میڈیکل انسٹی چیوٹ کے ڈاکٹروں کی ہڑتال

ریاست کے سب سے بڑے اور اہم طبی ادارے صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کے ڈاکٹروں کی ہڑتال سے اس ادارے کا وقار خاک میں مل گیا ہے کیونکہ یہ ادارہ پورے شمالی ہندوستان میںغیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے لیکن آج کل اس ادارے کے جونیر ریذیڈنٹ ڈاکٹر اور پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں جس کی بنا پر نہ صرف انڈور بلکہ آوٹ ڈور مریضوں کو بھی شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔ سب سے زیادہ مشکلات ان مریضوں کو درپیش آرہی ہیں جن کو کئی کئی ماہ قبل اوپریشن یا ٹیسٹوں کیلئے ڈیٹ دئے گئے تھے جب وہ دور دراز علاقوں سے یہاں پہنچ جاتے ہیں تو ان کو کس قدر مایوسی ہوتی ہوگی جب ان کو بے نیل و مرام واپس لوٹا یا دیا جاتا ہے۔ اب وہ کس طرح نئی ڈیٹ حاصل کر سکتے ہیں یہ تب ہی ممکن ہے جب ڈاکٹروں کی ہڑتال ختم ہوگی ڈاکٹروں کی ہڑتال کب ختم ہوگی اس بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے۔ ڈاکٹر کیوں ہڑتال پر گئے ہیں یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب صرف متعلقہ انتظامیہ ہی دے سکتی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کی ہڑتال سے کتنی زندگیاں دائو پر لگ گئی ہیں اگر اس کا ذرہ بھر بھی احساس ان ڈاکٹروں کو ہوتا تو وہ کبھی ہڑتال نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے مفادات کو اپنے فرایض کے آڑے نہیں دیتے اور مایوس اور پریشان حال مریضوں کا انہماک سے علاج کرتے یا ان کے اوپریشن وغیرہ کرکے ان کو صحت یاب ہونے میں مدد دیتے۔ لیکن ان ڈاکٹروں نے ہڑتال کرکے لوگوں کو بے حد مشکلات میں مبتلا کردیا جس کا اندازہ خود بھی ان کو ہوگا۔ اگرچہ یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ہڑتالی ڈاکٹروں کے مسایل ہونگے ان کے جائیز مطالبات ہونگے جن کو حل کرنے کی ضرورت ہے لیکن دوسری جانب ان کو ہڑتال کا راستہ ترک کرکے افہام و تفہیم سے معاملات کو حل کروانا چاہئے تھا اور مخاصمت سے اجتنا ب کرنا چاہئے۔ لیکن ان ڈاکٹروں نے احتجاج کی راہ اپنا کر ہزاروں مریضوں اور ان کے افراد خانہ کو مصائیب و مشکلات میں ڈالدیا ہے۔ احتجاج کا یہ بھی طریقہ ہوسکتا تھا کہ ڈاکٹر اپنے بازوں پر کالے بلے لگا کر اپنا کام کاج کرتے۔ یعنی احتجاج بھی اور اپنے فرایض کی انجام دہی بھی۔ یا اگر ڈاکٹر حضرات دن کو ہڑتال پررہتے تو چار بجے کے بعد وہ مریضوں کا ملاحظہ بھی کرسکتے تھے اور اوپریشن وغیرہ بھی کرسکتے تھے لیکن ایسا کچھ نہیں۔ تعجب کا مقام ہے کہ ڈاکٹروں نے دوسرے محکموں کے ملازمین کی طرح کام چھوڑ ہڑتال کرلی ۔ جس سے ہیلتھ سیکٹر بری طرح متاثر ہوگیا۔ اسلئے ریاستی وزیر اعلیٰ اور صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کے سربراہ کو اس معاملے میں فوری اقدامات اٹھانے چاہئے تاکہ مریضوں کو اور زیادہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ ایک ایسا طبی ادارہ ہے جہاں نہ صرف وادی کے کونے کونے سے مریض یہاں آتے ہیں بلکہ ڈوڈہ، بھدرواہ، پونچھ اور راجوری کے علاوہ گریز ، تلیل اور ٹنگڈار سے مریض آتے ہیں لیکن جب ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں تو ان کو کس قدر پریشانی اٹھانا پڑی ہوگی۔ وہ لوگ اتنی دور سے یہ امید لے کر آتے ہیں کہ وہ شفا یاب ہوکر واپس اپنے گھروں کو لوٹ جاینگے لیکن ان کی امیدوں پر پانی پھر جاتا ہے جب ان کو بغیر علاج واپس لوٹنا پڑتا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں