حکمرانوں پر ریاست کو جیل خانے میں تبدیل کرنے کا الزام سید علی گیلانی نے وادی کے طول و عرض میںگرفتاریوں کی مذمت کی

سرینگر/ چیرمین حریت’گ‘ سید علی گیلانی نے متنازعہ جموں کشمیر کی بدترین زمینی صورتحال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کس قدر ستم ظریفی کا مقام ہے کہ بھارت کے وزیر اعظم کے مجوزہ دورۂ ریاست سے قبل ہی ریاستی عوام کو فوجی حصار میں یرغمال بنایا گیا ہے۔ حریت راہنما نے انتظامیہ کے ہاتھوں قتل وغارت، ظلم وبربریت اور قیدوبند کی صعوبتوں میں مزید شدّت لائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ استقبال رمضان کی تقدیس وتحریم میں حکمرانوں کا بھی یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ کم سے کم ان ایام متبرکہ میں مظلوم لوگوں کو قدرے راحت پہنچانے کی کوشش کرتے تھے، لیکن بدقسمتی کا مقام ہے کہ بھارت کے حکمران اور ان کے مقامی گماشتوں نے ریاست جموں کشمیر کو ایک قتل گاہ کے علاوہ ایک بڑے جیل خانے میں تبدیل کرکے عام لوگوں کی زندگی کو اجیرن بنادیا ہے۔ حکمرانوں کی طرف سے آر ایس ایس اور شیو سینا کے ایجنڈے کو ریاست جموں کشمیر پر نافذ کرنے کے عملی اقدامات کو ریاست کے مسلم اکثریتی کردار اور تہذیب وتمدن کو زوال پذیر کئے جانے سے تعبیر کرتے ہوئے حریت راہنما نے ایسے حکمرانوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورہ وادی کے پیشِ نظر مذکورہ ہندو فرقہ پرست قوتوں کو خوش کرنے کے لیے ریاست کے اطراف واکناف میں نوجوانوں کو فرضی الزامات کے تحت جیل خانوں کے دروازے کھولنے سے یہاں کے حریت پسند عوام کو کسی بھی طرح سے مرعوب اور مغلوب نہیں کیا جاسکتا۔ حریت پسند عوام کی طرف سے اپنے شہدائ کے جلوس جنازہ میں غیر معمولی شرکت سے بدترین بوکھلاہٹ کی شکار ہوئی موجودہ گٹھ جوڑ والی حکومت اب اپنے آقاؤں کو خوش رکھنے کے لیے محمد رفیق اویسی اور بشیر احمد لون کو محض اس لیے بدنامِ زمانہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت صوبہ جموں کے جیلوں میں پابند سلاسل کیا گیا ہے، کیونکہ دونوں حریت پسند راہنماؤں نمے حال ہی میں شہید ہوئے یونیورسٹی آف کشمیر کے اسسٹنٹ پروفیسر محمد رفیق بٹ کے جلوس جنازہ میں شرکت کی تھی۔ اسی طرح موجودہ حکمرانوں نے منظور احمد خان ساکن بٹہ مالو جنہوں نے 12سال سے زائد عرصہ جیل خانوں میں گزارا ہے کا PSAکالعدم ہونے کے باوجود سینٹرل جیل سرینگر میں بلاوجہ مقید رکھا گیا ہے۔
، جب کہ اس کی ماں اس وقت قریب المرگ درد میں مبتلا ہے۔ حریت راہنما نے ہائی کورٹ بار ایسوسیشن کے رُکن ایڈوکیٹ شبیر بخاری کے علاوہ حکمرانوں کی طرف سے بھارت کے وزیر اعظم کے مجوزہ دورہ کے قبل ہی سوپور، بارہ مولہ، شوپیان، کولگام، اسلام آباد، بانڈی پورہ، سرینگر، بڈگام وغیرہ علاقہ جات میں نوجوانوں کی تازہ ترین گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان گرفتاریوں سے ریاستی عوام کے جذبۂ حریت میں کوئی کمی نہیں آسکتی ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں