پابندی کے باوجود روسی سفیدوں کی بھر مار عام لوگ پریشانیوں سے دوچار، بچے اور بزرگ مختلف بیماریوں کے شکار

سرینگر / سی این آئی/عدالت عالیہ اور نتظامیہ کی پابندی کے باوجود بھی شہر سرینگر سمیت وادی کے شمال و جنوب میںخاص کر اسکولوں اور کالجوں کے ساتھ ساتھ جھیل ڈ ل کے ارد گرد روسی ساخت کے سفیدوں کے درخت کثرت سے پائے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں ان درختوں سے گر نے والی روئی سے لوگ مختلف بیماریوں کے شکار ہو رہے ہیں ۔ادھر عوامی حلقوں نے اس بات پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کی پابندی کی وجہ سے درختوں کی ہر جگہ بھر مار پائی جاتی ہے اور متعلقہ حکام کی انکھوں پر پٹی بندھی ہو ئی ہے ۔ وادی میں روسی ساخت کے درختوں کے اُگانے اور اس کی خریدوفروخت پرمکمل پابندی اگر چہ حکومت نے عائد کر رکھی ہے لیکن متعلقہ محکمہ اس حکمنامے کو عملی جامہ پہنانے پر ناکام ہو چکا ہے کیونکہ وادی کے اطراف و اکناف میں روسی سفیدے کے درخت برابر موجود ہے اس دوران جھیل ڈل کے ارد گرد ہزاروں کنال پھر پھیلی سڑک اور اراضی پر سفیدے کے درخت کثرت سے موجود ہے جس کی وجہ سے جھیل ڈل کے پانی پر منفی اثر پڑ رہا ہے ۔ اس ضمن میں وادی کے شمال و جنوب سے سی این آئی نمائندوں نے اطلاع دی ہے کہ روسی سفیدے کے درختوں کی ہر جگہ بھر مار ہے ۔نمائندوں کے مطابق پبلک مقامات کے ساتھ ساتھ اسکولوں اور کالجوں کے آس پاس سفید روسی درختان بڑی تعداد میں موجود ہے جس کی وجہ سے ان روسی سفیدے درختوں سے گر نے والے روئی کی وجہ سے طلبہ کی بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ عام لوگ نزلہ ،کھانسی اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔نمائندوں کے مطابق اگرچہ انتظامیہ اور ضلعی سطحوں پر ان روسی روسی سفیدے کے درختوں کے اُگانے پر پابندی عائد کردی لیکن زمینی سطح پر اس حکمنامے کو عملی جامہ پہنانے میں حکومتی ادارے مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں اور متعلقہ محکمہ جات کی آنکھوں پر جیسے پڑی بندھی ہوئی ہو ۔ عوامی حلقوں میں اس بات کو لیکر سخت غم و غصہ کی لہر پائی جاری ہے کہ انتظامیہ پابندی کے باوجود بھی ان روسی سفیدے کے درختوں پر روک لگانے میں بُری طرح ناکام ہو چکی ہے ۔
جس کی وجہ سے لوگ پریشانیوں میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پبلک مقامات سے دور انتظامیہ اسکولوں اور کالجوں کے ارد گرد ان درختوں کو ہٹانے میں کوئی مثبت اقدامات عمل میں نہیں لاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے بچوں کی پڑھائی پر بُر ا اثر پڑ رہا ہے اور اکثر بچے اسکو ل جانے کے بجائے گھروں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔نمائندوں کے مطابق عوامی حلقوں نے ایک بار پھر ریاستی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان درختوں کی مکمل روک لگانے کے لئے مثبت اقدامات کرے تاکہ لوگوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں