وزیر اعظم کے دورہ ریاست پر سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات مشتبہ افراد کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھنے کیلئے سی سی ٹی وی کیمرے نصب

جموں/سرینگر/یو این آئی /وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ جموں وکشمیر کے پیش نظر ریاست میں سیکورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کئے گئے ہیں۔ مسٹر مودی 19 مئی کو دو روزہ دورے پر جموں وکشمیر آئیں گے اور مختلف ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کرنے کے علاوہ شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچر سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ﴿سکاسٹ﴾ جموں کے چھٹے جلسہ تقسیم اسناد سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کریں گے۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا ’بارڈر سیکورٹی فورس ﴿بی ایس ایف﴾ کو شبہ ہے کہ ضلع کٹھوعہ کے ہیرا نگر میں بین الاقوامی سرحد کے راستے سے 13 اور 14 مئی کی درمیانی رات کو پانچ بھاری مسلح جنگجوؤں کا ایک گروپ سرحد کے اس پار داخل ہونے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس کے پیش نظر صوبہ جموں میں سیکورٹی کو الرٹ کردیا گیا ہے۔ ہم کوئی چانس نہیں لینا چاہتے ہیں‘۔ جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس ﴿آئی جی پی﴾ ایس ڈی سنگھ جموال نے کہا ’جب کسی انتہائی اہم ترین شخصیت کو اس ریاست کا دورہ کرنا ہوتا ہے تو پاکستان کی طرف سے تخریب کاری کے منصوبے بنائے جاتے ہیں۔ وہ ایسے موقعوں کا استعمال کرکے انٹرنیشنل میڈیا کی خبروں میں آنا چاہتا ہے‘۔ انہوں نے کٹھوعہ میں بین الاقوامی سرحد پر ہوئی دراندازی پر کہا ’ہمیں اطلاعات ملی ہیں کہ دراندازی ہوئی ہے ۔ ان ہی اطلاعات کی بنائ پر علاقہ میں بڑے پیمانے کا تلاشی آپریشن جاری رکھا گیا ہے۔ ہم کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔ مختلف سیکورٹی ایجنسیاں قریبی تال میل کے ساتھ اپناکام انجام دے رہی ہیں‘۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم مودی اپنے دورے کے دوران ضلع ریاسی میں واقع ’ماتا ویشنو دیوی مندر‘ کو جانے والے 7 کلو میٹر طویل متبادل راستے کو یاتریوں کے لئے کھول دیں گے۔ وہ ایک ہزار میگاواٹ کی صلاحیت والے پکل ڈل پن بجلی پروجیکٹ اور جموں رنگ روڑ پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ وہ شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچر سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ﴿سکاسٹ﴾ جموں کے چھٹے جلسہ تقسیم اسناد سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کریں گے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر پردیپ کے شرما نے کہا ’ہماری یونیورسٹی کا چھٹا جلسہ تقسیم اسناد 19 مئی کو منعقد ہورہا ہے۔ اس میں ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی جی شرکت کریں گے۔ جلسہ تقسیم اسناد سہ پہر 3 بجکر 15 منٹ پر شروع ہوکر 4 بجکر 15 منٹ تک جاری رہے گا‘۔ مسٹر مودی وادی کشمیر میں شمالی ضلع بانڈی پورہ میں بننے والے 330 میگاواٹ کی صلاحیت والے کشن گنگا پن بجلی پروجیکٹ کا رسمی افتتاح کریں گے اور سری نگر رنگ روڑ پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ وزیر اعظم امکانی طور پر زوجیلا ٹنل پروجیکٹ کا بھی سنگ بنیاد رکھیں گے اور لیہہ میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کریں گے۔ اس ٹنل کے بننے سے موسم سرما کے چھ ماہ تک بند رہنے والی سری نگر لیہہ قومی شاہراہ سال بھر کھلی رہے گی۔ وزیر اعظم کے دورے کے حوالے سے ریاست میں بالعموم اور صوبہ جموں میں بالخصوص سیکورٹی کے فقید المثال انتظامات کئے گئے ہیں۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم مسٹر مودی کے دورے کے پیش نظر صوبہ جموں میں سیکورٹی سخت کردی گئی ہے۔
 انہوں نے بتایا کہ مشتبہ افراد کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھنے کے لئے مختلف مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں جبکہ اسپیشل پروٹکشن گروپ ﴿ایس پی جی﴾ کی ایک ٹیم اگلے ایک دو روز میں یہاں پہنچے گی۔ انہوں نے بتایا کہ دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے پاکستان کے ساتھ لگنے والی لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر بھی چوکسی بڑھا دی گئی ہے۔ بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل کے کے شرما نے کہا کہ وزیراعظم مودی کے دورہ جموں کے پیش نظر سیکورٹی فورسز کو الرٹ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ’وزیر اعظم کے دورے سے قبل دراندازی کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ہمیں پوری طرح الرٹ رہنا ہوگا‘۔ ڈی جی بی ایس ایف نے کہا کہ کٹھوعہ میں بین الاقوامی سرحد کے راستے سے ظاہری طور پر پانچ جنگجوؤں کا ایک گروپ دراندازی کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ’دراندازی کرنے والے گروپ کی تعداد پانچ بتائی جارہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بہت جلد اُن کا پتہ لگاکر انہیں ہلاک کیا جائے گا۔ وہ شاہد کسی سرنگ کے ذریعے سرحد کے اس پار داخل ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ہم کسی بھی طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں‘۔ دریں کٹھوعہ کی سرحدی علاقوں میں تلاشی آپریشن جاری رکھا گیا ہے۔ ضلع کٹھوعہ میں بین الاقوامی سرحد پر مشتبہ افراد کے ایک گروپ کی نقل وحرکت دیکھنے جانے کے بعد سیکورٹی فورسز بشمول فوج اور ریاستی پولیس کی جانب سے 14 مئی کی علی الصبح مشترکہ تلاشی آپریشن شروع کیا گیا۔ پولیس ذرائع نے یو این آئی کو بتایا ’ہیرا نگر تحصیل میں بین الاقوامی سرحد پر دو بارڈر آوٹ پوسٹس کے درمیان واقع تارنہ نالہ میں 13 اور 14 مئی کی درمیانی رات قریب بارہ بجکر 15 منٹ بی ایس ایف فوجیوں نے تین سے چار مشتبہ افراد کی نقل وحرکت دیکھی۔ مشتبہ افراد نے فوجی وردی پہن رکھی تھی‘۔ انہوں نے بتایا ’سمجھا جاتا ہے کہ جنگجوؤں کی طرف سے دراندازی کی گئی ہے‘۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ علاقے میں تلاشی مہم جاری ہے جبکہ تمام فوجیوں کو الرٹ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا ’ ہیلی کاپٹروں کو بھی کام پر لگادیا گیا ہے‘۔ ایس ایس پی کٹھوعہ شری دھر پٹیل نے یو این آئی کو بتایا ’علاقہ میں سیکورٹی فورسز کا ابھی تک مشتبہ افراد کے ساتھ کوئی آمنا سامنا نہیں ہوا۔ تلاشی آپریشن کو جاری رکھا گیا ہے‘۔ بی ایس ایف جموں کے آئی جی رام اوتار نے کہا کہ علاقہ میں تلاشی مہم جاری رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا ’مشتبہ نقل وحرکت کی اطلاع ملنے کے بعد سیکورٹی ایجنسیوں بشمول فوج اور پولیس کو الرٹ کیا گیا۔ علاقہ کو محاصرے میں لیکر تلاشی مہم چلائی جارہی ہے۔ ابھی تک مشتبہ افراد کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں ملا ہے‘۔ انہوں نے کہا ’جو بی ایس ایف اہلکار وہاں ڈیوٹی پر تعینات تھا، اس نے وہاں پر مشتبہ نقل وحرکت دیکھی۔ اس کے بعد اس نے سب کو الرٹ کیا۔ علاقہ میں تلاشی آپریشن جاری ہے‘۔ رام اوتار نے کہا کہ علاقہ میں الرٹ جاری کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا ’ہر ایک یونٹ اور فوجی کو الرٹ کیا گیا ہے‘۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کہیں جنگجو باڑ کاٹ کر دراندازی کرنے میں کامیاب تو نہیں ہوئے ہیں تو اُن کا جواب تھا ’کسی بھی جگہ باڑ کاٹی نہیں گئی ہے‘۔ اس دوران کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے وزیر اعظم مودی کے دورہ ریاست کے خلاف 19 مئی کو لال چوک چلو کی کال دے دی ہے۔ گذشتہ شام یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ’متحدہ مزاحمتی قیادت مسٹر گیلانی، میرواعظ اور یاسین ملک نے حیدرپورہ میں منعقدہ ایک غیر معمولی نشست میں ریاست جموں کشمیر کی خون آشام سیاسی صورتحال پر تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے حریت پسند عوام کے نام ایک دردمندانہ اپیل میں 19مئی بروز سنیچر ریاست کے تاریخی لالچوک کی طرف پیش قدمی کرکے اس روز بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ ریاست کے خلاف اپنا پُرامن احتجاج درج کریں‘۔ بیان میں کہا گیا کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے احتجاجی مظاہرہ کرنے کی تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس روز چونکہ وزیر اعظم ریاست کا دورہ کرکے بیرونی دنیا کے ساتھ ساتھ بھارت کے عوام کو بھی یہ تاثر دینے کی ناکام کوشش کریں گے کہ ریاست جموں کشمیر کے لوگ بھارت کے ساتھ خوشی خوشی اپنی زندگی گزاررہے ہیں، جبکہ زمینی صورتحال جہنم زار بنی ہوئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ’فوج نے پوری ریاست بالخصوص ضلع شوپیان، اننت ناگ، کولگام اور پلوامہ کے مضافاتی علاقہ جات کو میدان جنگ میں تبدیل کردیا ہے‘۔ علیحدگی پسند قیادت نے اس روز تمام کاروباری ادارے اور دفاتر کو مکمل طور بند رکھنے کی اپیل کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ لالچوک کا رخ کرنے کے دوران نوجوان رضاکارانہ خدمات انجام دیکر نظم وضبط کو ہر حال میں بنائے رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ یو این آئی

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں