ماہ صیام اور لوگوں کے مسائل

استقبال رمضان کے سلسلے میں تیاریاں زوروں پر ہیںکیونکہ یہ مہینہ رب کائینات کی طرف سے مسلمانوں کیلئے تحفہ ہے جس میں لوگوں کو بے شمار نیکیاں کرنے کابھر پور موقعہ فراہم کیاگیا ہے۔ اس مبارک مہینے میں لوگ عبادت و ریاضت کے علاوہ غریبوں مسکینوں اور محتاجوں کی حتی الامکان مدد و اعانت کرکے اللہ کی بار گاہ میں سرخروئی حاصل کرتے ہیں۔ اس مہینے میں لوگوں کی ضروریات بڑھ جاتی ہیں اور ان کیلئے اشیائے ضروریہ کی فراہمی کیلئے انتظامیہ کو ضروری اقدامات کرنے ہونگے۔ خاص طورپر راشن گھاٹوں پر غلے کی بر وقت فراہمی کا موثر طور پر انتظام کیاجانا چاہئے۔ آج کل راشن گھاٹوں پر نہ تو آٹا اور نہ ہی کھانڈ دستیاب ہے۔ اس بارے میں حال ہی میں محکمے کے سربراہ کا بیان اخباروں میں شایع ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جب تک لداخ اور کرگل کیلئے چھ مہینے کا راشن بشمول آٹا اور کھانڈ کا کوٹہ پورا نہیں کیاجائے گا تب تک وادی میں متذکرہ بالا دونوں اشیا ئ کی فراہمی کا کوئی بندو بست نہیں کیاجاسکتا ہے چنانچہ اس بیان سے لوگوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی کیونکہ کسی خطے کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے دوسرے اور سب سے بڑے اوراہم خطے کے لوگوں کو پریشان نہیں کیاجاسکتا ہے اسلئے اب جبکہ ماہ مبارک اسی ہفتے سے جلوہ افروز ہورہا ہے راشن گھاٹوں پر غلے کے ساتھ ساتھ کھانڈ اور آٹے کی فراہمی بھی یقینی بنائی جانی چاہئے۔ تاکہ روزہ داروں کو اس حوالے سے کسی بھی طرح کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے ساتھ ہی مارکیٹ میں بھی اشیائے ضروریہ کی فراہمی کا پورا پوراانتظام کیاجانا چاہئے اس بارے میں عام تاجروں پر بھی بھاری ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں۔ خاص طور پر جہاں انتظامیہ کو اپنی طرف سے یہ دیکھنا چاہئے کہ آ یا لوگوں کو مناسب داموں پر ضروری اشیا فراہم کی جارہی ہیں یا نہیں وہاں تاجر انجمنوں کے زعما اور دوسرے عہدیداروں کو بھی تاجروں اور دکانداروں پر یہ بات گوش گذار کرنی چاہئے کہ وہ اس مبارک مہینے کے تقدس کے پیش نظر ناجایز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی جیسی قبیح حرکتوں سے اجتناب کرکے لوگوں کو رعایتی داموں پر اشیائے ضروریہ دستیاب رکھ کراجر عظیم کے حقدار بن جائیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ماہ مبارک شروع ہوتے ہی ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کیاجاتا ہے جس کی اب کی بار اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ حکومت سے زیادہ تاجر انجمنوںکے زعما ئ کو اس میں کلیدی رول نبھانا ہوگا تاکہ غربا ،مساکین اور مستحق لوگ بھی ماہ مبارک اور عید کی خوشیوں میں شامل ہوسکیں۔ اس مبارک مہینے میں چونکہ نماز تراویح کا سلسلہ رات دیر گئے تک جاری رہتا ہے اسلئے سٹریٹ لائیٹس کا بھر پور انتظام کیاجانا چاہئے تاکہ روزہ داروں کو کسی بھی قسم کی مشکل پیش نہ آسکے۔ سڑکوں اور گلی کوچوں کی صحت و صفائی کا بھی خصوصی انتظام کیاجاناچاہئے۔ اس کے ساتھ ہی آوارہ کتوں کو ٹھکانے لگانے کیلئے ابھی تک موثر اقدامات نہیں کئے گئے ہیں اسلئے کوئی ایسا طریقہ کار اختیار کیاجانا چاہئے جس کے نتیجے میں ان کی تعداد کم ہوجائے اور لوگوں کو ان سے نجات دلائی جاسکے۔ ا س مبارک مہینے میں بجلی اور پانی کی بلاخلل فراہمی بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے خاص طور پر سحری اور افطار کے وقت تو بجلی کی فراہمی ہر صورت میں لازمی ہے اسلئے متعلقہ حکام کو چاہئے کہ وہ اس مبارک مہینے میں بجلی اور پانی کی کٹوتی کا سلسلہ ترک کرکے روزہ داروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات بہم پہنچانے کیلئے کوششیں کریں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں