کئے گئے۔ معلوم ہوا ہے کہ عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا جس دوران آس پاس علاقوں کو بھی سیل کیا گیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں