محبوبہ مفتی نے سیکورٹی اپریشنوں کو روکنے کے مرکز کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا اس عمل سے جموں وکشمیر کے لوگوں کے زخموں کا مداوا کرنے میں مدد ملنے کے علاوہ رمضان میں راحت کی سانس نصیب ہوگی

سرینگر/ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے رمضان المبارک کے دوران جموں وکشمیر میں سلامتی کاروائیوں کو روکنے کے مرکز کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔اپنے ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس فیصلے سے ریاست کے لوگوں کے زخموں پر مرہم لگانے میں کافی حد تک ممکن مدد ملے گی جو پچھلی تین دہائیوں کی غیر یقینی صورتحال اور تشدد کی مار جھیل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ مقدس مہینہ شروع ہونے پر اس طرح کا فیصلہ لینا وقت کی اہم ضرورت تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ وہ مہینہ ہے جس کے دوران صبر و تحمل اور نظم و ضبط کی اقدار کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو فیصلے سے راحت نصیب ہوگی کیوں کہ وہ کافی عرصہ سے اس کی تمنا کر رہے تھے۔محبوبہ مفتی نے مرکزی سرکار بالخصوص وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا یہ تاریخی فیصلہ لینے کے لئے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی اعلیٰ قیادت اور لوگوں کی طرف سے ریاستی /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 عوام کے درد کی داستان سُننے کی اب شروعات ہوچکی ہے جس کی وہ بارہا گذارش کرتی آئی ہیں۔وزیر اعلیٰ نے ریاست کے تمام متعلقین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس عمل کا مثبت رد عمل دکھائیں جس کا مقصد یہ ہے کہ ریاست کے عوام کو راحت دی جاسکے جنہوں نے اب تک کافی مسائل اور مصائب کا سامنا کیا ہے۔محبوبہ مفتی نے ریاست کی تمام سیاسی جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے حال ہی میں وزیر اعلیٰ کی طرف سے منعقد کی گئی کل جماعتی میٹنگ میں ایک آواز میں منافرت کے ماحول کو ختم کرکے وزیر اعلیٰ کے فیصلہ کی حمایت کی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں