مرکز نے ماہ صیام میں یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کردیا وزیراعلیٰ کی سیز فائر تجویز کو منظوری دی گئی امن مخالف اور تشدد پسند عناصر کو الگ تھلگ کرنیکی ضرورت :راج ناتھ سنگھ

نئی دہلی / یو این آئی / مرکزی حکومت نے وادی کشمیر میں قیام امن کی سمت میں ایک غیرمعمولی قدم اٹھاتے ہوئے ماہ رمضان کے دوران سیکورٹی فورسز کے آپریشنز کو معطل رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔ تاہم جنگجوؤں کی طرف سے حملے کی صورت میں سیکورٹی فورسز کو جوابی کاروائی کا حق دیا گیا ہے۔ اس غیرمعمولی فیصلے کا اعلان بدھ کو سہ پہر کے وقت مرکزی وزارت داخلہ کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر کیا گیا۔ وزارت داخلہ کے اس اعلان کے ساتھ ہی وادی میں جنگجوؤں کے خلاف جاری آپریشن آل آوٹ اور کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز پر بریک لگ گئی ہے۔ مرکز حکومت کے فیصلے کی اطلاع ریاستی وزیر اعلی محبوبہ مفتی کو بھی دے دی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ محترمہ مفتی نے ایک ہفتہ قبل 9 مئی کو سری نگر کے ایس کے آئی سی سی میں بلائی گئی کُل جماعتی اجلاس کی صدارت کرنے کے بعد کہا تھا کہ ماہ رمضان اور سالانہ امرناتھ یاترا کے پیش نظر مرکزی سرکار سے وادی کشمیر میں یکطرفہ فائر بندی کا مطالبہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جنگجو مخالف آپریشنوں سے عام لوگوں کو تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اُس وقت ریاست میں بی جے پی لیڈروں نے اس تجویز کی نکتہ چینی کی تھی لیکن آج مرکز نے اچانک سیکورٹی فورسز کو اس طرح کی ہدایت دے کر ریاست میں صورت حال کو معمول پر لانے کی سمت میں بڑا قدم اٹھایا ہے ۔ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر عمر عبداللہ نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ وزارت داخلہ کے /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
مطابق یہ فیصلہ اس لئے کیا گیا ہے تاکہ پرامن مسلمان بھائی اور بہن پرسکون ماحول میں رمضان المبارک کے مہینے میں عبادت کرسکیں۔ حکومت کو امید ہے کہ سبھی اس پہل میں تعاون کریں گے جس سے کہ مسلمان کسی پریشانی کے بغیر پرامن طریقے سے رمضان مناسکیں۔وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ بلاوجہ دہشت گردی اور تشدد پھیلا کر اسلام کو بدنام کرنے والے عناصر کو الگ تھلگ کرنا ضروری ہے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا ’ رمضان صحیح معنی میں عبادت، پاکیزگی اور امن کا مہینہ ہے ۔ اسلام کو بدنام کرنے والے رجحانات کو الگ تھلگ کرنا سب کی مشترکہ کوشش ہونی چاہیے ۔ حکومت چاہتی ہے کہ رمضان کے دوران سماج کے تمام طبقات بالخصوص پرامن مسلم سماج کو کسی پریشانی اور دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ تمام پرامن افراد مل کر دہشت گردوں کو الگ تھلگ کریں اور تشدد کی راہ پر گمراہ لوگوں کو امن کے راستے پر چلنے کے لئے مہمیز کریں‘ ۔ وزارت داخلہ کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر تین سلسلہ وار ٹویٹس میں کہا گیا ’مرکزی سرکار نے سیکورٹی فورسز سے کہا ہے کہ وہ رمضان المبارک کے دوران جموں وکشمیر میں آپریشنز نہ چلائیں۔ یہ فیصلہ اس لئے اٹھایا گیا ہے تاکہ ﴿کشمیری﴾ مسلمان رمضان المبارک کے روزے ایک پرامن ماحول میں رکھ سکیں۔ وزیر داخلہ شری راجناتھ سنگھ نے جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ کو فیصلے سے آگاہ کیا ہے‘۔ تاہم حملے کی صورت میں سیکورٹی فورسز کو جوابی کاروائی کا حق دیا گیا ہے۔ ٹویٹ میں کہا گیا ’حملے یا اگر معصوم لوگوں کی جانوں کو بچانا مقصود ہو تو سیکورٹی فورسز جوابی کاروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ سرکار کو توقع ہے کہ ہر ایک اس پہل میں اپنا تعاون کرے گا تاکہ مسلمان بھائی اور بہنیں رمضان کے روزے بغیر کسی تکلیف کے رکھ سکیں‘۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ اسلام کے نام پر بیوقوفانہ تشدد اور دہشت گردی کے مرتکب ہونے والی طاقتوں کو الگ تھلگ کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹویٹ میں کہا گیا ’ایسی طاقتوں کو الگ تھلگ کرنے کی ضرورت ہے جو بیوقوفانہ تشدد اور دہشت گردی کا مرتکب ہوکر اسلام کا نام بدنام کرتی ہیں‘۔ بتادیںکہ سری نگر میں 9 مئی کا کُل جماعتی اجلاس وادی میں ہلاکتوں کے نہ تھمنے والے سلسلے کی وجہ سے پیدا شدہ کشیدہ صورتحال کے تناظر میں بلایا گیا تھا۔ اس میں ریاست کی تمام جماعتوں بشمول نیشنل کانفرنس، کانگریس، بی جے پی، سی پی آئی ایم، پی ڈی ایف، عوامی اتحاد پارٹی اور ڈی پی این کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔ وزیر اعلیٰ محترمہ مفتی نے اجلاس کے اختتام پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا ’اجلاس میں یہ بات ہوئی کہ ہم سب کو حکومت ہندوستان سے اپیل کرنی چاہیے کہ رمضان کے مبارک مہینے ، سالانہ امرناتھ یاترا اور عیدالفطر کے پیش نظر فائر بندی کا اعلان کیا جائے‘۔ انہوں نے کہا تھا ’ جس طرح سے سابق وزیر اعظم واجپائی جی نے سنہ 2000 میں یہاں یکطرفہ فائر بندی کی تھی، اُن ہی خطوط پر حکومت ہندوستان کو بھی سوچنا چاہیے‘۔ محترمہ مفتی نے کہا کہ فائر بندی کے اعلان سے مقامی لوگوں کو راحت نصیب ہوگی۔ اُن کا کہنا تھا ’ اس وقت جو مسلح تصادم ہورہے ہیں، کریک ڈاونس ہورہے ہیںاور سرچ آپریشنز ہورہے ہیں، ان سے عام لوگوں کو بہت زیادہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ چونکہ رمضان کا مہینہ شروع ہورہا ہے اور اس کے بعد یاترا کا مہینہ شروع ہورہا ہے تو ہمیں ایسے اقدامات اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے جن کے ذریعے یہاں کے لوگوں کا اعتماد بحال ہو اور ایک اچھا ماحول بنے جس میں عید بھی اچھی ہو اور یاترا بھی خوش اسلوبی سے گذر اپنے تکمیل کو پہنچ جائے‘۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں